عالمی یومِ پارلیمنٹیرین: پارلیمان جمہوری ملک کا بنیادی ستون اور عوامی امنگوں کی حقیقی ترجمان ہے، سپیکر سردار ایاز صادق

منصور احمد june 29,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 29 جون 2026ء

سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے واضح کیا ہے کہ پارلیمان کسی بھی جمہوری ریاست کا بنیادی ستون اور عوامی امنگوں کی حقیقی ترجمان ہوتی ہے، جبکہ اس کی بالادستی ہی آئینی نظام کے استحکام، قانون کی حکمرانی اور ریاستی اداروں پر عوامی اعتماد کی واحد ضامن ہے۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار “عالمی یومِ پارلیمنٹیرین” کے موقع پر جاری اپنے ایک مقتدر بیان میں کیا، جو اقوامِ متحدہ کے زیرِ اہتمام ہر سال تیس جون کو دنیا بھر میں منایا جاتا ہے۔ سپیکر نے زور دیا کہ ایک فعال، شفاف اور مؤثر پارلیمان ہی ملک کو درپیش عوامی مسائل کے پائیدار حل اور طویل المدتی قومی ترقی کی مضبوط بنیاد فراہم کر سکتی ہے۔

سردار ایاز صادق نے کہا کہ پاکستان کی قومی اسمبلی جمہوری اقدار کے تحفظ، آئینی بالادستی، شفاف ترین قانون سازی اور مؤثر احتساب کے فروغ کے لیے اپنی تمام تر آئینی ذمہ داریوں کو تندہی سے انجام دے رہی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ قانون سازی کا بنیادی مقصد محض نئے قوانین کی منظوری دینا نہیں بلکہ ایک ایسا جامع، پائیدار اور عوام دوست قانونی فریم ورک تشکیل دینا ہے جو عام آدمی کی فلاح و بہبود، سماجی انصاف کی فراہمی، معاشی ترقی اور قومی یکجہتی کو فروغ دے سکے۔ انہوں نے بتایا کہ قومی اسمبلی کے اندر قانون سازی کے اس پورے عمل کو مزید نتیجہ خیز بنانے کے لیے پارلیمانی کمیٹیوں کے تزویراتی کردار کو پہلے سے زیادہ مضبوط کیا جا رہا ہے، جبکہ بدلتے ہوئے عالمی تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے جدید ٹیکنالوجی، تحقیق، ڈیجیٹل نظام اور پارلیمانی اراکین کی استعدادِ کار میں اضافے کے ذریعے قانون سازی کے معیار کو بہتر بنانا ہماری اولین ترجیح ہے۔

سپیکر قومی اسمبلی نے سیاسی و جمہوری نظام کی مضبوطی کے لیے عوام اور مقننہ کے مابین مؤثر ترین رابطے اور عوامی شمولیت کو ناگزیر قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وقت کے تقاضوں سے ہم آہنگ قانون سازی کے ساتھ ساتھ پارلیمان کی یہ بھی بنیادی ذمہ داری ہے کہ وہ انتظامیہ کی مؤثر جواب طلبی کو یقینی بنائے اور اپنے حلقہ ہائے انتخاب کی بھرپور اور برحق نمائندگی کا فریضہ سر انجام دے۔ انہوں نے ملک کی تمام سیاسی قوتوں پر مقتدر زور دیا کہ وہ اعلیٰ قومی مفاد، جمہوری تسلسل اور پارلیمان کی مضبوطی کے لیے اپنے تمام تر باہمی اختلافات کو پسِ پشت ڈال کر برداشت، باہمی تعاون اور مثبت سیاسی مکالمے کے کلچر کو فروغ دیں، کیونکہ ایک مضبوط پارلیمان ہی مستحکم اور خوشحال پاکستان کی واحد ضمانت ہے۔ انہوں نے عالمی سطح پر ملکی کردار کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی قومی اسمبلی “بین الپارلیمانی یونین” (آئی پی یو) کی ایک سرگرم رکن کی حیثیت سے جمہوریت، انسانی حقوق، قانون کی حکمرانی، اور خواتین و نوجوانوں کی سیاسی عمل میں شمولیت کے لیے مؤثر پارلیمانی سفارت کاری کا استعمال کر رہی ہے اور عالمی امن و پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول کے لیے بین الاقوامی فورمز کے ساتھ اشتراکِ عمل جاری رکھا جائے گا۔