ملکی معیشت کی پائیدار ترقی کے لیے ایس ایم ای سیکٹر کو قرضوں کی فراہمی میں نمایاں اضافہ کیا جائے، وزیراعظم شہباز شریف

کاشف عباسی , JULY 10,026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 10 جولائی 2026ء

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے پاکستان کی پائیدار معاشی ترقی کے لیے مختلف پیداواری شعبوں کو آسان شرائط پر مالی سہولیات کی فراہمی کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے ملک کے تمام بینکوں کو سخت ہدایت کی ہے کہ وہ ترجیحی شعبوں بالخصوص ایس ایم ای سیکٹر کے لیے قرضوں کے اجراء میں نمایاں اضافہ کریں۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت پاکستان میں ‘ایکسیس ٹو فائنانس’ کے فروغ کے حوالے سے ایک اعلیٰ سطحی تزویراتی اجلاس جمعہ کو یہاں منعقد ہوا۔ وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ کی طرف سے جاری کردہ مقتدر بیان کے مطابق، اجلاس میں وزیراعظم کو ‘ایکسیس ٹو فائنانس پلان’ پر تفصیلی بریفنگ دی گئی اور معاشی استحکام سے پائیدار معاشی ترقی کے سفر کو تیز کرنے کے لیے پلان کی ترجیحات اور اہداف پر روشنی ڈالی گئی۔

بریفنگ میں مقتدر حکام کو بتایا گیا کہ اس اہم منصوبے کا مرکزی نکتہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار (ایس ایم ایز)، زراعت، برآمدات، قابل تجدید توانائی، ہاؤسنگ اور آئی ٹی کے شعبوں کے لیے آسان قرضوں اور کریڈٹ تک رسائی کو بڑھانا ہے، تاکہ برآمدات میں اضافہ، پائیدار معاشی ترقی اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کیے جا سکیں۔ اس تزویراتی منصوبے پر عملدرآمد کے لیے وزارتِ خزانہ، اسٹیٹ بینک آف پاکستان، صوبائی حکومتوں اور متعلقہ اداروں پر مشتمل پورے نظام پر مبنی طریقہ کار اختیار کیا جائے گا۔ وفاقی وزیرِ خزانہ اس نئے گورننس اسٹرکچر کی سربراہی کریں گے جبکہ گورنر اسٹیٹ بینک آف پاکستان اس کے شریک سربراہ ہوں گے۔ اس اسٹرکچر کے تحت باقاعدہ اجلاس منعقد ہوں گے اور وزیراعظم کو ہر ماہ اس تزویراتی پیش رفت سے باقاعدگی سے آگاہ کیا جائے گا، جس کے تحت اگلے 2 سال کے لیے پرعزم اہداف مقرر کیے گئے ہیں۔

وزیراعظم شہباز شریف نے اجلاس سے مقتدر خطاب کرتے ہوئے واضح کیا کہ ایس ایم ای سیکٹر ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے، اور آسان شرائط پر فنڈز کی دستیابی سے ہی برآمدات پر مبنی معیشت کا خواب پورا ہو سکتا ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ مالی سہولیات کی فراہمی میں بہتر اور بہترین کارکردگی دکھانے والے بینکوں کی حکومتی سطح پر حوصلہ افزائی کی جائے گی، جبکہ اس پلان پر پیش رفت کے حوالے سے ماہانہ جائزہ اجلاس کی صدارت وہ خود کریں گے۔ بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ اس پلان کے تحت نجی شعبے کے مجموعی قرضوں میں ایس ایم ای سیکٹر کا حصہ موجودہ 7 فیصد سے بڑھا کر اگلے 2 سال میں 10 فیصد کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، جبکہ ایس ایم ای شعبے میں قرضوں سے مستفید ہونے والے افراد اور کاروباروں کی تعداد کو 310,000 سے بڑھا کر اگلے 2 سال میں 750,000 تک پہنچایا جائے گا۔

اجلاس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، وفاقی وزراء رانا تنویر حسین، اعظم نذیر تارڑ، احد خان چیمہ، محمد اورنگزیب، عطاء اللہ تارڑ، وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی، معاون خصوصی ہارون اختر، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد، پاکستانی بینکوں کے صدور و سی ای اوز ، صوبائی چیف سیکرٹریز اور اعلیٰ سرکاری حکام نے شرکت کی اور معاشی استحکام کے اس تزویراتی روڈ میپ پر مکمل یکسوئی کا اظہار کیا۔

وزیراعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت کوئٹہ میں صوبائی اپیکس کمیٹی کا مقتدر اجلاس، بلوچستان کی امن و امان کی صورتحال کا تفصیلی جائزہ

کاشف عباسی , JULY 09,026

کوئٹہ (نیوز اینڈ نیوز) — 9 جولائی 2026ء

وزیراعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت کوئٹہ میں صوبائی اپیکس کمیٹی کا ایک اعلیٰ سطحی اور مقتدر اجلاس منعقد ہوا، جس میں بلوچستان کی مجموعی امن و امان کی صورتحال کا تفصیلی تزویراتی جائزہ لیا گیا۔ قومی ایکشن پلان (نیشنل ایکشن پلان) کے اس اہم ترین اجلاس میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، گورنر اور وزیراعلیٰ بلوچستان کے علاوہ وفاقی وزرا عطا تارڑ، احد چیمہ، وزیراعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ اور قانون نافذ کرنے والے مقتدر اداروں کے سربراہان نے شرکت کی۔ اجلاس کے دوران صوبے میں پائیدار امن و استحکام کے قیام سے متعلق کئی اہم تزویراتی فیصلوں اور انتظامی اقدامات کی منظوری دی گئی۔

تفصیلات کے مطابق، وزیراعظم شہباز شریف نے اجلاس میں مقتدر اظہارِ خیال کرتے ہوئے واضح کیا کہ دہشت گردی کے فتنے کے مکمل خاتمے کے لیے ریاست اپنے تمام وسائل بروئے کار لائے گی اور آخری فسادی و دہشت گرد کے خاتمے تک یہ جنگ بلا تفریق جاری رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے حالیہ واقعات میں پولیس اور فوج کے جوانوں سمیت متعدد شہری شہید ہوئے ہیں، اور افواجِ پاکستان نے ملکی سلامتی کے لیے بڑی قربانیاں دے کر اپنے خون کا نذرانہ پیش کیا ہے، جس پر پوری قوم سکیورٹی فورسز کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑی ہے۔ وزیراعظم کا واشگاف الفاظ میں کہنا تھا کہ ان مزموم واقعات میں ہمارے مشرقی ہمسائے کا ہاتھ ہے، جہاں سے دہشت گرد تنظیموں کو اسلحہ اور فنڈز فراہم کیے جا رہے ہیں، جبکہ یہ دہشت گرد افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال کر رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ خیبرپختونخوا میں بھی دہشت گردی کی کارروائیوں میں خارجی ملوث ہیں، تاہم ملک کی سیاسی و عسکری قیادت فتنہ الخوارج کے مذموم عزائم کو ناکام بنانے کے لیے مکمل طور پر یکسو ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ سال مئی میں معرکہ حق کی کامیابی اور پاکستان کی حالیہ سفارتی کامیابیاں دشمنوں کو ہضم نہیں ہو رہیں، مگر شہدا کی قربانیاں ضرور رنگ لائیں گی اور پاکستان جلد ترقی و خوشحالی کا گہوارہ بنے گا۔

واضح رہے کہ بدھ کے روز ایک اہم پریس کانفرنس کے دوران ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر (ڈی جی آئی ایس پی آر) لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے میڈیا کو بتایا تھا کہ گزشتہ 4 روز کے دوران صوبہ بلوچستان میں دہشت گردی کے 3 بڑے واقعات رونما ہوئے، جن میں 42 قیمتی جانیں ضائع ہوئیں، جبکہ سکیورٹی فورسز کی بھرپور جوابی کارروائی میں 54 خارجیوں کو جہنم واصل کر دیا گیا۔ انہوں نے واضح کیا تھا کہ ان بزدلانہ حملوں کا بنیادی مقصد شہریوں میں خوف و ہراس پھیلانا تھا اور یہ سب کچھ بھارت کی سرپرستی میں کروایا جا رہا ہے، تاہم بلوچستان کے بہادر عوام اور فورسز نے دشمن کے اس ایجنڈے کا دلیری سے مقابلہ کرتے ہوئے اسے ناکام بنا دیا ہے۔

وزیراعظم محمد شہباز شریف کا بڑا اقدام؛ پروٹیکٹریٹ آف امیگریشن کے پورے نظام کو ڈیجیٹل کرنے اور نوجوانوں کے لیے بیرونِ ملک روزگار کی تلاش تیز کرنے کی سخت ہدایت

کاشف عباسی , JULY 06,026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 6 جولائی 2026ء

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے پروٹیکٹریٹ آف امیگریشن کے تمام تر روایتی نظام کو فوری طور پر ڈیجیٹل کرنے اور بیرونِ ملک قائم پاکستانی سفارتخانوں کو بین الاقوامی سطح پر روزگار کے نئے مواقع سے آگاہی فراہم کرنے کے لیے اقدامات تیز کرنے کی سخت ہدایت جاری کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی افرادی قوت انتہائی باصلاحیت ہے اور حکومت ان کو بین الاقوامی معیار کی فنی تعلیم اور عالمی مارکیٹ تک رسائی دینے کے لیے ہر ممکن اقدامات اٹھا رہی ہے۔ وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق، وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت ملکی نوجوانوں کو روزگار مہیا کرنے کے حوالے سے ایک اہم جائزہ اجلاس پیر کے روز اسلام آباد میں منعقد ہوا۔ اس اعلیٰ سطح کے اجلاس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، وفاقی وزراء ڈاکٹر مصدق ملک، عطاء اللہ تارڑ، چوہدری سالک حسین، وزیر مملکت بلال اظہر کیانی، چیئرمین نیوٹیک راجا قمر الاسلام، چیئرمین وزیراعظم یوتھ پروگرام رانا مشہود احمد خاں اور دیگر متعلقہ اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے سمندر پار پاکستانی سفارتخانوں کو ہدایت کی کہ وہ پاکستانی افرادی قوت کے لیے موزوں روزگار کے مواقع کی تلاش کے عمل میں تیزی لائیں، جبکہ افرادی قوت بالخصوص نوجوانوں کو سمندر پار پاکستانیوں کی وزارت، نیوٹیک اور یوتھ پروگرام کے تحت مختلف اہم ہنر اور بین الاقوامی زبانوں کے کورسز مع تصدیق شدہ اسناد فراہم کرنا یقینی بنائیں۔ وزیراعظم نے پاکستانی اسناد کو بین الاقوامی معیار سے ہم آہنگ کرنے کے لیے تمام متعلقہ اداروں کو مختلف ممالک سے روابط مضبوط کرنے کی بھی ہدایت کی۔ انہوں نے واضح کیا کہ جن ترقی یافتہ ممالک میں پاکستانی ہنرمند افراد کے لیے روزگار کی گنجائش موجود ہے، وہاں کی مقامی زبان کی تعلیم اور سرٹیفیکیشنز کو لازمی بنایا جائے۔ انہوں نے نیوٹیک کے تحت تکنیکی و فنی تربیت کے اداروں کی مجموعی کارکردگی اور مخصوص ممالک کے لیے قائم کیے جانے والے مراکز کی پیشرفت پر تفصیلی رپورٹ بھی طلب کر لی۔

اجلاس کے دوران وزیراعظم کو افرادی قوت بالخصوص نوجوانوں کے لیے اندرون و بیرونِ ملک روزگار کے مواقع پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ بریفنگ میں حکام نے بتایا کہ حکومت کے ڈیجیٹل یوتھ ہب میں اب تک 8 لاکھ سے زائد نوجوان کامیابی سے رجسٹر ہو چکے ہیں۔ اس وقت بیرونِ ملک تعمیرات، زراعت، سیاحت، صحت، ٹرانسپورٹ، بائیوٹیکنالوجی، مینوفیکچرنگ، انفارمیشن ٹیکنالوجی، انجینئرنگ، نرسنگ، ادویہ سازی، اشیائے خوردونوش کی تیاری اور جہاز سازی کے شعبوں میں بڑے پیمانے پر روزگار کے مواقع دستیاب ہیں۔ بریفنگ کے مطابق، ان تمام اہم شعبوں میں پاکستانیوں کو کھپانے کے لیے خصوصی تربیتی پروگرام باقاعدگی سے جاری ہیں، جبکہ سمندر پار متعین پاکستانی سفارتخانے مختلف ممالک میں میسر ملازمتوں اور ان کے لیے درکار اہلیت کا تمام تر ڈیٹا ڈیجیٹل یوتھ ہب پورٹل پر باقاعدگی سے فراہم کریں گے تاکہ نوجوانوں کو براہِ راست رسائی حاصل ہو سکے۔

وسائل اور آبادی میں توازن ہی پائیدار ترقی کی ضمانت ہے، بڑھتی آبادی قومی ترقی کے لیے بڑا چیلنج ہے، وزیراعظم محمد شہباز شریف

کاشف عباسی ,june 30,026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 30 جون 2026ء

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے بہبودِ آبادی کے حوالے سے ایک اعلیٰ سطحی تزویراتی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ قومی وسائل اور آبادی کے مابین کامل توازن ہی ملک کی پائیدار ترقی اور معاشی بقا کی اصل ضمانت ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کے باعث قومی وسائل پر دباؤ مسلسل بڑھ رہا ہے، جو پاکستان کی مجموعی ترقی اور استحکام کے لیے اس وقت سب سے بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ منگل کے روز وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ سے جاری کردہ مقتدر بیان کے مطابق، وزیراعظم نے زور دیا کہ آبادی کی منصوبہ بندی کو قومی ترقی، معاشی استحکام اور انسانی وسائل کی بہتری کے ساتھ فوری طور پر ہم آہنگ کرنے کی تزویراتی ضرورت ہے۔

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے “نیشنل پاپولیشن کونسل” کا افتتاحی اجلاس جلد از جلد بلانے اور قومی سطح پر مربوط پالیسی سازی کے لیے کونسل کا تنظیمی ڈھانچہ فوری طور پر مرتب کرنے کی سخت ہدایت جاری کی ہے۔ اس مقتدر کونسل کی سربراہی خود وزیراعظم کریں گے، جبکہ اس میں چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ، وزیراعظم آزاد جموں و کشمیر، وزیراعلیٰ گلگت بلتستان اور دیگر اہم ترین اسٹیک ہولڈرز کو شامل کیا جائے گا۔ اجلاس کے دوران ملک کی بڑھتی ہوئی آبادی پر کنٹرول اور بہبود کے حوالے سے کی جانے والی کوششوں پر تفصیلی بریفنگ دی گئی، جس میں بتایا گیا کہ مستقبل میں سماجی تحفظ کے پروگراموں (جیسے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام وغیرہ) کو خاندانی منصوبہ بندی سے جوڑا جائے گا، جبکہ خواتین کی تعلیم اور انہیں معاشی طور پر بااختیار بنانا اس قومی حکمتِ عملی کا کلیدی جزو ہوگا۔

اجلاس کو بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ آبادی میں توازن کے حوالے سے ملک بھر میں ایک مؤثر آگاہی مہم چلائی جائے گی، اور اس ضمن میں برادر اسلامی ممالک بنگلہ دیش، انڈونیشیا اور ایران کے آبادی پر قابو پانے کے کامیاب ترین ماڈلز سے استفادہ کیا جائے گا۔ نیشنل پاپولیشن کونسل کا مرکزی سیکریٹریٹ وزارتِ منصوبہ بندی و ترقی میں قائم ہوگا جو صوبائی حکومتوں کے تعاون سے اس مہم کو تزویراتی طور پر آگے بڑھائے گا۔ اس اہم ترین اور مقتدر اجلاس میں چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، وزیر دفاع خواجہ محمد آصف، وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال، وفاقی وزیر خزانہ و محصولات محمد اورنگزیب، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ، وزیر مملکت برائے خزانہ و ریلوے بلال اظہر کیانی اور دیگر اعلیٰ ترین عسکری و سرکاری حکام نے شرکت کی۔