

منصور احمد, JULY 22,2026
اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 22 جولائی 2026ء
وفاقی وزیرِ ریلوے محمد حنیف عباسی سے ایران کے وزیرِ داخلہ اسکندر مومنی نے ایک اعلیٰ سطح کے وفد کے ہمراہ اہم ملاقات کی، جس میں پاکستان میں ایران کے سفیر ڈاکٹر رضا امیری مقدم بھی موجود تھے۔ ملاقات کے دوران دونوں برادر ممالک کے درمیان ریلوے تعاون، سرحد پار رابطوں اور باہمی تجارت کے فروغ پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔
اس موقع پر ‘اسلام آباد-تہران-استنبول’ مال بردار ٹرین سروس کی بحالی پر گفتگو کے ساتھ ساتھ 1959ء کے دوطرفہ ریلوے معاہدے اور 2025ء کے تعاون کے فریم ورک کے تحت تکنیکی و تجارتی روابط کو مزید وسعت دینے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔
وفاقی وزیرِ ریلوے حنیف عباسی نے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ‘مین لائن تھری’ پاکستان اور ایران کے درمیان ریلوے رابطے کا بنیادی کوریڈور ہے۔ اس اہم ریلوے لائن کی اپ گریڈیشن کا کام اسی مالی سال کے دوران شروع ہونے کی توقع ہے جو دسمبر 2029ء تک مکمل ہوگا، جس سے علاقائی تجارت کو غیر معمولی فروغ حاصل ہوگا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ایرانی ریلوے کی درخواست پر تفتان ریلوے اسٹیشن کو باقاعدہ طور پر ‘کسٹمز کلیئرنس اسٹیشن’ کا درجہ دے دیا گیا ہے تاکہ سرحد پار مال برداری کا عمل آسان بنایا جا سکے۔
حنیف عباسی نے زاہدان سے تفتان کے ریلوے سیکشن کی بحالی پر ایرانی اقدامات کو سراہا اور حالیہ چیلنجز کے دوران ایرانی قوم اور قیادت کی استقامت کو خراجِ تحسین پیش کیا۔
ایرانی وزیرِ داخلہ اسکندر مومنی نے گرمجوش میزبانی پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ پاک ایران تعلقات تاریخی، مضبوط اور انتہائی گہرے ہیں جو گزشتہ دو سالوں میں مثالی سطح تک پہنچے ہیں۔ انہوں نے حالیہ کشیدگی کے دوران پاکستان کی غیر متزلزل حمایت، بالخصوص وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی مؤثر سفارتی کاوشوں اور مخلصانہ کوششوں کو شاندار الفاظ میں خراجِ تحسین پیش کیا۔ ایرانی وزیرِ داخلہ کا کہنا تھا کہ مشکل وقت میں پاکستان کے اس برادرانہ اور مخلصانہ کردار کو ایرانی قوم ہمیشہ قدر کی نگاہ سے دیکھے گی اور یاد رکھے گی۔