ایمباپے کا تاریخی عالمی ریکارڈ؛ لیونل میسی کو پیچھے چھوڑ کر فیفا ورلڈ کپ کی تاریخ میں سب سے زیادہ گول کرنے والے کھلاڑی بن گئے

محمود احمد, JULY 19,2026

میامی (نیوز اینڈ نیوز) — 19 جولائی 2026ء

فیفا ورلڈ کپ 2026ء کے سنسنی خیز اختتامی مراحل میں فرانسیسی فٹ بال کے لیے جہاں شکست کی مایوسی سامنے آئی، وہاں انفرادی طور پر فٹ بال کی تاریخ کا سب سے بڑا اور مقتدر ریکارڈ بھی قائم ہو گیا ہے۔ فرانس کے بین الاقوامی شہرہ آفاق فٹ بالر اور کپتان کیلین ایمباپے نے ارجنٹائن کے مایہ ناز کپتان لیونل میسی کا 21 گولز کا عالمی ریکارڈ توڑ کر فیفا ورلڈ کپ کی تاریخ میں سب سے زیادہ گول کرنے والے دنیا کے پہلے کھلاڑی کا اعزاز اپنے نام کر لیا ہے۔ تاہم، اس تزویراتی اور تاریخی موقع پر فرانس کو تیسری پوزیشن کے پلے آف میچ میں انگلینڈ کے ہاتھوں 4-6 سے عبرتناک شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے ‘شنہوا’ کے مقتدر حوالے سے سامنے آنے والی تفصیلات کے مطابق، کیلین ایمباپے نے انگلینڈ کے خلاف اس سنسنی خیز اور ہائی اسکورنگ مقابلے میں 2 شاندار گول داغ کر ورلڈ کپ مقابلوں میں اپنے مجموعی گولز کی تعداد 22 کر دی ہے۔ اس کے ساتھ ہی وہ رواں ٹورنامنٹ میں 10 گولز کے ساتھ گولڈن بوٹ کی ریس میں بھی لیونل میسی پر 2 گولز کی برتری حاصل کر کے سب سے آگے نکل گئے ہیں، جو ان کے دنیا کا سب سے مہلک اور بہترین سٹرائیکر ہونے کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اسی یادگار میچ میں فرانس کے مائیکل اولیسے نے بھی 2 گولز میں معاونت فراہم کر کے ورلڈ کپ کی تاریخ کا ایک نیا منفرد ریکارڈ قائم کیا ہے۔ وہ اب ایک ہی ٹورنامنٹ میں سب سے زیادہ 7 گولز اسسٹ کرنے والے دنیا کے پہلے کھلاڑی بن گئے ہیں، جنہوں نے برازیل کے لیجنڈری فٹ بالر پیلے کا ایک ورلڈ کپ میں 6 گولز اسسٹ کرنے کا دیرینہ عالمی ریکارڈ بھی پاش پاش کر دیا ہے۔

کیلین ایمباپے اور مائیکل اولیسے کی ان شاندار انفرادی اور تاریخی کامیابیوں کے باوجود فرانسیسی دفاعی لائن انگلینڈ کے مضبوط اور تتابعی حملوں کو روکنے میں ناکام رہی، جس کے باعث فرانسیسی ٹیم نے چوتھی پوزیشن پر ٹورنامنٹ کا اختتام کیا۔ عالمی فٹ بال کے مقتدر مبصرین اور ماہرین کا ماننا ہے کہ کیلین ایمباپے نے جس شاندار تسلسل اور شدید ذہنی دباؤ کے باوجود دنیا کے اس سب سے بڑے اسٹیج پر پرفارم کیا، اس نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ موجودہ دور کے سب سے سحر انگیز اور ناقابلِ شکست کھلاڑی ہیں جن کے قدموں تلے اب فٹ بال کی پوری تاریخ آچکی ہے۔ فرانس کی چوتھی پوزیشن پر ٹورنامنٹ ختم کرنے کی مایوسی کے باوجود ایمباپے کی یہ تاریخی انفرادی کامیابی فٹ بال شائقین کے دلوں پر ہمیشہ نقش رہے گی۔