

روزینہ اسماعیل, August 18,2026
اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 18 اگست 2026ء
وفاقی وزیر برائے صحت مصطفیٰ کمال نے میڈیا بریفنگ کے دوران اعلان کیا ہے کہ ملک بھر میں ہیپاٹائٹس سی کی سکریننگ کے عمل کو تیز کیا جا رہا ہے اور 12 سال سے زائد عمر کے تمام افراد اور وزارتِ صحت کے تمام ملازمین کے لیے یہ ٹیسٹ لازمی قرار دیا گیا ہے۔ وفاقی وزیر نے میڈیا بریفنگ کے دوران خود بھی اپنا ہیپاٹائٹس سی ٹیسٹ کروایا جس کی رپورٹ منفی آئی۔ انہوں نے واضح کیا کہ ٹیسٹ نہ کروانے والے سرکاری ملازمین کے خلاف ضابطے کے مطابق کارروائی کی جائے گی جبکہ تمام وفاقی وزارتوں کو بھی مراسلے جاری کیے جا رہے ہیں تاکہ وزراء سمیت تمام ملازمین کی سکریننگ یقینی بنائی جا سکے۔
وفاقی وزیرِ صحت نے بتایا کہ اسلام آباد میں سکریننگ کے لیے 17 پوائنٹس قائم کر دیے گئے ہیں اور نجی ہسپتالوں کو بھی سکریننگ کٹس اور ضروری آلات فراہم کیے جائیں گے۔ پاکستان میں اس وقت تقریباً 1 کروڑ 10 لاکھ افراد ہیپاٹائٹس سی سے متاثر ہیں اور بروقت تشخیص نہ ہونے پر یہ بیماری جگر کے کینسر کا باعث بنتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیرِ اعظم کے پروگرام کے تحت ہیپاٹائٹس سی کے علاج کی تمام ادویات مفت فراہم کی جائیں گی۔ اس کے علاوہ بیرونِ ملک سے ڈی پورٹ ہو کر آنے والے افراد، گلگت بلتستان کے رہائشیوں اور آئندہ تین ماہ تک تمام پروازوں سے آنے والے مسافروں کو بھی اس سکریننگ کے عمل سے گزارنے کا منصوبہ تیار کیا گیا ہے۔
مصطفیٰ کمال کے مطابق سکریننگ کا پورا ڈیٹا تیار کرنے کے لیے نظام کو نادرا اور مردم شماری کے سافٹ ویئر سے منسلک کیا جا رہا ہے، جبکہ شناختی کارڈ کے ریکارڈ سے سکریننگ کو جوڑنے اور بیرونِ ملک سفر سے قبل اسے لازمی قرار دینے کی تجاویز بھی زیرِ غور ہیں۔ پنجاب سے ڈیٹا کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ پنجاب سے ابھی مکمل اعداد و شمار موصول نہیں ہوئے اور وہ اس سلسلے میں خود وزیرِ اعلیٰ پنجاب سے ملاقات کریں گے۔ وفاقی وزیر نے تمام شہریوں سے اپیل کی کہ وہ اس مفت سکریننگ کی سہولت سے فائدہ اٹھائیں اور اپنا ٹیسٹ لازمی کروائیں۔