

روزینہ اسماعیل.june 22,2026
منیلا (بین الاقوامی رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 22 جون 2026ء
فلپائن کے شہر تکلوبان میں واقع ایک ہائی اسکول میں فائرنگ کے افسوسناک اور دلخراش واقعے میں 3 افراد موقع پر ہلاک جبکہ 5 زخمی ہو گئے۔ مقامی پولیس اور انتظامیہ کے مطابق، یہ لرزہ خیز واقعہ پیر کی صبح اس وقت پیش آیا جب اسکول میں معمول کے مطابق تدریسی سرگرمیاں جاری تھیں اور طلبہ کلاس رومز میں موجود تھے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق، فائرنگ تکلوبان کے ‘سان ہوزے نیشنل ہائی اسکول’ میں صبح تقریباً 9 بجے ہوئی، جس کے نتیجے میں پورے تعلیمی ادارے میں شدید خوف و ہراس اور بھگدڑ مچ گئی۔ واقعے کے فوراً بعد پولیس کی بھاری نفری اور امدادی ٹیمیں جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں اور لاشوں و زخمیوں کو فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کیا گیا۔
تکلوبان پولیس حکام نے مقتدر میڈیا کو بتایا کہ اس سفاکانہ حملے میں ملوث دونوں مشتبہ کم عمر ملزمان کو فوری کارروائی کرتے ہوئے گرفتار کر لیا گیا ہے۔ مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق، گرفتار ہونے والوں میں ایک 15 سالہ لڑکا شامل ہے جو اسی اسکول کا گریڈ 9 کا طالب علم بتایا جاتا ہے، اسے اسکول کی عمارت کے اندر سے ہی اسلحہ سمیت حراست میں لیا گیا، جبکہ اس کے دوسرے مشتبہ ساتھی کو اسکول سے فرار ہونے کی کوشش کے دوران گھیراؤ کر کے دبوچا گیا۔ فائرنگ کے فوری بعد سوشل میڈیا پر واقعے کی مبینہ ویڈیوز گردش کرنے لگیں جن میں گولیوں کی آوازیں اور بچوں کی چیخ و پکار سنی جا سکتی ہے، تاہم پولیس حکام نے امن و امان کی صورتحال کے پیشِ نظر عوام سے غیر مصدقہ معلومات اور افواہیں پھیلانے سے گریز کرنے کی مقتدر اپیل کی ہے۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق، کم عمر حملے آوروں کی جانب سے اس انتہائی قدم اور فائرنگ کے اصل محرکات تاحال واضح نہیں ہو سکے ہیں، اور پولیس دہشت گردی، ذاتی عناد اور دیگر مختلف پہلوؤں سے تفتش کا دائرہ وسیع کر کے تحقیقات کر رہی ہے۔ واقعے کے بعد تکلوبان کے تمام تعلیمی اداروں اور اطراف کے حساس علاقوں میں سیکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے، جبکہ مقامی صوبائی انتظامیہ نے متاثرہ خاندانوں سے دلی اظہارِ افسوس کرتے ہوئے اسپتال انتظامیہ کو زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ ‘نیوز اینڈ نیوز’ کے سیاسی مبصرین کے مطابق، اس واقعے نے فلپائن کے تعلیمی اداروں میں سیکیورٹی انتظامات، گن کنٹرول قوانین اور طلبہ کے ذہنی رجحانات کے حوالے سے ایک نئی ملک گیر بحث کو جنم دے دیا ہے اور والدین کی جانب سے حکومت سے سخت ترین اقدامات کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔