

منصور احمد june 03,2026
کابل (نیوز اینڈ نیوز) — 03 جون 2026ء
بین الاقوامی میڈیا کی تازہ ترین رپورٹس کے مطابق، افغانستان کے دور دراز اور تزویراتی طور پر اہم صوبہ بدخشاں میں امارتِ اسلامیہ کی مرکزی قیادت اور بعض بااثر مقامی عسکری رہنماؤں (کمانڈروں) کے درمیان داخلی اختلافات انتہائی شدت اختیار کر گئے ہیں۔ اس ابھرتی ہوئی سنگین صورتحال پر مکمل انتظامی کنٹرول برقرار رکھنے اور داخلی انتشار کو روکنے کے لیے طالبان کے امیرِ اعلیٰ ملا ہیبت اللہ اخوندزادہ نے ایک نیا اور ہنگامی حکم نامہ جاری کر دیا ہے۔
معدنی وسائل کی تقسیم اور عوامی احتجاج کے بعد وفد کا قیام ذرائع کے مطابق، صوبہ بدخشاں میں قیمتی معدنی وسائل کی مالیت، مقامی انتظامی امور پر گرفت اور حالیہ عوامی احتجاج کے تناظر میں مرکزی حکومت اور مقامی رہنماؤں کے مابین شدید کشیدگی پیدا ہوئی تھی۔ اس صورتحال کے بعد، ناراض مقامی عسکری کمانڈروں اور دیگر اعلیٰ حکام کے مالی و عسکری اثاثوں کی سخت جانچ پڑتال (اسکروٹنی) کے لیے وائٹ ہاؤس نما مرکزی دارالحکومت کی جانب سے ایک اعلیٰ سطحی تحقیقاتی وفد مقرر کر دیا گیا ہے جو معاملے کی بیخ کنی کرے گا۔
مرکزی فیصلوں کی پابندی اور حکم عدولی پر سخت ترین کارروائی کا انتباہ باوثوق ذرائع کا کہنا ہے کہ امیرِ اعلیٰ کے نئے حکم نامے میں تمام مقامی کمانڈروں اور انتظامی مقتدرہ کو سختی سے ہدایت کی گئی ہے کہ وہ کابل کی مرکزی قیادت کے تمام فیصلوں پر بلا چوں چراں عملدرآمد کو یقینی بنائیں۔ حکم نامے میں واضح کیا گیا ہے کہ کسی بھی قسم کی حکم عدولی، خود مختار فیصلے یا سرکشی کی صورت میں متعلقہ افراد کے خلاف سخت ترین تادیبی اور عسکری کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ مزید برآں، بدخشاں میں امن و امان کی نازک صورتحال کو سنبھالنے کے لیے قندھار اور کابل سے اضافی سکیورٹی اہلکار اور عسکری دستے بھی روانہ کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔
مقامی عہدیداروں کی حراست اور غیریقینی صورتحال کچھ غیر ملکی رپورٹس میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ بدخشاں کے بعض اہم مقامی طالبان عہدیداروں اور عسکری رہنماؤں کو مرکزی احکامات کی خلاف ورزی پر باقاعدہ حراست میں لے کر نامعلوم مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے، تاہم زمینی حالات اور آزاد ذرائع سے ان دعوؤں کی مکمل اور قطعی تصدیق ہونا ابھی باقی ہے۔
انتظامی ڈھانچے کے اختلافات پر ماہرین کی آراء سیاسی، علاقائی اور افغان امور کے بین الاقوامی ماہرین کے مطابق، بدخشاں کی موجودہ بگڑتی ہوئی صورتحال طالبان حکومت کے اندرونی انتظامی، سیاسی اور مقامی سطح پر پائے جانے والے گہرے اختلافات کی واضح عکاسی کرتی ہے۔ دوسری جانب، عالمی برادری اور علاقائی ممالک کی جانب سے طالبان حکومت کے اس معاملے پر باقاعدہ سرکاری موقف اور آئندہ کے اقدامات پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔
یہ اہم ترین پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مذکورہ صوبے میں گزشتہ کئی روز سے عوامی سطح پر حکومتی پالیسیوں کے خلاف شدید احتجاج اور مقامی آبادی کی جانب سے عسکری ردعمل کی خبریں بھی مسلسل گردش کر رہی ہیں۔