

کاشف عباسی ,june 22,2026
اسلام آباد (سیاسی رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 23 جون 2026ء
امریکہ اور ایران کے درمیان سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے تاریخ ساز امن بریک تھرو پر ملک کے سیاسی اور حکومتی حلقوں میں تزویراتی بحث تیز ہو گئی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مقتدر رہنما اور سینیٹر ہمایوں مہمند نے دوٹوک مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکراتی عمل میں کامیابی کے پیچھے بنیادی، کلیدی اور فیصلہ کن کردار صرف اور صرف چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا تھا، اس لیے اس عظیم سفارتی کامیابی کا کریڈٹ کسی اور سیاسی شخصیت کو دینے کی قطعی ضرورت نہیں۔
نجی ٹی وی کے مقتدر ٹاک شو میں خصوصی گفتگو کرتے ہوئے سینیٹر ہمایوں مہمند کا کہنا تھا کہ خود امریکی نائب صدر جے ڈی وینس عالمی میڈیا کے سامنے اس بات کا اعتراف کر چکے ہیں کہ اس انتہائی پیچیدہ مذاکراتی عمل میں فیلڈ مارشل عاصم منیر شروع دن سے واشنگٹن کے ساتھ کھڑے رہے اور انہوں نے ہی اسے ممکن بنایا۔ انہوں نے واضح کیا کہ آرمی چیف کی ان انتھک اور کامیاب سفارتی کوششوں کو کسی بھی سیاسی مہرے کے کھاتے میں ڈالنا مناسب نہیں۔ سینیٹر ہمایوں مہمند نے ایران پر عائد عالمی پابندیوں میں ممکنہ نرمی یا خاتمے کے پاکستان پر اثرات کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ اس پیش رفت سے پاکستان کو معاشی طور پر براہِ راست اور زبردست فائدہ پہنچے گا، جس سے پاک-ایران گیس پائپ لائن اور پیٹرولیم مصنوعات کی سستی درآمد کے امکانات روشن ہوں گے اور ملکی توانائی بحران پر ہمیشہ کے لیے قابو پایا جا سکے گا۔ تاہم انہوں نے زور دیا کہ حکومت کو ان منصوبوں میں شفافیت کو مقدم رکھنا ہو گا۔
دوسری جانب، وفاقی وزیرِ مملکت برائے قانون و انصاف بیرسٹر عقیل ملک نے بھی پروگرام میں حکومت کا تزویراتی مؤقف پیش کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ اور ایران کے مابین یہ کامیاب مذاکرات پاکستان کے لیے نئے معاشی، سفارتی اور تزویراتی مواقع کا دروازہ کھول رہے ہیں۔ بیرسٹر عقیل ملک کا کہنا تھا کہ تہران پر پابندیوں میں متوقع نرمی کے نتیجے میں پاک-ایران گیس پائپ لائن منصوبے، بجلی کی فراہمی اور دوطرفہ تجارت میں حائل تمام قانونی رکاوٹیں دور ہو جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو اس مقتدر سفارتی موقع سے بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے ایران کے ساتھ اپنے معاشی اور تجارتی روابط کو فوری طور پر نئی بلندیوں پر لے جانا چاہیے تاکہ ملکی معیشت کو پائیدار استحکام حاصل ہو سکے۔ ‘نیوز اینڈ نیوز’ کے سیاسی مبصرین کے مطابق، اگرچہ کریڈٹ لینے کی جنگ جاری ہے، تاہم تمام سیاسی و عسکری مہرے اس بات پر مکمل متفق ہیں کہ خطے میں کشیدگی کا خاتمہ پاکستان کی خوشحالی کا ضامن ہے۔