پاکستان میں نرسنگ شو بے کی ڈیجیٹائزیشن اور مقامی ویکسین پروڈکشن میں تیزی لانے کا فیصلہ؛ وفاقی وزیرِ صحت سید مصطفیٰ کمال کا اجلاس

منصور احمد, JULY 23,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 23 جولائی 2026ء

وفاقی وزیرِ صحت سید مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ ملک میں تربیت یافتہ نرسنگ افرادی قوت کی بڑھتی ہوئی ضرورت کو پورا کرنے اور طبی خدمات کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے تمام مؤثر اور بروقت اقدامات کو یقینی بنایا جائے گا۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے وزارتِ صحت میں منعقدہ ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں ایشین ڈویلپمنٹ بینک کے نمائندوں، فیڈرل سیکرٹری صحت، چیف انفارمیشن آفیسر وزارتِ صحت اور ڈریپ کے سی آئی او نے شرکت کی۔ اس موقع پر ای ڈی بی کے وفد نے پاکستان میں مقامی سطح پر ویکسین کی تیاری اور پاکستان نرسنگ اینڈ مڈوائفری کونسل کی ڈیجیٹائزیشن پر بریفنگ دی۔

وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے ہدایت کی کہ ملک کو ویکسین کی پیداوار میں خود کفیل بنانے کے لیے مقامی پروڈکشن کے منصوبے پر پیش رفت کو تیز کیا جائے۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو تمام ریگولیٹری، قانونی اور تکنیکی تقاضے جلد از جلد مکمل کرنے کی تاکید کی۔

نرسنگ کے شعبے میں بنیادی اصلاحات کا ذکر کرتے ہوئے وزیرِ صحت نے پاکستان نرسنگ اینڈ مڈوائفری کونسل کے نظام کو مکمل طور پر ڈیجیٹائز کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا کہ کونسل کو بین الاقوامی معیار کے مطابق جدید خطوط پر استوار کیا جائے تاکہ نرسنگ کے شعبے میں پیشہ ورانہ معیار کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔

اجلاس کے دوران ایشین ڈویلپمنٹ بینک کے نمائندوں نے پاکستان کے صحت کے شعبے کو جدید بنانے، تکنیکی معاونت اور پائیدار شراکت داری جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔ وفاقی وزیر نے ای ڈی بی کی مسلسل معاونت کو سراہتے ہوئے اسے پاکستان کے صحت کے نظام کی مضبوطی کے لیے انتہائی اہم قرار دیا۔

پاکستان میں ذہنی صحت کے شعبے میں جامع اصلاحات کا فیصلہ؛ وفاقی وزیرِ صحت سید مصطفیٰ کمال کی زیر صدارت اہم اجلاس

کاشف عباسی , JULY 23,026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 23 جولائی 2026ء

وفاقی وزیرِ صحت سید مصطفیٰ کمال کی زیر صدارت پاکستان میں ذہنی صحت کے شعبے میں بنیادی اور پائیدار اصلاحات لانے سے متعلق ایک اہم اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں ملک میں ذہنی صحت کی خدمات کو مؤثر، قابلِ رسائی اور جدید شواہد پر مبنی بنانے کے لیے مختلف تجاویز کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

اجلاس میں گلوبل انسٹی ٹیوٹ آف ہیومن ڈیولپمنٹ کے بانی ڈائریکٹر ڈاکٹر سید عثمان ہمدانی نے شرکت کی اور پاکستان میں ذہنی صحت کی موجودہ صورتحال، درپیش چیلنجز اور درکار اصلاحاتی اقدامات پر تفصیلی بریفنگ دی۔

وفاقی وزیرِ صحت سید مصطفیٰ کمال نے ہدایت کی کہ ذہنی صحت کی خدمات کو بنیادی صحت کی سہولیات اور تعلیمی نظام کے ساتھ مؤثر انداز سے منسلک کیا جائے تاکہ نفسیاتی مسائل کی بروقت تشخیص اور علاج ممکن ہو سکے۔ انہوں نے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ کے تعاون سے ایک ‘قومی ذہنی صحت ڈیٹا ڈیش بورڈ’ قائم کرنے کا حکم دیا تاکہ شواہد کی بنیاد پر پالیسی سازی اور نگرانی کی جا سکے۔

وزیرِ صحت نے پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کو ذہنی صحت سے متعلق جامع پالیسی مرتب کرنے، اور ہیلتھ کیئر پروفیشنلز کے لیے لازمی سرٹیفکیشن و ڈپلومہ پروگرام متعارف کرانے کی ہدایت کی۔ مزید برآں، وزارتِ صحت کے تمام ٹیلی میڈیسن مراکز میں بھی نفسیاتی مشاورت کی فراہمی باقاعدہ شروع کی جائے گی۔

وفاقی وزیر نے اسلام آباد ہیلتھ کیئر ریگولیٹری اتھارٹی اور جوائنٹ سیکرٹری کو سرکاری و نجی ہسپتالوں کے ڈاکٹروں کی تربیت اور متعلقہ قوانین میں ضروری ترامیم پیش کرنے کا پابند کیا۔ مصطفیٰ کمال نے ‘ورلڈ مینٹل ہیلتھ ڈے 2026ء’ کی تیاریوں کو تیز کرنے اور ایک مؤثر قومی آگاہی مہم چلانے کا عزم بھی ظاہر کیا۔

پاک چین فارماسیوٹیکل کانفرنس کے افتتاحی روز 446 ملین ڈالر مالیت کے تاریخی تجارتی معاہدوں پر دستخط

محمود احمد, JULY 17,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 17 جولائی 2026ء

پاکستان اور چین کے مابین صحت اور دواسازی کے شعبے میں ایک بڑی تزویراتی پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں وفاقی دارالحکومت میں دو روزہ “پاکستان چین فارماسیوٹیکل اینڈ ہیلتھ کیئر بی ٹو بی انویسٹمنٹ کانفرنس” کا باضابطہ آغاز ہو گیا ہے۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اس مقتدر کانفرنس کا باقاعدہ افتتاح کیا۔ یہ اہم ترین انویسٹمنٹ کانفرنس وزارتِ قومی صحت، ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ)، ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی اور بورڈ آف انویسٹمنٹ کے مشترکہ اشتراک سے منعقد کی جا رہی ہے، جس میں تین سو سے زائد پاکستانی اور ایک سو پچاس معروف چینی صنعتی اداروں سمیت ساڑھے چار سو سے زائد نامور کمپنیاں حصہ لے رہی ہیں۔ افتتاحی تقریب سے قبل وفاقی وزیر برائے قومی صحت سید مصطفیٰ کمال نے معزز مہمانوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے کانفرنس کے خدوخال اور تیاریوں پر تفصیلی بریفنگ دی۔

کانفرنس کے پہلے ہی روز دونوں ممالک کی مقتدر کمپنیوں کے مابین مجموعی طور پر 446 ملین امریکی ڈالر مالیت کے نو تاریخی تجارتی و سرمایہ کاری معاہدوں پر دستخط کیے گئے، جن میں مقامی مینوفیکچرنگ، جدید ٹیکنالوجی کی منتقلی، مشترکہ سرمایہ کاری اور برآمدی استعداد میں اضافے کے انقلابی منصوبے شامل ہیں۔ ان تزویراتی معاہدوں کے تحت ایل ڈی ایس اور سائنوویک ہولڈنگ گروپ کے درمیان ویکسینز کی رجسٹریشن، تجارتی فروغ اور مرحلہ وار مقامی تیاری کے لیے دو سو ملین ڈالر کا سب سے بڑا تزویراتی منصوبہ طے پایا۔ اس کے ساتھ ہی او بی ایس اور کین سائنو بائیولاجکس کے مابین پاکستان میں نمونیا ویکسین کی مقامی تیاری کے لیے پچاس ملین ڈالر، جبکہ اے جی پی اور شنگھائی یونائیٹڈ سیل بائیو ٹیکنالوجی کے مابین گروتھ ہارمون اور اورل ہیضہ ویکسین کی تیاری کا پچاس ملین ڈالر کا مشترکہ منصوبہ دستخط کیا گیا۔

تقریب میں او بی ایس فارما اور لیائوننگ لڈان فارماسیوٹیکل کے مابین مانع حمل امپلانٹس کی مقامی پیداوار کے لیے پچاس ملین ڈالر کا معاہدہ ہوا، جبکہ جنیکس فارما اور چینی بائیوٹیک کمپنیوں کے اشتراک سے تئیس ملین ڈالر کی لاگت سے پاکستان کا پہلا جدید بائیوفارماسیوٹیکل مینوفیکچرنگ پلیٹ فارم قائم کرنے کی منظوری دی گئی جہاں مونوکلونل اینٹی باڈیز اور انسولین تیار کی جائے گی۔ علاوہ ازیں کانگچنگ لیان شن زی کانگ بائیو ٹیکنالوجی کے ساتھ پچیس ملین ڈالر کی لاگت سے گلوکوز مانیٹرنگ مصنوعات کی اسمبلنگ، تیان یوآن فارماسیوٹیکل کے ساتھ پچیس ملین ڈالر کی سرمایہ کاری سے ملک میں پہلی مرتبہ جدید ترین ذیابیطس ادویات کی مقامی پیداوار، لکی کور انڈسٹریز کا تیرہ ملین ڈالر کا معاہدہ برائے ہیپاٹائٹس ڈیلٹا ادویات اور سٹی فارما کا ینگتزی ریور فارماسیوٹیکل گروپ کے ساتھ دس ملین ڈالر کا ٹیکنالوجی منتقلی کا معاہدہ بھی حتمی شکل پا گیا۔

پنڈال میں ڈریپ، بورڈ آف انویسٹمنٹ اور خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل کے خصوصی سہولت مراکز قائم کیے گئے ہیں جہاں سرمایہ کاروں کو ریگولیٹری رہنمائی، لائسنسنگ اور دیگر امور میں فوری حکومتی معاونت فراہم کی جا رہی ہے۔ کانفرنس کے دوسرے اور آخری روز ڈریپ کی جانب سے عالمی ادارہ صحت کے معیارات اور پاکستان سنگل ونڈو کے ساتھ انضمام پر خصوصی تکنیکی سیشن منعقد کیا جائے گا، جس کے بعد مزید کئی کارپوریٹ مفاہمتی یادداشتوں کو حتمی شکل دیے جانے کا قوی امکان ہے۔

پاک چین فارماسیوٹیکل اینڈ ہیلتھ کیئر کانفرنس کا تاریخی آغاز؛ 446 ملین ڈالر مالیت کے 9 بڑے تجارتی معاہدوں پر دستخط

کاشف عباسی , JULY 17,026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 17 جولائی 2026ء

پاکستان اور چین کے مابین معاشی و تزویراتی تعلقات میں ایک اور تاریخی پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں وفاقی دارالحکومت میں “پاکستان چین فارماسیوٹیکل اینڈ ہیلتھ کیئر بی ٹو بی انویسٹمنٹ کانفرنس” کا باضابطہ آغاز ہو گیا ہے۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اس مقتدر دو روزہ کانفرنس کا باقاعدہ افتتاح کیا۔ یہ اہم ترین کانفرنس وزارتِ قومی صحت، ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ)، ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی اور بورڈ آف انویسٹمنٹ کے مشترکہ اشتراک سے منعقد کی جا رہی ہے، جس میں تین سو سے زائد پاکستانی اور ایک سو پچاس معروف چینی صنعتی اداروں سمیت ساڑھے چار سو سے زائد کمپنیاں حصہ لے رہی ہیں۔ افتتاحی تقریب سے قبل وفاقی وزیر برائے قومی صحت سید مصطفیٰ کمال نے معزز مہمانوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے کانفرنس کے تزویراتی خدوخال پر تفصیلی بریفنگ دی۔

وفاقی وزیرِ صحت نے چینی وفد کو آمد پر خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ پاکستان آپ کا دوسرا گھر ہے اور اب وقت آ گیا ہے کہ پاک چین ‘آہنی بھائی چارے’ کو مشترکہ صنعتوں، کارخانوں کے قیام اور ٹیکنالوجی کی باقاعدہ منتقلی کے ذریعے زمین پر حقیقت کا روپ دیا جائے۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ دو ماہ کی مشترکہ کوششوں کے بعد سرمایہ کاری کے لیے سات اہم شعبوں کی نشاندہی کی گئی ہے جن میں ایکٹو فارماسیوٹیکل اجزاء، جدید طبی آلات، ویکسین اور بائیولوجکس شامل ہیں۔ تقریب کے دوران دونوں ممالک کی مقتدر کمپنیوں کے مابین مجموعی طور پر 446 ملین امریکی ڈالر مالیت کے نو تاریخی تجارتی معاہدوں پر دستخط کیے گئے، جو مقامی مینوفیکچرنگ اور برآمدی استعداد میں انسدادِ تفاوت کا باعث بنیں گے۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چین کے سفیر جیانگ زیڈونگ نے کہا کہ چین اور پاکستان کی ہر موسم کی تزویراتی شراکت داری ناقابلِ شکست ہے اور چین سی پیک فیز 2.0 کے تحت اپنی جدید ترین ہیلتھ ٹیکنالوجی پاکستان کو منتقل کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔

ان تزویراتی معاہدوں کے تحت لائب ڈائیگنوسٹک سسٹمز اور سائنو ویک ہولڈنگ گروپ کے درمیان ویکسینز کی رجسٹریشن اور مرحلہ وار مقامی مینوفیکچرنگ کے لیے دوسو ملین ڈالر کا سب سے بڑا منصوبہ طے پایا۔ اس کے ساتھ ہی او بی ایس اور کین سائنو بائیولوجکس کے مابین پاکستان میں نمونیا ویکسین کی مقامی تیاری کے لیے پچاس ملین ڈالر جبکہ اے جی پی اور شنگھائی یونائیٹڈ سیل بائیوٹیک کے درمیان گروتھ ہارمون اور ہیضہ ویکسین کی تیاری کا پچاس ملین ڈالر کا مشترکہ منصوبہ دستخط کیا گیا۔ تقریب میں او بی ایس فارما اور لیاؤننگ لوڈان فارما کے مابین مانع حمل امپلانٹس کی مقامی پیداوار کے لیے پچاس ملین ڈالر اور جینکسا فارما کا چینی بائیوٹیک اداروں کے ساتھ بائیو فارماسیوٹیکل مینوفیکچرنگ پلیٹ فارم کے لیے تئیس ملین ڈالر کا معاہدہ بھی ہوا جہاں انسولین اور دیگر حیاتیاتی ادویات تیار ہوں گی۔ علاوہ ازیں چونگ چنگ لیان نکسن کے ساتھ پچیس ملین ڈالر کی لاگت سے گلوکوز مانیٹرنگ مصنوعات کی اسمبلنگ، تیان یوآن فارما کے ساتھ پچیس ملین ڈالر سے جدید ترین ذیابیطس ادویات کی مینوفیکچرنگ، لکی کور انڈسٹریز کا تیرہ ملین ڈالر کا معاہدہ برائے ہیپاٹائٹس ڈیلٹا ادویات اور سٹی فارما کا یانگسی ریور فارماسیوٹیکل کے ساتھ دس ملین ڈالر کا ٹیکنالوجی منتقلی کا معاہدہ بھی حتمی شکل پا گیا۔

تقریب سے وزیراعظم کے معاونِ خصوص برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان نے بھی خطاب کیا۔ افتتاح کے فوراً بعد باقاعدہ بی ٹو بی میچ میکنگ سیشن شروع ہوا، جبکہ پنڈال میں ڈریپ، بورڈ آف انویسٹمنٹ اور خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل کے خصوصی ڈیسک قائم کیے گئے ہیں تاکہ سرمایہ کاروں کو فوری لائسنسنگ اور ریگولیٹری سہولیات فراہم کی جا سکیں۔ کانفرنس کے دوسرے اور آخری روز ڈریپ کی جانب سے عالمی ادارہ صحت کے معیارات اور پاکستان سنگل ونڈو کے ساتھ انضمام پر تکنیکی سیشن منعقد کیا جائے گا، جس کے بعد مزید کارپوریٹ مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط متوقع ہیں۔