

کاشف عباسی ,june 17,2026
مستونگ (انٹرنیشنل ڈیسک/نیوز اینڈ نیوز) — 18 جون 2026ء
پاکستان کے رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑے اور غریب ترین صوبے بلوچستان میں روزگار کے مواقع نہ ہونے کے برابر ہونے کے باعث لاکھوں نوجوان پچاس ڈگری سینٹی گریڈ کی ہولناک گرمی اور مسلح تنازعات کے سائے میں ایران سے پیٹرولیم مصنوعات کی خطرناک سمگلنگ کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں، مستونگ اور کوئٹہ کے سرحدی ذرائع سے حاصل ہونے والی تفصیلات کے مطابق حالیہ مہینوں میں ایران کے خلاف امریکہ و اسرائیل کی جنگ کے نتیجے میں آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی سپلائی شدید متاثر ہوئی ہے جس سے عالمی مارکیٹ میں ایندھن مہنگا ہو گیا ہے اور اس سنگین صورتحال نے پاکستان میں سستے ایرانی پیٹرول اور ڈیزل کی طلب میں ریکارڈ اضافہ کر دیا ہے، بلوچستان کے ہزاروں سمگلروں کی طرح ”مزار“ نامی ایک مقامی موٹر سائیکل سوار (جس کا اصل نام سکیورٹی وجوہات پر پوشیدہ رکھا گیا ہے) نے بتایا کہ وہ اپنے بڑے خاندان کا واحد کفیل ہے اور شدید خشک سالی کے باعث کھیتی باڑی تباہ ہونے پر وہ مجبوراً اس جان لیوا کام کا حصہ بنا ہے، مزار نے مستونگ کے کھلے بازار سے اپنی خستہ حال موٹر سائیکل پر ۷۰ لیٹر پیٹرول سے بھرے پانچ بڑے پلاسٹک کے ڈبے خطرناک انداز میں لاد رکھے ہیں جن کا مجموعی وزن لگ بھگ ۲۷۲ کلوگرام بنتا ہے اور وہ اب یہ سستا ایندھن بیچنے کے لیے ۲۱۸ میل طویل سفر طے کر کے صوبہ سندھ کی غیر رسمی مارکیٹوں کی طرف روانہ ہو رہا ہے۔
یہ طویل سفر انتہائی ہولناک اور جان لیوا خطرات سے گھرا ہوا ہے کیونکہ موسم گرما میں بلوچستان کا درجہ حرارت اکثر ۵۰ ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ جاتا ہے جس کی شدید تپش اور حرارت کی وجہ سے پلاسٹک کے یہ بڑے کنٹینرز پھول کر پھٹ جاتے ہیں اور تیل کے رساؤ سے ہونے والے دھماکوں میں کئی سمگلر زندہ جل کر جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں، اس کے علاوہ یہ پورا علاقہ گذشتہ کئی دہائیوں سے پاکستانی فورسز اور علیحدگی پسند مسلح گروہوں کے مابین شدید جھڑپوں کی زد میں ہے جس کے باعث سڑکوں پر ہر وقت عسکری تنازعے کا خوف رہتا ہے، جاپانی خبر رساں ادارے ”نکئی ایشیا“ کے مطابق پاکستان کی انٹیلیجنس ایجنسیوں کی ایک لیک رپورٹ کے مطابق ہر سال تقریباً ایک ارب ڈالر مالیت کا ایندھن ایران سے پاکستان سمگل کیا جاتا ہے اور بلوچستان کے لگ بھگ ۲۴ لاکھ افراد براہِ راست اس غیر قانونی کاروبار سے جڑے ہوئے ہیں، رواں سال مئی میں پاکستان کی پانچ بڑی آئل ریفائنریوں اور آئل کمپنیز ایڈوائزری کونسل نے حکومت کو ہنگامی خطوط لکھ کر آگاہ کیا تھا کہ اس اندھا دھند سمگلنگ کے باعث ملک میں قانونی ایندھن کی فروخت گزشتہ ۲۷ برس کی کم ترین سطح پر آ گئی ہے جس سے ملکی معیشت کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔
اگرچہ پاکستان میں ایندھن کی یہ سمگلنگ سراسر غیر قانونی ہے جس کی سزا بھاری جرمانے، گاڑیوں کی ضبطی اور طویل قید ہے، تاہم کوئٹہ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سابق صدر فدا حسین دشتی کا کہنا ہے کہ یہ سرگرمی اس پسماندہ خطے کی معیشت کے لیے اب ناگزیر بن چکی ہے کیونکہ یہاں روزگار کے متبادل مواقع بالکل ختم ہو چکے ہیں، انہوں نے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان پاکستان کے کل رقبے کا ۴۴ فیصد ہونے اور معدنی وسائل سے مالا مال ہونے کے باوجود دنیا کے غریب ترین علاقوں میں شمار ہوتا ہے جس کی وجہ سے شدید عوامی غم و غصہ پایا جاتا ہے، فدا حسین دشتی کے مطابق یہاں ایم اے کی ڈگری رکھنے والا تعلیم یافتہ نوجوان بھی نوکری نہ ملنے پر آخرکار موٹر سائیکل پر تیل کی سمگلنگ کے اسی پرخطر کاروبار کا حصہ بننے پر مجبور ہے کیونکہ ان کے پاس زندہ رہنے کا کوئی دوسرا راستہ باقی نہیں بچا۔