

کاشف عباسی , September 13,2026
اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 13 ستمبر 2026ء
حکومتِ پاکستان نے بڑھتی ہوئی مہنگائی کے پیشِ نظر کم آمدن والے شہریوں، موٹرسائیکل مالکان، رکشہ ڈرائیوروں اور چھوٹی گاڑیوں کے استعمال کنندگان کے لیے پیٹرولیم مصنوعات پر 100 روپے فی لیٹر کے تاریخی اور بھاری مالی ریلیف پیکیج کا باضابطہ اعلان کیا ہے۔
حکومتی ترجمان اور اقتصادی رابطہ کمیٹی کے حکام کے مطابق اس ‘ٹارگیٹڈ پیٹرول ریلیف پیکیج’ کا بنیادی مقصد ملک میں عام شہریوں، دیہاڑی داروں اور متوسط طبقے پر بڑھتے ہوئے معاشی بوجھ کو کم کرنا ہے۔ اس منصوبے کے تحت موٹرسائیکل سواروں، تھری ویلر رکشوں اور 800 سی سی تک کی چھوٹی گاڑیوں کے مالکان کو فی لیٹر پیٹرول کی موجودہ قیمت پر 100 روپے کی براہِ راست رعایت دی جائے گی۔
اس ریلیف پیکیج کے طریقہ کار کی وضاحت کرتے ہوئے مالیاتی حکام نے بتایا کہ اس رعایت کو شفاف بنانے اور امیر طبقے کے ناجائز فائدے کو روکنے کے لیے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (BISP) کے ڈیٹا بیس اور نادرا کے ڈیجیٹل سسٹم کو یکجا کیا گیا ہے۔ ریلیف حاصل کرنے کے لیے موٹرسائیکل اور رکشہ مالکان کو اپنے رجسٹرڈ موبائل نمبر سے ایک مخصوص ایس ایم ایس یا کیو آر کوڈ کے ذریعے پیٹرول پمپ پر سبسڈی کی سہولت فراہم کی جائے گی۔
معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ اقدام ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل اتار چڑھاؤ اور ملکی سطح پر افراطِ زر کے باعث عام شہری کی قوتِ خرید شدید متاثر ہوئی ہے۔ تاہم، ناقدین اور معاشی ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اتنی بڑی رعایت فراہم کرنے سے قومی خزانے پر ماہانہ اربوں روپے کا اضافی مالیاتی بوجھ پڑے گا، جس کو سنبھالنا حکومت کے لیے ایک بڑا چیلنج ہو گا۔
حکومت کا مؤقف ہے کہ اس ریلیف پروگرام کے لیے فنڈز کی فراہمی بڑی گاڑیوں اور پرتعیش ایندھن کے استعمال کنندگان پر معمولی لیوی یا کراس سبسڈی کے ذریعے پوری کی جائے گی تاکہ عام آدمی کو بلاواسطہ ریلیف فراہم کیا جا سکے اور عام ٹرانسپورٹ کے کرائیوں میں بھی کمی لائی جا سکے۔
نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:
یہ آرٹیکل حکومتِ پاکستان کی جانب سے موٹرسائیکلوں اور چھوٹی گاڑیوں کے لیے پیٹرول پر 100 روپے فی لیٹر کی مجوزہ کراس سبسڈی کے اعلان سے متعلق ابتدائی تفصیلات کی روشنی میں تیار کیا گیا ہے۔ پیکیج کی حتمی تاریخِ نفاذ اور پمپ لیول پر عملدرآمد کے انتظامی طریقہ کار کے لیے وزارتی نوٹیفکیشن کا انتظار ہے۔
ماخذ: حکومتِ پاکستان کی پریس ریلیز، وزارتِ خزانہ پاکستان، قومی ذرائع ابلاغ کی ابتدائی اطلاعات