پنجاب بار کونسل کی تاریخ کی سب سے بڑی کارروائی؛ لا ڈگریوں کی تصدیق نہ کرانے والے 1133 وکلا کے لائسنس معطل

منصور احمد, JULY 19,2026

لاہور (نیوز اینڈ نیوز) — 19 جولائی 2026ء

پنجاب بار کونسل نے لا ڈگریوں کی تصدیق کے معاملے پر قانون کی بالادستی کو برقرار رکھتے ہوئے اپنی تاریخ کی سب سے بڑی اور مقتدر کارروائی عمل میں لائی ہے۔ ہائر ایجوکیشن کمیشن سے اپنی تعلیمی ڈگریوں کی تصدیق نہ کرانے والے 1133 وکلا کے لائسنس فوری طور پر معطل کر دیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ شاہ عبداللطیف بھٹائی یونیورسٹی خیرپور سے ڈگریاں حاصل کرنے والے مزید 62 وکلا کے لائسنس بھی معطلی کی زد میں آئے ہیں۔ یہ مقتدر کارروائی چیئرمین ایگزیکٹو کمیٹی پنجاب بار کونسل فخر حیات اعوان کی باضابطہ منظوری سے کی گئی ہے۔

پنجاب بار کونسل کے سیکرٹری کی جانب سے جاری کردہ تادیبی اعلامیے کے مطابق، جنرل ہاؤس کے فیصلوں کی روشنی میں مختلف جامعات سے قانون کی ڈگری حاصل کرنے والے وکلا کو ایچ ای سی سے تصدیق شدہ دستاویزات جمع کرانے کے لیے نوٹسز جاری کیے گئے تھے اور انہیں 15 جولائی 2026ء تک کی آخری مہلت بھی دی گئی تھی۔ تاہم، مقررہ مدت گزرنے کے باوجود 1133 وکلا مطلوبہ تصدیق فراہم کرنے میں ناکام رہے، جس کے بعد ان کے لائسنس معطل کر دیے گئے۔ اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ صرف 29 وکلا نے مقررہ وقت کے اندر اپنی ایچ ای سی سے تصدیق شدہ ڈگریاں جمع کروائیں، جبکہ 32 دیگر کیسز لائسنس کی بحالی کے لیے ایگزیکٹو کمیٹی کو بھجوا دیے گئے ہیں۔

پنجاب بار کونسل نے شاہ عبداللطیف بھٹائی یونیورسٹی خیرپور (سندھ) سے متعلق جاری کڑی جانچ پڑتال کے دوران مزید 62 وکلا کے لائسنس معطل کیے ہیں، جبکہ گزشتہ ہفتے بھی اسی یونیورسٹی سے متعلقہ 125 وکلا کے لائسنس معطل کیے گئے تھے۔ اسی یونیورسٹی کی بنیاد پر پنجاب بار کونسل میں انٹی میشن جمع کرانے والے 128 افراد کو آخری موقع دیتے ہوئے ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ وہ 25 جولائی 2026ء کو اصل تعلیمی دستاویزات، متعلقہ ثبوت اور سے تصدیق شدہ ڈگری کے ساتھ ذاتی طور پر پیش ہوں۔ مقررہ تاریخ پر ثبوت پیش نہ کرنے والوں کے خلاف مقدمات کے اندراج سمیت سخت قانون کارروائی کی جائے گی۔

چیئرمین ایگزیکٹو کمیٹی فخر حیات اعوان نے دوٹوک مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر کسی وکیل نے جعلی یا بوگس تصدیقی سرٹیفکیٹ یا کوئی بھی غلط دستاویز پیش کی تو مروجہ قانون کے تحت سخت ترین تادیبی کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ جن وکلا کے لائسنس معطل ہوئے ہیں، وہ ایچ ای سی سے اپنی تصدیق کا عمل مکمل کرانے کے بعد ایگزیکٹو کمیٹی پنجاب بار کونسل سے رجوع کر سکتے ہیں، جہاں ان کے کیسز کو میرٹ اور قانون کے مطابق نمٹایا جائے گا۔ فخر حیات اعوان کا کہنا تھا کہ اس تزویراتی کارروائی کا بنیادی مقصد وکالت کے مقدس شعبے میں مکمل شفافیت، اعلیٰ پیشہ ورانہ معیار اور عدالتی نظام پر عوام کے اعتماد کو برقرار رکھنا ہے، اور ڈگریوں کی جانچ پڑتال کا یہ عمل آئندہ بھی بلاتعطل جاری رہے گا۔