

کاشف عباسی , JULY 20,026
اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 20 جولائی 2026ء
سپریم کورٹ آف پاکستان نے ٹیکس قوانین کے حوالے سے ایک انتہائی مقتدر اور تزویراتی فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا ہے کہ فیکٹری یا کسی بھی صنعتی ڈھانچے کی تعمیر میں استعمال ہونے والے سیمنٹ اور اسٹیل پر ٹیکس کی واپسی یا ایڈجسٹمنٹ کا دعویٰ قانون کے مطابق بالکل قابلِ قبول نہیں ہے، جبکہ سیلز ٹیکس قوانین کی تشریح سے متعلق معاملات محض حقائق کا تنازع نہیں بلکہ انتہائی اہم اور بنیادی قانونی سوالات ہیں۔ عدالتِ عظمیٰ نے محکمہ ان لینڈ ریونیو کی اپیل منظور کرتے ہوئے سندھ ہائی کورٹ اور اپیلیٹ ٹریبونل ان لینڈ ریونیو کے سابقہ فیصلوں کو سراسر کالعدم قرار دے کر محکمے کا اصل فیصلہ بحال کر دیا ہے۔
چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی، جسٹس عرفان سعادت خان اور جسٹس شکیل احمد پر مشتمل تین رکنی مقتدر بینچ نے کمشنر ان لینڈ ریونیو زون ٹو، لارج ٹیکس پیئرز یونٹ کراچی کی جانب سے باوانی شوگر ملز لمیٹڈ کے خلاف دائر سول اپیل کا تفصیلی محفوظ فیصلہ جاری کیا۔ جسٹس عرفان سعادت خان کی جانب سے تحریر کردہ 12 صفحات پر مشتمل اس تزویراتی فیصلے کے مطابق، ٹیکس دہندہ کمپنی نے جولائی سے دسمبر 2013ء کے دوران اپنی فیکٹری کی تعمیر میں استعمال ہونے والے سیمنٹ اور اسٹیل پر ٹیکس ایڈجسٹمنٹ کا دعویٰ کیا تھا، جسے محکمہ ان لینڈ ریونیو نے سیلز ٹیکس ایکٹ 1990ء اور متعلقہ سرکاری نوٹیفیکیشنز کی صریح خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا تھا؛ تاہم بعد میں اپیلیٹ ٹریبونل اور سندھ ہائی کورٹ نے محکمے کے خلاف کمپنی کے حق میں فیصلے دیے تھے جنہیں اب سپریم کورٹ نے تادیبی طور پر معطل کر دیا ہے۔
سپریم کورٹ نے اپنے مقتدر فیصلے میں اہم قانونی نکات واضح کرتے ہوئے قرار دیا کہ سیلز ٹیکس ایکٹ 1990ء کی متعلقہ دفعہ بنیادی طور پر صرف قابلِ ٹیکس اشیاء کی فراہمی پر لاگو ہوتی ہے، جبکہ فیکٹریوں اور دیگر غیر منقولہ تعمیرات کو کسی صورت قابلِ ٹیکس اشیاء قرار نہیں دیا جا سکتا۔ عدالت نے صائب الفاظ میں کہا کہ قانون کے تحت تعمیراتی سامان، خصوصاً سیمنٹ اور اسٹیل پر ٹیکس کی واپسی کی اجازت ہرگز نہیں دی جا سکتی کیونکہ یہ سامان مستقل طور پر غیر منقولہ جائیداد کا حصہ بن جاتا ہے۔ مزید برآں، عدالت نے واضح کیا کہ سیلز ٹیکس ایکٹ کے تحت ٹیکس کے دعوے کے لیے تمام کاروباری ادائیگیاں مقررہ بینکنگ چینل کے ذریعے ہونا ایک لازمی اور تادیبی شرط ہے، اور اس شرط پر عمل نہ ہونے کی صورت میں ٹیکس کا دعویٰ خود بخود خارج ہو جاتا ہے۔
عدالتِ عظمیٰ نے یہ مقتدر قانونی اصول بھی دہرایا کہ قانون کے کسی نکتے پر فریق یا اس کے وکیل کی جانب سے نادانی میں کیا گیا اعتراف عدالت کو پابند نہیں کرتا کیونکہ قانون کے خلاف کوئی عذر قبول نہیں ہو سکتا۔ فیصلے میں کہا گیا کہ قانون کی درست اور شفاف تشریح کرنا عدالت کی آئینی ذمہ داری ہے، اس لیے کسی سرکاری نمائندے کی قانونی رعایت کو بنیاد بنا کر آئین و قانون سے انحراف نہیں کیا جا سکتا۔ سپریم کورٹ نے رولنگ دی کہ سندھ ہائی کورٹ اور اپیلیٹ ٹریبونل نے معاملے کو محض حقائق کا تنازع قرار دے کر فاش غلطی کی، چنانچہ دونوں بنیادی قانونی سوالات محکمہ ان لینڈ ریونیو کے حق میں اور ٹیکس دہندہ شوگر مل کے خلاف طے کرتے ہوئے کمپنی کا دعویٰ مستقل طور پر مسترد کر دیا گیا ہے۔