

کاشف عباسی ,june 25,2026
لاہور/اسلام آباد (معاشی امور رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 25 جون 2026ء
مہنگائی کے مارے عوام کے لیے ایک بڑی اور مقتدر ریلیف کی خبر سامنے آئی ہے، جہاں ملک میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید بھاری کمی کی بازگشت سنائی دے رہی ہے۔ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے بین الاقوامی مارکیٹ کے رجحانات کو مدِ نظر رکھتے ہوئے پٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں سے متعلق مقتدر سمری مکمل طور پر تیار کر لی ہے۔ نجی ٹی وی چینل کی مقتدر رپورٹ کے مطابق، نئی سمری میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں 20 روپے سے لے کر 50 روپے فی لیٹر تک کی نمایاں کمی کا قوی امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ اس عوامی ریلیف کا حتمی فیصلہ وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کی منظوری سے مشروط ہے، جبکہ نئی مقتدر قیمتوں کا باقاعدہ اعلان جمعہ کے روز متوقع ہے۔
دوسری جانب، وزیرِ اعظم کے مقتدر سیاسی مشیر اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما رانا ثناء اللہ نے بھی پٹرولیم مصنوعات کے مزید سستا ہونے کا واضح عندیہ دیا ہے۔ ایک نجی ٹی وی پروگرام میں خصوصی گفتگو کرتے ہوئے رانا ثناء اللہ نے انکشاف کیا کہ وزیرِ اعظم شہباز شریف نے پٹرولیم قیمتوں کے حساس معاملے پر ایک اعلیٰ سطحی خصوصی ٹیم تشکیل دے دی ہے، جس کا مقصد قیمتوں کو مرحلہ وار مزید نیچے لانا ہے۔ انہوں نے آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو سخت مقتدر وارننگ جاری کرتے ہوئے کہا کہ اگر کسی بھی کمپنی نے پٹرولیم مصنوعات کا کوئی مصنوعی بحران پیدا کرنے یا بلیک میلنگ کی کوشش کی، تو حکومت ان سے انتہائی سختی سے نمٹے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ کاروبار میں نفع و نقصان ساتھ ساتھ چلتے ہیں، کمپنیوں کو ماضی میں جتنا مقتدر فائدہ ہوا، اب انہیں قیمتیں کم کر کے وہ فائدہ ہر صورت عوام کو منتقل کرنا ہوگا۔
وفاقی مشیر رانا ثناء اللہ نے ماضی کے بحران کی تزویراتی تفصیلات بتاتے ہوئے واضح کیا کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان حالیہ جنگی کشیدگی کی وجہ سے عالمی مارکیٹ میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں اچانک ملکی کنٹرول سے باہر ہو گئی تھیں۔ اس ہنگامی اور بحرانی کیفیت سے نمٹنے کے لیے حکومت نے عارضی طور پر ہفتہ وار بنیادوں پر ہر جمعے کو پٹرولیم قیمتوں کے تزویراتی تعین کا مقتدر فیصلہ کیا تھا، تاکہ ملکی اسٹاک کو برقرار رکھا جا سکے۔ اس دوران ملکی ضرورت کے پیشِ نظر زائد قیمتوں پر بھی تیل امپورٹ کرنا پڑا، جس پر بعض حلقوں کی جانب سے یہ منفی پروپیگنڈا کیا گیا کہ آئل کمپنیوں نے اربوں روپے کا غیر قانونی منافع کما لیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ سارا نظام ایک مقتدر سسٹم کے تحت چلتا ہے، اگر کمپنیوں پر بہت زیادہ مالی بوجھ پڑ رہا ہوا تو حکومت توازن برقرار رکھنے کے لیے ان کا بھی خیال رکھے گی، تاہم پہلی ترجیح صرف اور صرف عام عوام کو براہِ راست ریلیف پہنچانا ہے۔