انقرہ میں نیٹو سربراہی اجلاس کے موقع پر ٹرمپ کی میڈیا سے مقتدر گفتگو؛ نیٹو کارکردگی پر شدید عدم اطمینان، اسپین کے ساتھ تجارت بند کرنے کا حکم

کاشف عباسی , JULY 08,026

انقرہ (نیوز اینڈ نیوز) — 8 جولائی 2026ء

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک انتہائی اہم اور تزویراتی اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ ہونے والی مفاہمت کی یادداشت اب مکمل طور پر ختم ہو چکی ہے، اور امریکی افواج نے گزشتہ رات ایران کے اندر ایک بڑی فوجی کارروائی کی ہے۔ ترکیہ کے دارالحکومت انقرہ میں منعقدہ نیٹو سربراہی اجلاس کے مقتدر موقع پر میڈیا کے نمائندوں سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر نے ایران، نیٹو اتحاد اور اسپین کے حوالے سے انتہائی سخت اور اہم بیانات جاری کیے۔ صدر ٹرمپ نے انکشاف کیا کہ گزشتہ روز ایران نے سعودی عرب اور دیگر ممالک کے تجارتی بحری جہازوں پر حملے کیے تھے، جس کے جواب میں ہم نے گزشتہ رات ایران کے انتہائی خطرناک لوگوں پر بہت طاقتور حملے کیے ہیں۔ انہوں نے سخت الفاظ استعمال کرتے ہوئے کہا کہ وہ بیمار ذہنیت لوگ ہیں، ہم نے ایران کے معاملے میں پہلے ہی بہت زیادہ وقت ضائع کر دیا ہے، اس لیے اب مفاہمت کا وقت ختم ہو چکا ہے اور ہمیں آگے بڑھ کر اپنا کام کرنا ہوگا۔

امریکی صدر نے میڈیا کو بتایا کہ انقرہ میں نیٹو چیف کے ساتھ ان کے انتہائی تعمیری مذاکرات ہوئے ہیں، جس میں بنیادی طور پر ایران کو نیوکلیئر ہتھیاروں سے پاک کرنے کے تزویراتی ہدف پر بات چیت کی گئی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران کسی بھی صورت جوہری ہتھیار حاصل یا برقرار نہیں رکھ سکتا۔ تاہم، صدر ٹرمپ نے نیٹو اتحاد پر کڑی تنقید کرتے ہوئے اسے امریکہ کا ایک مشکل ترین پارٹنر قرار دیا اور کہا کہ وہ نیٹو کی کارکردگی سے بالکل خوش نہیں ہیں کیونکہ اس مقتدر فوجی اتحاد نے ایران کے خلاف امریکی مہم میں مطلوبہ مدد فراہم نہیں کی۔

اس موقع پر امریکی صدر نے اسپین کے خلاف ایک انتہائی سخت اور غیر متوقع موقف اپناتے ہوئے اسے نیٹو کا ایک خوفناک شراکت دار قرار دیا۔ انہوں نے مقتدر اعلان کیا کہ انہوں نے اپنے وزیرِ خزانہ اسکاٹ بیسنٹ کو فوری طور پر اسپین کے ساتھ تمام تر دوطرفہ تجارت بند کرنے کا قطعی حکم دے دیا ہے۔ واضح رہے کہ امریکی صدر کے اس سخت ترین معاشی اقدام کے پیچھے تزویراتی عوامل کارفرما ہیں؛ رواں سال مارچ میں اسپین کی حکومت نے باقاعدہ اعلان کیا تھا کہ امریکہ کو ایران کے خلاف فوجی آپریشنز کے لیے اسپین کی سرزمین پر موجود مشترکہ فوجی اڈے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، اور اس کے ساتھ ہی اسپین نے ممکنہ جنگ میں شامل امریکی جنگی طیاروں کے لیے اپنی فضائی حدود بھی مکمل طور پر بند کر دی تھیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور روسی صدر ولادی میر پیوٹن کے درمیان طویل ٹیلیفونک رابطہ، یوکرین جنگ کے خاتمے پر تفصیلی تبادلۂ خیال

منصور احمد, JULY 05,2026

واشنگٹن/ماسکو (نیوز اینڈ نیوز) — 5 جولائی 2026ء

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور روسی صدر ولادی میر پیوٹن کے درمیان ایک گھنٹہ پچیس منٹ طویل ٹیلیفونک رابطہ ہوا ہے جس میں یوکرین جنگ کی تازہ صورتحال اور اس سے متعلق اہم پیش رفت پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا ہے۔ عالمی میڈیا کے مطابق، کریملن کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ یہ اہم رابطہ انقرہ میں ہونے والے نیٹو کے آئندہ سربراہی اجلاس سے ٹھیک پہلے ہوا ہے۔ روسی صدر کے معاون برائے خارجہ امور یوری اوشاکوف نے تصدیق کی ہے کہ گفتگو کے دوران صدر پیوٹن نے یوکرین محاذ کی موجودہ صورتحال پر تفصیلی بریفنگ دی، جبکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ترکیہ میں نیٹو سربراہی اجلاس کے موقع پر اس دیرینہ تنازعے کے پرامن اور حتمی خاتمے میں مدد فراہم کرنے کی باقاعدہ پیشکش کی ہے۔

روسی حکام کے مطابق، امریکی خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف اور صدر ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر نے بھی ماسکو کے دورے میں گہری دلچسپی ظاہر کی ہے اور وہ اس سلسلے میں اگست کے اختتام سے پہلے روس کا دورہ کر سکتے ہیں، تاہم اس سفارتی دورے کی حتمی تاریخوں کا تعین ہونا ابھی باقی ہے۔ دوسری جانب، یوکرین کے صدر وولودی میر زیلنسکی نے بھی تصدیق کی ہے کہ انہوں نے امریکی یومِ آزادی کی تعطیل کے دوران صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ٹیلیفون پر گفتگو کی ہے، جسے انہوں نے انتہائی تعمیری اور اچھی قرار دیا۔ یوکرینی صدر کا کہنا تھا کہ جنگ کے خاتمے کا حقیقی امکان موجود ہے اور اس عظیم مقصد کے لیے امریکی عزم فیصلہ کن اہمیت رکھتا ہے۔ دونوں رہنماؤں نے اس ہفتے ترکیہ میں ہونے والے نیٹو اجلاس کے موقع پر بات چیت کا یہ تسلسل جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔

واضح رہے کہ نیٹو کا چھتیسواں سربراہی اجلاس سات اور آٹھ جولائی دو ہزار چھبیس کو ترکیہ کے دارالحکومت انقرہ میں منعقد ہو رہا ہے، جہاں یوکرین جنگ، مشرقِ وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال اور یورپی دفاعی منصوبوں جیسے اہم جغرافیائی و سیاسی معاملات میز پر ہوں گے۔ نیٹو حکام کے مطابق، یوکرینی صدر زیلنسکی اتحاد کے رہنماؤں کے خصوصی عشائیے میں تو شرکت کریں گے لیکن وہ مرکزی اجلاس کا حصہ نہیں ہوں گے، تاکہ یوکرین کے معاملے پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ کسی بھی ممکنہ سفارتی اختلاف یا کشیدگی سے بچا جا سکے۔