پنجاب میں غیر قانونی شکاریوں کے خلاف کریک ڈاؤن، 11 ملزمان گرفتار؛ لاکھوں روپے جرمانہ

منصور احمد june 21,2026

لاہور (نیوز اینڈ نیوز) — 21 جون 2026ء

پنجاب کی سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب کی خصوصی اور سخت ہدایات پر صوبہ بھر میں محکمہ جنگلی حیات (وائلڈ لائف) کی ٹیمیں غیر قانونی شکار، ناجائز قبضہ اور نایاب پرندوں کی تجارت کرنے والے عناصر کے تعاقب میں بھرپور سرگرم عمل ہیں، اسی سلسلے میں ایک مقتدر کارروائی کے دوران وائلڈ لائف رینجرز نے جہلم، چکوال، راولپنڈی، خوشاب اور لودھراں کے اضلاع میں کریک ڈاؤن کر کے خرگوش، سور، تیتر، بٹیر اور نایاب طوطوں کے غیر قانونی شکار اور اسمگلنگ میں ملوث 11 ملزمان کو رنگے ہاتھوں گرفتار کر لیا ہے۔ سرکاری خبر رساں ایجنسی (اے پی پی) کے مطابق وائلڈ لائف ایکٹ کی سنگین خلاف ورزی پر ان تمام ملزمان کے خلاف باقاعدہ قانونی چالان مرتب کر کے سوا چار لاکھ روپے سے زائد کا بھاری جرمانہ عائد کیا گیا ہے جبکہ کارروائی کے دوران بازیافت کیے گئے تمام معصوم جنگلی پرندوں کو بحفاظت واپس قدرتی ماحول میں آزاد کر دیا گیا ہے۔

محکمہ جنگلی حیات کے ترجمان کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق اسسٹنٹ چیف وائلڈ لائف رینجر چکوال مرزا عابد حسین نے وائلڈ لائف رینجرز کی مقتدر ٹیم کے ہمراہ کارروائی کرتے ہوئے جنگلی سور کے 2 غیر قانونی شکاریوں کو 75 ہزار روپے جبکہ بھورے تیتر کی غیر قانونی تجارتی سپلائی پر 1 بڑے ڈیلر کو 35 ہزار روپے جرمانہ عائد کیا۔ اسی طرح اسسٹنٹ چیف وائلڈ لائف رینجر جہلم ارشد ناز نے رن وے کارروائی کے دوران خرگوش کے 1 شکاری کو 36 ہزار روپے، تیتر کے 1 شکاری کو 40 ہزار روپے جبکہ قیمتی طوطوں کی غیر قانونی بلیک مارکیٹ تجارت پر ملوث ملزم کو 15 ہزار روپے جرمانہ کر کے تمام کیسز کو مروجہ قوانین کے تحت موقع پر ہی نمٹا دیا۔

ترجمان نے مزید بتایا کہ خوشاب میں بھی اسسٹنٹ چیف وائلڈ لائف رینجر رانا محمد اشفاق نے مقتدر کارروائی کے دوران جنگلی خرگوش کے 3 سرگرم غیر قانونی شکاریوں کو دھر لیا اور انہیں 1 لاکھ 50 ہزار روپے کا بھاری جرمانہ عائد کیا۔ جنوبی پنجاب کے ضلع لودھراں میں اسسٹنٹ چیف وائلڈ لائف رینجر نے قیمتی لو برڈز اور فنچز چڑیا کے غیر قانونی کاروبار اور اسمگلنگ میں ملوث 1 نوسرباز ملزم کو گرفتار کر کے 60 ہزار روپے جرمانہ عائد کیا جبکہ کالے تیتر پر غیر قانونی قبضہ جمانے والے 1 شخص کو 15 ہزار روپے محکمانہ معاوضے کی مد میں جرمانہ کیا گیا۔ دوسری جانب راولپنڈی میں اسسٹنٹ چیف وائلڈ لائف رینجر محمد عمران نے جنگلی پرندوں کو پھنسانے کے لیے بچھائے گئے تمام غیر قانونی نیٹ گیئرز (جال اور آلات) کو موقع پر ہی جلا کر خاکستر کر دیا اور ضبط کیے گئے تمام نایاب تیتروں کو فیلڈ مارشل اسٹرٹیجی کے تحت واپس کھلے آسمان اور قدرتی ماحول میں آزاد کر دیا تاکہ وائلڈ لائف پروٹیکشن کو یقینی بنایا جا سکے۔