مون سون کے خطرات سے نمٹنے کے لیے فعال منصوبہ بندی اور بروقت پیشگی انتباہ ناگزیر ہے، چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک

روزینہ اسماعیل.june 30,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 30 جون 2026ء

چیئرمین نیشنل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک نے مون سون کے متوقع سیزن کے تناظر میں بروقت پیشگی انتباہات، مؤثر بین الادارتی رابطہ کاری اور فعال پیشگی منصوبہ بندی کی اہمیت پر مقتدر زور دیا ہے، جبکہ تمام وفاقی، صوبائی اور ضلعی اداروں نے مون سون کے دوران مشترکہ اقدامات اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں بروقت ریسپانس یقینی بنانے کے پختہ عزم کا اعادہ کیا ہے۔ منگل کے روز این ڈی ایم اے کے میڈیا ونگ سے جاری کردہ مقتدر بیان کے مطابق، این ڈی ایم اے ہیڈکوارٹرز میں قائم نیشنل ایمرجنسیز آپریشن سینٹر (این سی او سی) میں ایک اعلیٰ سطحی “قومی مون سون کوآرڈینیشن کانفرنس” کا انعقاد کیا گیا، جس میں وفاقی وزارتوں، صوبائی و ضلعی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹیز (پی ڈی ایم ایز اور ڈی ڈی ایم ایز)، فلاحی تنظیموں اور دیگر متعلقہ اداروں کے مقتدر حکام نے شرکت کی۔

کانفرنس کے دوران مون سون سیزن کے دوران ملک کو درپیش ممکنہ خطرات بشمول گلیشئیر پگھلنے، طغیانی و سیلابی صورتحال، پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ اور شہری سیلاب ) جیسے تزویراتی چیلنجز پر تفصیلی غور کیا گیا۔ چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک نے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے تمام اداروں کو ہدایت کی کہ وہ جدید انتباہی نظام خطرات سے قبل از وقت آگاہی، ہمہ وقت نگرانی اور مستند معلومات پر مبنی فیصلہ سازی کو اپنا شعار بنائیں۔ اجلاس میں وفاقی، صوبائی اور ضلعی سطح پر فوری معلومات کے تبادلے اور ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے امدادی وسائل کی بروقت فراہمی کا تزویراتی فریم ورک بھی طے پایا۔

شرکاء کو این ڈی ایم اے کے مربوط رابطہ کاری فریم ورک، فلڈ مانیٹرنگ اور ایمرجنسی رسپانس پلاننگ پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ اس موقع پر سیلاب سے ممکنہ طور پر متاثر ہونے والے اضلاع، گلیشیائی جھیل پھٹنے کے خطرات سے دوچار حساس علاقوں، انخلاء کے تزویراتی منصوبوں، عوامی آگاہی مہموں اور لائف سیونگ آلات کی دستیابی کا باریک بینی سے جائزہ لیا گیا۔ کانفرنس کے اختتام پر این ڈی ایم اے نے عام شہریوں سے مخلصانہ اپیل کی کہ وہ متوقع موسم اور خطرات کے حوالے سے سوشل میڈیا کی افواہوں کے بجائے صرف مستند سرکاری ذرائع سے حاصل کردہ معلومات پر بھروسہ کریں اور مقامی انتظامیہ کی طرف سے جاری کردہ حفاظتی ہدایات پر سختی سے عمل کریں۔

پاک روس اسٹریٹجک تعاون: پاکستان اور روس کے درمیان آفات سے نمٹنے، سرچ اینڈ ریسکیو اور صلاحیتی دائرہ کار کے اضافے کے لیے تعاون بڑھانے پر اتفاق

کاشف عباسی ,june 24,2026

اسلام آباد ( نیوز اینڈ نیوز) — 24 جون 2026ء

پاکستان اور روس کے درمیان ہنگامی آفات سے نمٹنے، سرچ اینڈ ریسکیو آپریشنز اور باہمی صلاحیتی دائرہ کار (کیپیسٹی بلڈنگ) کے اضافے کے لیے تزویراتی تعاون کو مزید مقتدر اور وسیع کرنے پر مکمل اتفاق ہو گیا ہے۔ بدھ کے روز نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے ترجمان کی طرف سے جاری کردہ مقتدر پریس ریلیز کے مطابق، روس کے ایک اعلیٰ سطح کے دفاعی وفد نے این ڈی ایم اے ہیڈکوارٹرز اسلام آباد کا مقتدر دورہ کیا اور وہاں قائم جدید ترین ‘نیشنل ایمرجنسیز آپریشن سینٹر’ کی کارکردگی کا تفصیلی معائنہ کیا۔

روس کے ڈپٹی چیف نیشنل ڈیفنس مینجمنٹ سینٹر، لیفٹیننٹ جنرل اسکوسکوف اولیگ ایوانوچ کی مقتدر سربراہی میں آنے والے اس وفد کو این ڈی ایم اے کے اعلیٰ حکام نے پاکستان میں آفات سے نمٹنے کے طریقہ کار، جدید ترین پیشگی آگاہی کے نظام (ارلی وارننگ سسٹم) اور کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے کیے جانے والے بروقت اقدامات پر تفصیلی بریفنگ دی۔ اس مقتدر موقع پر گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک نے دونوں ممالک کے درمیان دو طرفہ تکنیکی تعاون اور ہنگامی حالات سے نمٹنے کے تجربات کے باہمی تبادلے کی کلیدی اہمیت پر خصوصی زور دیا۔

روسی دفاعی وفد کو بریفنگ کے دوران این ای او سی کے صلاحیتی دائرہ کار، سیٹلائٹ پر مبنی پیشگی انتباہی نظام اور کسی بھی ناگہانی آفت کی صورت میں قومی وسائل کے موثر اور مربوط استعمال پر انتہائی مقتدر اور جامع پریزنٹیشن دی گئی۔ اس دوران وفد کو سال 2026ء کے دوران پاکستان اور خطے کے دیگر ممالک کو موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث درپیش ممکنہ ماحولیاتی خطرات کے حوالے سے بھی تفصیلی سائنسی ڈیٹا فراہم کیا گیا۔ بریفنگ کے بعد دونوں ممالک نے علاقائی خطرات کی درست تشخیص، ان کے بروقت تدارک اور ایک بین الاقوامی ‘گلوبل ڈیزاسٹر ریسورس نیٹ ورک’ کے قیام کے مقتدر عزم کا اعادہ کیا۔ روسی وفد نے پاکستان کے نیشنل ایمرجنسیز آپریشن سینٹر اور یہاں آفات سے نمٹنے کے لیے رائج جدید ترین ڈیجیٹل نظام کی زبردست ستائش کی اور پاکستان کے ساتھ مل کر آفات سے بچاؤ کے لیے عملی اقدامات کو مزید موثر بنانے کا مقتدر عزم ظاہر کیا۔