امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور روسی صدر ولادی میر پیوٹن کے درمیان طویل ٹیلیفونک رابطہ، یوکرین جنگ کے خاتمے پر تفصیلی تبادلۂ خیال

منصور احمد, JULY 05,2026

واشنگٹن/ماسکو (نیوز اینڈ نیوز) — 5 جولائی 2026ء

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور روسی صدر ولادی میر پیوٹن کے درمیان ایک گھنٹہ پچیس منٹ طویل ٹیلیفونک رابطہ ہوا ہے جس میں یوکرین جنگ کی تازہ صورتحال اور اس سے متعلق اہم پیش رفت پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا ہے۔ عالمی میڈیا کے مطابق، کریملن کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ یہ اہم رابطہ انقرہ میں ہونے والے نیٹو کے آئندہ سربراہی اجلاس سے ٹھیک پہلے ہوا ہے۔ روسی صدر کے معاون برائے خارجہ امور یوری اوشاکوف نے تصدیق کی ہے کہ گفتگو کے دوران صدر پیوٹن نے یوکرین محاذ کی موجودہ صورتحال پر تفصیلی بریفنگ دی، جبکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ترکیہ میں نیٹو سربراہی اجلاس کے موقع پر اس دیرینہ تنازعے کے پرامن اور حتمی خاتمے میں مدد فراہم کرنے کی باقاعدہ پیشکش کی ہے۔

روسی حکام کے مطابق، امریکی خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف اور صدر ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر نے بھی ماسکو کے دورے میں گہری دلچسپی ظاہر کی ہے اور وہ اس سلسلے میں اگست کے اختتام سے پہلے روس کا دورہ کر سکتے ہیں، تاہم اس سفارتی دورے کی حتمی تاریخوں کا تعین ہونا ابھی باقی ہے۔ دوسری جانب، یوکرین کے صدر وولودی میر زیلنسکی نے بھی تصدیق کی ہے کہ انہوں نے امریکی یومِ آزادی کی تعطیل کے دوران صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ٹیلیفون پر گفتگو کی ہے، جسے انہوں نے انتہائی تعمیری اور اچھی قرار دیا۔ یوکرینی صدر کا کہنا تھا کہ جنگ کے خاتمے کا حقیقی امکان موجود ہے اور اس عظیم مقصد کے لیے امریکی عزم فیصلہ کن اہمیت رکھتا ہے۔ دونوں رہنماؤں نے اس ہفتے ترکیہ میں ہونے والے نیٹو اجلاس کے موقع پر بات چیت کا یہ تسلسل جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔

واضح رہے کہ نیٹو کا چھتیسواں سربراہی اجلاس سات اور آٹھ جولائی دو ہزار چھبیس کو ترکیہ کے دارالحکومت انقرہ میں منعقد ہو رہا ہے، جہاں یوکرین جنگ، مشرقِ وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال اور یورپی دفاعی منصوبوں جیسے اہم جغرافیائی و سیاسی معاملات میز پر ہوں گے۔ نیٹو حکام کے مطابق، یوکرینی صدر زیلنسکی اتحاد کے رہنماؤں کے خصوصی عشائیے میں تو شرکت کریں گے لیکن وہ مرکزی اجلاس کا حصہ نہیں ہوں گے، تاکہ یوکرین کے معاملے پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ کسی بھی ممکنہ سفارتی اختلاف یا کشیدگی سے بچا جا سکے۔