پاکستان میں ریبیز کے خاتمے کے لیے بڑا فیصلہ: وفاقی وزیر صحت نے قومی فریم ورک کی تیاری کی اصولی منظوری دے دی

کاشف عباسی , JULY 13,026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 13 جولائی 2026ء

وفاقی وزیر برائے قومی صحت مصطفیٰ کمال سے دی انڈس ہاسپٹل اینڈ ہیلتھ نیٹ ورک کے چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) ڈاکٹر عبدالباری خان نے ایک اعلیٰ سطحی وفد کے ہمراہ اہم ملاقات کی ہے۔ اس مقتدر ملاقات کے دوران پاکستان میں ریبیز (الکَلَب/باؤلے کتے کے کاٹنے کی بیماری) کی روک تھام اور اس کے مؤثر کنٹرول کے لیے قومی سطح پر فوری و تزویراتی اقدامات اٹھانے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ انڈس ہاسپٹل کے وفد نے وفاقی وزیر کو ملک میں ریبیز کی موجودہ تشویشناک صورتحال پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ پاکستان میں اس وقت ریبیز کی نگرانی کا کوئی مؤثر قومی نظام موجود نہیں ہے، تاہم دستیاب اندازوں کے مطابق ملک میں ہر سال تقریباً 5 ہزار افراد ریبیز کے باعث اپنی جان کی بازی ہار جاتے ہیں جبکہ لاکھوں افراد سالانہ کتوں کے کاٹنے کا شکار ہوتے ہیں، جن میں بچوں، دیہی علاقوں کے مکینوں اور شہری مضافات کی محروم آبادی کا تناسب سب سے زیادہ ہے۔

وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے پاکستان میں ریبیز کے بڑھتے ہوئے اس بوجھ پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے “قومی ریبیز پریوینشن اینڈ کنٹرول فریم ورک” کی تیاری کی اصولی منظوری دے دی ہے۔ انہوں نے مقتدر حکام کو ہدایت کی کہ اس مقصد کے لیے ملک میں جلد از جلد ایک “نیشنل ٹیکنیکل ورکنگ ایڈوائزری گروپ” تشکیل دیا جائے جو اس قومی فریم ورک کو مرتب کرنے کی قیادت کرے گا۔ وزیر صحت نے واضح کیا کہ ریبیز ایک مکمل طور پر قابلِ تدارک بیماری ہے اور عوام کو اس کے خطرات سے محفوظ رکھنے کے لیے ایک جامع ملک گیر آگاہی مہم کا آغاز کیا جائے گا۔ انہوں نے بالخصوص وزیراعلیٰ سندھ کی قیادت میں جاری صوبہ بھر کی انسدادِ ریبیز مہم کو سراہا اور اس سلسلے میں دی انڈس ہاسپٹل اینڈ ہیلتھ نیٹ ورک کی تکنیکی معاونت کو قابلِ قدر قرار دیا۔ مصطفیٰ کمال نے عزم کا اظہار کیا کہ وفاقی و صوبائی حکومتیں اور تمام تکنیکی شراکت دار باہمی تعاون سے پاکستان میں ریبیز سے ہونے والی ان اموات کے خاتمے کے لیے مؤثر تزویراتی اقدامات کریں گے۔

اس موقر موقع پر ڈاکٹر عبدالباری خان نے وفاقی وزیر کو (2024)” کی دستاویز پیش کی جو انڈس ہاسپٹل نیٹ ورک کی تکنیکی معاونت سے تیار کی گئی ہے۔ ملاقات کے اختتام پر وفاقی وزیر صحت نے نامور ماہرِ صحت مرحومہ پروفیسر نسیم صلاح الدین کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے ان کی وفات پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور ان کے اہلِ خانہ سے تعزیت کی۔ انہوں نے کہا کہ پروفیسر نسیم صلاح الدین کی ریبیز کی روک تھام اور پاکستان میں عوامی صحت (پبلک ہیلتھ) کے فروغ کے لیے انجام دی جانے والی گراں قدر اور مقتدر خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔