

منصور احمد, JULY 20,2026
کوئٹہ (نیوز اینڈ نیوز) — 20 جولائی 2026ء
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے زیرِ اہتمام پاکستان بھر کے طلبہ و طالبات کے لیے منعقدہ “سمر کیمپ 2026ء” کے شرکاء کے ساتھ وزیرِ اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی ایک انتہائی اہم اور مقتدر خصوصی نشست منعقد ہوئی۔ آئی ایس پی آر کے اس تزویراتی سمر کیمپ میں ملک بھر کے 18 سے زائد مختلف اسٹیشنز سے 4 ہزار سے زائد طلبہ و طالبات نے بھرپور شرکت کی، جس کا بنیادی مقصد نوجوانوں میں قومی ہم آہنگی اور یکجہتی کے شعور کو بیدار کرنا تھا۔
خصوصی نشست سے خطاب اور طلبہ سے گفتگو کرتے ہوئے وزیرِ اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے ملکی سلامتی کو درپیش چیلنجز، ‘فتنہ الہندوستان’ اور ان کی مقامی پراکسیز کے حوالے سے تفصیلی تادیبی گفتگو کی۔ انہوں نے واشگاف الفاظ میں انکشاف کیا کہ بلوچستان میں بدامنی پھیلانے والی ان دہشت گرد تنظیموں کو بھارتی خفیہ ایجنسی ‘را’ کی مکمل مالی و لاجسٹک پشت پناہی حاصل ہے۔ انہوں نے ہمسایہ ملک پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان نے پاکستان کی جانب سے متعدد تنبیہات اور بین الاقوامی دوحہ معاہدے کے باوجود اپنی سرزمیں پر موجود ان دہشت گرد عناصر کے خلاف کوئی مؤثر کارروائی نہیں کی، جو انتہائی تشویشناک ہے۔ میر سرفراز بگٹی نے پختہ عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ہمیشہ قائم رہنے کے لیے بنا ہے، اور قومی اتحاد، یکجہتی، باہمی اعتماد اور ہمارے نوجوانوں کی مثبت سوچ ہی ایک مضبوط، مستحکم اور پرامن ملک کی اصل ضمانت ہے۔
اس مقتدر مکالمے کے دوران ملک بھر سے آئے ہوئے طلبہ و طالبات نے وزیرِ اعلیٰ بلوچستان سے صوبے میں دہشت گردی کے خاتمے، سی پیک و دیگر شعبوں میں غیر ملکی سرمایہ کاری، افغان سرحد پر اسمگلنگ کی روک تھام اور سوشل میڈیا پر جاری منفی پروپیگنڈے سمیت دیگر اہم قومی امور پر کھل کر تیکھے سوالات کیے۔ سمر کیمپ کے شرکاء کا کہنا تھا کہ انہیں بلوچستان کی اصل صورتحال اور مختلف سوالات کے حقائق پر مبنی انتہائی مدلل جوابات موصول ہوئے ہیں۔ طلبہ نے آئی ایس پی آر کی اس تزویراتی کاوش کو سراہتے ہوئے کہا کہ قومی ہم آہنگی، باہمی یکجہتی کے فروغ اور نوجوانوں کو ملکی دھارے میں شامل رکھنے کے لیے مستقبل میں بھی ایسے مقتدر مکالموں کا انعقاد انتہائی ضروری ہے۔