وزیراعظم کے ’ڈیجیٹل پاکستان وژن‘ کے تحت بڑا انقلابی قدم، شادی رجسٹریشن کا روایتی نظام مکمل طور پر ڈیجیٹل ماڈل میں تبدیل، نادرا اور ڈی سی آفس کا ریکارڈ منسلک، ایک ہی چھت تلے تمام سہولیات مفت دستیاب

منصور احمد june 10,2026

اسلام آباد(خصوصی رپورٹ/نیوز اینڈ نیوز) — 10 جون 2026ء

حکومتِ پاکستان نے ملک کو جدید ٹیکنالوجی سے ہمکنار کرنے اور عوامی سہولت کے لیے ایک اور سنگِ میل عبور کر لیا ہے، جہاں وزیراعظم کے ڈیجیٹل پاکستان وژن کے تحت شادی رجسٹریشن کے دہائیوں پرانے روایتی و پیچیدہ نظام کو مستقل طور پر ایک جدید ترین ڈیجیٹل سروس ماڈل میں تبدیل کر دیا گیا ہے، اس انقلابی اقدام کا بنیادی مقصد شہریوں کو خوار کیے بغیر انتہائی تیز رفتار، آسان اور ایک ہی جگہ پر تمام قانونی سہولیات فراہم کرنا ہے، وفاقی دارالحکومت سے حاصل ہونے والی تفصیلات کے مطابق نیشنل انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ (NITB) نے شادی رجسٹریشن کے عمل کو عصرِ حاضر کے تقاضوں کے مطابق جدید خطوط پر استوار کرتے ہوئے ایک نیا اور اچھوتا ماڈل متعارف کرا دیا ہے، جس کے تحت اب نکاح خوانی سے لے کر باقاعدہ میرج رجسٹریشن سرٹیفکیٹ کے حصول تک کی تمام تر قانونی خدمات ایک ہی مرکز پر یکجا کر دی گئی ہیں، اس سلسلے میں اسلام آباد کے معروف ”پاکستان آسان خدمت مرکز“ میں باقاعدہ طور پر ایک سٹیٹ آف دی آرٹ اور بالکل مفت ”میرج رجسٹریشن لاؤنج“ قائم کر دیا گیا ہے، جہاں شہری اب مختلف سرکاری دفاتر اور کونسلوں کے چکر کاٹے بغیر چند ہی منٹوں میں اپنی رجسٹریشن کا عمل آسانی سے مکمل کر سکیں گے۔

ایک ہی چھت تلے دستیاب ہونے والی سہولیات: نئے اور خودکار نظام کے تحت دارالحکومت کے شہریوں کو اب درج ذیل اہم ترین قانونی سہولیات ایک ہی جگہ پر فراہم کی جا رہی ہیں:

نکاح رجسٹرار (سرکاری طور پر تصدیق شدہ) کی فوری سہولت۔
نادرا کے مرکزی ڈیٹابیس سے ریکارڈ کی فوری اور خودکار اپڈیٹ۔
ڈپٹی کمشنر (ڈی سی) آفس سے متعلقہ تمام ضروری قانونی کاغذی کارروائی۔
شادی کی مکمل رجسٹریشن کا پیپر لیس اور سو فیصد ڈیجیٹل پراسیس۔

وزارتِ داخلہ اور آئی ٹی حکام کے مطابق نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی اور دیگر تمام متعلقہ ضلعی اداروں کے ساتھ درخواست گزار کا ڈیٹا کمپیوٹرائزڈ لنک کے ذریعے فوری طور پر منسلک کر دیا جائے گا، جس کے بعد پرانے کاغذی فارمز، فائلوں کے کلچر، رشوت ستانی اور مہینوں کی تاخیر میں واضح طور پر بڑی کمی واقع ہوگی، اس اہم پیش رفت پر نیشنل انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ (این آئی ٹی بی) کے اعلیٰ حکام کا کہنا ہے کہ یہ تاریخی اقدام پاکستان میں ڈیجیٹل گورننس کے فروغ اور عوام کو کم لاگت، باوقار اور تیز رفتار خدمات ان کی دہلیز پر فراہم کرنے کے حکومتی عزم کا آئینہ دار ہے، حکام نے واضح کیا کہ: ۱۔ اس اسمارٹ سسٹم کے بعد اب شہریوں کو مختلف دور دراز دفاتر کے ذلت آمیز چکر لگانے سے ہمیشہ کے لیے نجات مل جائے گی۔ ۲۔ شادی کے تمام قانونی اور شرعی مراحل اب ایک ہی چھت کے نیچے ایک ہی دن میں مکمل ہوں گے۔ ۳۔ پورے نظام کو ای-گورننس کے ذریعے انتہائی شفاف اور تیز ترین بنا دیا گیا ہے تاکہ انسانی مداخلت اور غلطی کا امکان ختم ہو سکے۔

منصوبے کا اصل مقصد: آئی ٹی ماہرین اور سماجی حلقوں نے حکومت کے اس اقدام کو خوب سراہا ہے، حکام کے مطابق یہ منصوبہ بالخصوص غریب اور کم آمدن والے خاندانوں کے لیے ایک بہت بڑی اور سستی ترین سہولت ثابت ہوگا، تاکہ نکاح اور سرکاری میرج سرٹیفکیٹ کی رجسٹریشن کے عمل میں غریب عوام کو ایجنٹ مافیا سے بچا کر مکمل آسانیاں اور شفافیت یقینی بنائی جا سکے۔