مالیاتی دباؤ اور سیاسی ترجیحات، قومی اقتصادی کونسل کا اہم ترین اجلاس آج طلب، ۴۷ کھرب روپے سے زائد کے ملکی ترقیاتی بجٹ کی تشکیلِ نو پر غور، ترقیاتی منصوبوں میں بڑی کٹوتیوں کا امکان

کاشف عباسی ,june 08,2026

اسلام آباد(نیوز اینڈ نیوز) — 08 جون 2026ء

ملک کے بدلتے ہوئے سیاسی و مالی حقائق کے پیشِ نظر ترقیاتی بجٹ کی تشکیلِ نو کے لیے قومی اقتصادی کونسل (این ای سی) کا ایک انتہائی اہم اور اعلیٰ سطح کا اجلاس آج پیر کے روز وزیراعظم پاکستان کی زیرِ صدارت منعقد ہو رہا ہے، جس میں آئندہ مالی سال 2026-27 کے لیے وفاقی اور صوبائی ترقیاتی منصوبوں پر مشتمل تقریباً ۴۷ کھرب ۱۵ ارب (۴.۷۱۵ کھرب) روپے کے مجموعی ترقیاتی پروگرام کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا، وفاقی دارالحکومت کے باوثوق ذرائع کے مطابق شدید مالیاتی دباؤ، سیاسی ترجیحات اور مختلف سرکاری اداروں کی ضروریات کو سامنے رکھتے ہوئے وفاقی اور صوبائی ترقیاتی منصوبوں کے فنڈز میں بڑے پیمانے پر ردوبدل کیے جانے کا قوی امکان ہے، واضح رہے کہ قومی اقتصادی کونسل ملک کا اعلیٰ ترین اقتصادی فیصلہ ساز فورم ہے جو وزیراعظم، چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ اور وفاقی وزراء پر مشتمل ہوتا ہے، ذرائع کے مطابق آج ہونے والے اس اہم اجلاس کے چار نکاتی ایجنڈے میں سالانہ منصوبہ 2025-26 کا تفصیلی جائزہ، سالانہ منصوبہ 2026-27 کی حتمی منظوری اور چاروں صوبوں کے اہم سماجی و اقتصادی اشاریوں پر بریفنگ شامل کی گئی ہے، اجلاس کے دوران پبلک سیکٹر انویسٹمنٹ (پی ایس آئی) پروگرام 2025-26 کا جائزہ لیا جائے گا اور آئندہ مالی سال کے لیے مجوزہ سرمایہ کاری منصوبوں پر بھی تفصیلی غور کیا جائے گا، اس کے علاوہ رواں مالی سال کے پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) میں اب تک کی گئی مختلف ترامیم، نئے اضافوں اور تقریباً ۱۷۵ ارب روپے کی بڑی کٹوتی کی باقاعدہ توثیق کرنا بھی کونسل کے ایجنڈے کا ایک اہم حصہ ہے، وفاقی ترقیاتی فنڈز کے حوالے سے ذرائع کا کہنا ہے کہ وفاقی پی ایس ڈی پی کا کل حجم ۱.۳ کھرب روپے سے تجاوز کر سکتا ہے، جبکہ دوسری جانب ملک میں مالی وسائل کی محدود دستیابی اور تنگی کے باعث صوبائی سالانہ ترقیاتی پروگراموں (اے ڈی پیز) کے حجم میں نمایاں کمی کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے، اجلاس میں ملک بھر میں جاری بڑے ترقیاتی منصوبوں کی اب تک کی پیش رفت کا بھی باریک بینی سے جائزہ لیا جائے گا، کیونکہ اس وقت ملک کے متعدد میگا منصوبے لاگت اور تکمیل کی مدت میں غیر معمولی اور نمایاں اضافے کا شکار ہو چکے ہیں، حکام کے مطابق ان بڑے منصوبوں کی بروقت تکمیل کو یقینی بنانے اور روزبروز بڑھتے ہوئے اضافی اخراجات پر قابو پانے کے لیے ایک نئی اور سخت حکمتِ عملی مرتب کرنے پر غور کیا جائے گا، معاشی ماہرین کے مطابق قومی اقتصادی کونسل میں آج کیے جانے والے یہ بڑے فیصلے آئندہ پیش کیے جانے والے وفاقی بجٹ 2026-27 کی اصل سمت کا تعین کرنے میں سب سے اہم اور کلیدی کردار ادا کریں گے، خاص طور پر ایک ایسے نازک وقت میں جب حکومت کو ملکی ترقیاتی اخراجات، سخت مالیاتی نظم و ضبط اور اپنے اتحادیوں کے سیاسی تقاضوں کے درمیان ایک مشکل توازن قائم کرنے کا بڑا چیلنج درپیش ہے۔