وزیراعظم محمد شہباز شریف کا بڑا اقدام؛ پروٹیکٹریٹ آف امیگریشن کے پورے نظام کو ڈیجیٹل کرنے اور نوجوانوں کے لیے بیرونِ ملک روزگار کی تلاش تیز کرنے کی سخت ہدایت

کاشف عباسی , JULY 06,026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 6 جولائی 2026ء

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے پروٹیکٹریٹ آف امیگریشن کے تمام تر روایتی نظام کو فوری طور پر ڈیجیٹل کرنے اور بیرونِ ملک قائم پاکستانی سفارتخانوں کو بین الاقوامی سطح پر روزگار کے نئے مواقع سے آگاہی فراہم کرنے کے لیے اقدامات تیز کرنے کی سخت ہدایت جاری کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی افرادی قوت انتہائی باصلاحیت ہے اور حکومت ان کو بین الاقوامی معیار کی فنی تعلیم اور عالمی مارکیٹ تک رسائی دینے کے لیے ہر ممکن اقدامات اٹھا رہی ہے۔ وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق، وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت ملکی نوجوانوں کو روزگار مہیا کرنے کے حوالے سے ایک اہم جائزہ اجلاس پیر کے روز اسلام آباد میں منعقد ہوا۔ اس اعلیٰ سطح کے اجلاس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، وفاقی وزراء ڈاکٹر مصدق ملک، عطاء اللہ تارڑ، چوہدری سالک حسین، وزیر مملکت بلال اظہر کیانی، چیئرمین نیوٹیک راجا قمر الاسلام، چیئرمین وزیراعظم یوتھ پروگرام رانا مشہود احمد خاں اور دیگر متعلقہ اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے سمندر پار پاکستانی سفارتخانوں کو ہدایت کی کہ وہ پاکستانی افرادی قوت کے لیے موزوں روزگار کے مواقع کی تلاش کے عمل میں تیزی لائیں، جبکہ افرادی قوت بالخصوص نوجوانوں کو سمندر پار پاکستانیوں کی وزارت، نیوٹیک اور یوتھ پروگرام کے تحت مختلف اہم ہنر اور بین الاقوامی زبانوں کے کورسز مع تصدیق شدہ اسناد فراہم کرنا یقینی بنائیں۔ وزیراعظم نے پاکستانی اسناد کو بین الاقوامی معیار سے ہم آہنگ کرنے کے لیے تمام متعلقہ اداروں کو مختلف ممالک سے روابط مضبوط کرنے کی بھی ہدایت کی۔ انہوں نے واضح کیا کہ جن ترقی یافتہ ممالک میں پاکستانی ہنرمند افراد کے لیے روزگار کی گنجائش موجود ہے، وہاں کی مقامی زبان کی تعلیم اور سرٹیفیکیشنز کو لازمی بنایا جائے۔ انہوں نے نیوٹیک کے تحت تکنیکی و فنی تربیت کے اداروں کی مجموعی کارکردگی اور مخصوص ممالک کے لیے قائم کیے جانے والے مراکز کی پیشرفت پر تفصیلی رپورٹ بھی طلب کر لی۔

اجلاس کے دوران وزیراعظم کو افرادی قوت بالخصوص نوجوانوں کے لیے اندرون و بیرونِ ملک روزگار کے مواقع پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ بریفنگ میں حکام نے بتایا کہ حکومت کے ڈیجیٹل یوتھ ہب میں اب تک 8 لاکھ سے زائد نوجوان کامیابی سے رجسٹر ہو چکے ہیں۔ اس وقت بیرونِ ملک تعمیرات، زراعت، سیاحت، صحت، ٹرانسپورٹ، بائیوٹیکنالوجی، مینوفیکچرنگ، انفارمیشن ٹیکنالوجی، انجینئرنگ، نرسنگ، ادویہ سازی، اشیائے خوردونوش کی تیاری اور جہاز سازی کے شعبوں میں بڑے پیمانے پر روزگار کے مواقع دستیاب ہیں۔ بریفنگ کے مطابق، ان تمام اہم شعبوں میں پاکستانیوں کو کھپانے کے لیے خصوصی تربیتی پروگرام باقاعدگی سے جاری ہیں، جبکہ سمندر پار متعین پاکستانی سفارتخانے مختلف ممالک میں میسر ملازمتوں اور ان کے لیے درکار اہلیت کا تمام تر ڈیٹا ڈیجیٹل یوتھ ہب پورٹل پر باقاعدگی سے فراہم کریں گے تاکہ نوجوانوں کو براہِ راست رسائی حاصل ہو سکے۔

وسائل اور آبادی میں توازن ہی پائیدار ترقی کی ضمانت ہے، بڑھتی آبادی قومی ترقی کے لیے بڑا چیلنج ہے، وزیراعظم محمد شہباز شریف

کاشف عباسی ,june 30,026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 30 جون 2026ء

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے بہبودِ آبادی کے حوالے سے ایک اعلیٰ سطحی تزویراتی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ قومی وسائل اور آبادی کے مابین کامل توازن ہی ملک کی پائیدار ترقی اور معاشی بقا کی اصل ضمانت ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کے باعث قومی وسائل پر دباؤ مسلسل بڑھ رہا ہے، جو پاکستان کی مجموعی ترقی اور استحکام کے لیے اس وقت سب سے بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ منگل کے روز وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ سے جاری کردہ مقتدر بیان کے مطابق، وزیراعظم نے زور دیا کہ آبادی کی منصوبہ بندی کو قومی ترقی، معاشی استحکام اور انسانی وسائل کی بہتری کے ساتھ فوری طور پر ہم آہنگ کرنے کی تزویراتی ضرورت ہے۔

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے “نیشنل پاپولیشن کونسل” کا افتتاحی اجلاس جلد از جلد بلانے اور قومی سطح پر مربوط پالیسی سازی کے لیے کونسل کا تنظیمی ڈھانچہ فوری طور پر مرتب کرنے کی سخت ہدایت جاری کی ہے۔ اس مقتدر کونسل کی سربراہی خود وزیراعظم کریں گے، جبکہ اس میں چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ، وزیراعظم آزاد جموں و کشمیر، وزیراعلیٰ گلگت بلتستان اور دیگر اہم ترین اسٹیک ہولڈرز کو شامل کیا جائے گا۔ اجلاس کے دوران ملک کی بڑھتی ہوئی آبادی پر کنٹرول اور بہبود کے حوالے سے کی جانے والی کوششوں پر تفصیلی بریفنگ دی گئی، جس میں بتایا گیا کہ مستقبل میں سماجی تحفظ کے پروگراموں (جیسے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام وغیرہ) کو خاندانی منصوبہ بندی سے جوڑا جائے گا، جبکہ خواتین کی تعلیم اور انہیں معاشی طور پر بااختیار بنانا اس قومی حکمتِ عملی کا کلیدی جزو ہوگا۔

اجلاس کو بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ آبادی میں توازن کے حوالے سے ملک بھر میں ایک مؤثر آگاہی مہم چلائی جائے گی، اور اس ضمن میں برادر اسلامی ممالک بنگلہ دیش، انڈونیشیا اور ایران کے آبادی پر قابو پانے کے کامیاب ترین ماڈلز سے استفادہ کیا جائے گا۔ نیشنل پاپولیشن کونسل کا مرکزی سیکریٹریٹ وزارتِ منصوبہ بندی و ترقی میں قائم ہوگا جو صوبائی حکومتوں کے تعاون سے اس مہم کو تزویراتی طور پر آگے بڑھائے گا۔ اس اہم ترین اور مقتدر اجلاس میں چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، وزیر دفاع خواجہ محمد آصف، وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال، وفاقی وزیر خزانہ و محصولات محمد اورنگزیب، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ، وزیر مملکت برائے خزانہ و ریلوے بلال اظہر کیانی اور دیگر اعلیٰ ترین عسکری و سرکاری حکام نے شرکت کی۔