

محمود احمد, JULY 21,2026
غزہ (نیوز اینڈ نیوز) — 21 جولائی 2026ء
اسرائیلی فوج نے جنگ بندی معاہدے کی کھلی خلاف ورزیوں کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے منگل کو فجر کے وقت غزہ شہر پر ایک اور وحشیانہ فضائی حملہ کیا، جس کے نتیجے میں ایک ہی خاندان کے 6 افراد بشمول میاں، بیوی اور ان کے چار معصوم بچے موقع پر ہی شہید ہو گئے۔
‘مرکزِ اطلاعاتِ فلسطین’ کے مطابق، اسرائیلی جنگی طیاروں نے غزہ شہر کے علاقے ‘حی الصبرہ’ میں واقع ایک رہائشی مکان کو نشانہ بنایا۔ اس اندوہناک حملے کے نتیجے میں فراس أحمد المصری، ان کی اہلیہ سلسبيل محمد علی المصری اور ان کے چار معصوم بچے نعيم، فريال، سلمى اور أميرہ جامِ شہادت نوش کر گئے۔ عینی شاہدین کے مطابق، بمباری سے گھر میں ہولناک آگ بھڑک اٹھی جس کی وجہ سے سول ڈیفنس اور ریسکیو ٹیموں کو لاشیں نکالنے میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ بعد ازاں فائر فائٹنگ کی ٹیموں نے غزہ میونسپلٹی کے عملے کے تعاون سے آگ پر قابو پا کر شعلوں کو قریبی مکانات تک پھیلنے سے روکا۔
دریں اثنا، اسرائیلی فورسز نے جنوبی غزہ کے شہر خان یونس کے مشرقی علاقوں میں شدید فائرنگ کے ساتھ ساتھ توپ خانے سے گولہ باری کی۔ منگل کی صبح خان یونس کے علاقے مواصی میں بئر 19 کے قریب اسرائیلی فائرنگ سے ایک شہری شدید زخمی بھی ہوا۔ علاوہ ازیں، گزشتہ رات شمالی غزہ کے جبالیا کیمپ میں واقع ‘یمن السعيد ہسپتال’ کی پہلی منزل پر صیہونی ڈرون حملے میں 4 فلسطینی شہید اور متعدد زخمی ہو گئے۔
فلسطینی وزارتِ صحت کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، گزشتہ سال 10 اکتوبر کو طے پانے والے جنگ بندی معاہدے کے آغاز سے لے کر اب تک اسرائیلی عسکری کارروائیوں اور خلاف ورزیوں میں شہید ہونے والے فلسطینیوں کی مجموعی تعداد 1,169 تک جا پہنچی ہے، جبکہ 3,756 افراد زخمی ہوئے ہیں اور تباہ شدہ عمارتوں کے ملبے سے 802 شہدا کی لاشیں نکالی جا چکی ہیں۔