

منصور احمد june 25,2026
اسلام آباد (سیکیورٹی رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 25 جون 2026ء
سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس پی) سٹی زون اسلام آباد ڈاکٹر ایاز حسین نے کہا ہے کہ وفاقی دارالحکومت میں محرم الحرام کے دوران امن و امان برقرار رکھنے اور بین المسالک ہم آہنگی کے فروغ کے لیے پولیس نے ایک جامع اور فول پروف سیکیورٹی حکمت عملی وضع کر لی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان (اے پی پی) کے مقتدر ڈیجیٹل میڈیا پروگرام “سائیلنٹ شیلڈ” کی خصوصی محرم نشریات میں اینکر پرسن اور تحقیقاتی رپورٹر سید بلال عزت نقوی کے ساتھ ایک مقتدر انٹرویو میں گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ ایس پی سٹی نے واضح کیا کہ محرم الحرام محض کوئی روایتی یا سالانہ سیکیورٹی مشق نہیں ہے، بلکہ یہ ایک گہرا جذباتی، روحانی اور تاریخی موقع ہے جس کے تقدس اور عزاداروں کی حفاظت کے لیے اسلام آباد پولیس کی ذمہ داریاں دوگنی ہو جاتی ہیں۔
ڈاکٹر ایاز حسین نے مقتدر حفاظتی انتظامات کے اعداد و شمار جاری کرتے ہوئے بتایا کہ سیکیورٹی پلاننگ کا عمل کئی ہفتے قبل شروع کر دیا گیا تھا، جس کے تحت تمام امام بارگاہوں اور مجالس کے مقامات کی باقاعدہ جیو ٹیگنگ مکمل کر لی گئی ہے۔ حالیہ سیکیورٹی پلان کے مطابق، مخصوص زونز سے مجموعی طور پر 95 جلوس برآمد کیے جائیں گے، جن میں سے 14 انتہائی حساس جلوسوں کو سیکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کے تحت ‘اے’ کیٹیگری میں برقرار رکھا گیا ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ صرف یومِ عاشور کے مقتدر موقع پر 4,000 سے زائد پولیس افسران و جوان ڈیوٹی کے فرائض سرانجام دیں گے، جبکہ 300 سے زائد ٹریفک پولیس اہلکار شہر بھر میں قائم 57 سیکیورٹی چیک پوسٹس پر ٹریفک کی روانی کو مقتدر بنائیں گے۔ اس پورے حفاظتی نظام کو پاک فوج، رینجرز اور خفیہ اداروں کی معاونت حاصل ہوگی اور سیف سٹی کیمروں، ڈرونز اور باڈی وارن کیمروں کے ذریعے لائیو مانیٹرنگ کی جائے گی۔
ایس پی سٹی نے اپنے دائرہ اختیار کے حساس ترین روٹس کا تذکرہ کرتے ہوئے بتایا کہ جی 9/4 جامعہ المرتضیٰ سے شروع ہو کر کشمیر ہائی وے پر پی ڈبلیو ڈی چوک تک جانے والا مرکزی جلوس اور جی 6/2 امام بارگاہ اثنا عشری سے برآمد ہونے والا روایتی جلوس بڑے اجتماعات میں شامل ہیں، جس کے باعث عاشورہ کے دن صبح 8 بجے سے رات 8 بجے تک فضلِ حق روڈ، پولی کلینک روڈ اور میونسپل روڈ عام ٹریفک کے لیے مکمل بند رہیں گے۔ انہوں نے زور دیا کہ اسلام آباد پولیس کا کردار محض لاٹھی لے کر کھڑے ہونا نہیں بلکہ مختلف مکاتبِ فکر کے مابین ایک مقتدر پل کا کردار ادا کرنا ہے، جس کے لیے شیعہ اور سنی علماء کرام کو ایک میز پر لا کر امن کا باہمی عہد لیا گیا ہے۔ انٹرویو کے اختتام پر انہوں نے سخت موسم میں 16 سے 18 گھنٹے طویل ڈیوٹی دینے والے پولیس جوانوں کو خراجِ تحسین پیش کیا اور عوام سے اپیل کی کہ وہ سوشل میڈیا پر افواہیں پھیلانے سے گریز کریں اور کسی بھی مشکوک سرگرمی کی اطلاع فوری پولیس کو دیں۔