

کاشف عباسی ,june 30,026
اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 30 جون 2026ء
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات اور ڈپٹی چیئرمین پلاننگ کمیشن احسن اقبال نے واضح کیا ہے کہ حکومت نے معرکہ حق اور معرکہ سفارت کاری میں مقتدر کامیابیاں حاصل کر لی ہیں اور اب پاکستان کو ہر صورت معرکہ معیشت جیتنا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ملکی برآمدات کو اب ایٹمی پروگرام کے مساوی قومی اہمیت دینا ہوگی اور معیشت کو پائیدار بنیادوں پر استوار کرنے کے لیے وفاق اور صوبے مل کر سماجی شعبے کو قومی ایمرجنسی کے طور پر آگے بڑھائیں گے۔ وہ منگل کے روز وزارتِ منصوبہ بندی کی ماہانہ ترقیاتی رپورٹ کے اجراء کے موقع پر میڈیا نمائندگان سے مقتدر خطاب کر رہے تھے۔
احسن اقبال نے معاشی صورتحال کی تشریح کرتے ہوئے بتایا کہ مالی سال 2025-26 کے دوران سیلاب، عالمی تجارتی کشیدگی اور مشرقِ وسطیٰ کے بحران جیسے بیرونی چیلنجز کے باوجود ملکی معیشت تزویراتی استحکام کی راہ پر گامزن رہی۔ انہوں نے بتایا کہ سپلائی چین میں رکاوٹوں کے باوجود شرح نمو 3.7 فیصد ریکارڈ کی گئی ہے جو گزشتہ چار برسوں کی بلند ترین شرح ہے۔ معیشت میں زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، خدمات کی 4.1 فیصد جبکہ صنعتی شعبے کی شرح نمو 3.5 فیصد رہی۔ لارج سکیل مینوفیکچرنگ میں دو سال بعد نمایاں بحالی آئی اور اس شعبے نے 6.4 فیصد کی مقتدر نمو ریکارڈ کی، جس میں آٹو موبائل، الیکٹریکل آلات اور گارمنٹس کے شعبے نمایاں رہے۔ انہوں نے کہا کہ عیدالاضحیٰ 2026 کے دوران ملک میں تقریباً 1.7 کھرب روپے کی معاشی سرگرمیاں ریکارڈ کی گئیں جس نے لیدر، ٹرانسپورٹ اور مویشی منڈیوں کو مقتدر فائدہ پہنچایا۔
وفاقی وزیر نے بتایا کہ بیرونی شعبہ مستحکم رہا اور جولائی تا مئی ترسیلاتِ زر 9.2 فیصد اضافے کے ساتھ 38.1 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جبکہ مئی میں 4.3 ارب ڈالر کی ریکارڈ ترسیلات موصول ہوئیں۔ خدمات کی برآمدات میں 17.4 فیصد اضافہ ہوا جبکہ آئی ٹی برآمدات نے کرنٹ اکاؤنٹ کو مضبوط بنیاد فراہم کی اور ایف بی آر کے محصولات 11.2 کھرب روپے تک پہنچ گئے۔ انہوں نے بتایا کہ قومی اقتصادی کونسل نے مالی سال 2026-27 کے لیے 4 فیصد معاشی شرح نمو کا ہدف اور 3.675 کھرب روپے کے قومی ترقیاتی پروگرام کی منظوری دی ہے، جس میں سے وفاقی پی ایس ڈی پی کے لیے ایک کھرب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ ان ترقیاتی منصوبوں سے تقریباً 10 ہزار براہِ راست اور 45 ہزار سے زائد بالواسطہ روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے، جبکہ موثر منصوبہ بندی کے باعث قومی خزانے کو پہلے ہی 12.1 ارب روپے کی مقتدر بچت ہو چکی ہے۔
احسن اقبال نے بڑھتی ہوئی آبادی کو پاکستان کا سب سے بڑا چیلنج قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’اڑان پاکستان‘ کے تحت خواتین کی مالی شمولیت کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے بلوچستان کو سی پیک کے دوسرے مرحلے کا ابھرتا ہوا مرکز قرار دیتے ہوئے کہا کہ نئے مالی سال میں کراچی-حیدرآباد ایم-9 کی توسیع، سکھر-حیدرآباد ایم-6 موٹر وے، اور سی پیک کے مقتدر ایم ایل ون منصوبے پر پیش رفت کی جائے گی۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ دیامر بھاشا ڈیم کے باعث متاثر ہونے والی قراقرم ہائی وے کے متبادل کے طور پر “قراقرم ہائی وے ٹو” منصوبہ شروع کیا جا رہا ہے تاکہ پاک چین بلا تعطل تجارتی رابطہ قائم رہے، جبکہ اسلام آباد میں “کوانٹم ویلی” بھی قائم کی جائے گی۔ اعلیٰ تعلیم کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) کو ملک بھر کی جامعات کا سات نکاتی پرفارمنس آڈٹ کرنے کی مقتدر ہدایت کر دی گئی ہے جس کی رپورٹ آئندہ چند ہفتوں میں پیش کر کے جامع اصلاحات نافذ کی جائیں گی۔