

منصور احمد, JULY 22,2026
اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 22 جولائی 2026ء
وفاقی وزیرِ قومی صحت سید مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ پاک چین بزنس ٹو بزنس فارماسیوٹیکل اینڈ ہیلتھ کیئر انویسٹمنٹ کانفرنس میں فارماسیوٹیکل سیکٹر کے چھ اہم ذیلی شعبوں پر خصوصی توجہ دی گئی، جس کا بنیادی مقصد پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاری، جدید ٹیکنالوجی کی منتقلی اور مقامی صنعت کو فروغ دینا ہے۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے انکشاف کیا کہ پاکستان میں اس وقت استعمال ہونے والی تمام 13 بنیادی ویکسینز مکمل طور پر بیرونِ ملک سے درآمد کی جاتی ہیں، تاہم موجودہ حکومت نے ملک کی تاریخ کی پہلی ‘قومی ویکسین پالیسی’ تیار کر لی ہے، جو جلد ہی مقامی سطح پر ویکسینز کی تیاری اور پیداوار کی راہ ہموار کرے گی۔ انہوں نے بتایا کہ اس وقت پاکستان اپنی ضرورت کی 85 فیصد ادویات خود تیار کرتا ہے، تاہم ان ادویات کی تیاری میں استعمال ہونے والا 95 فیصد خام مال باہر سے منگوانا پڑتا ہے۔
مصطفیٰ کمال نے دو روزہ پاک چین کانفرنس کے کامیابی سے انعقاد کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ وزارتِ صحت کی ٹیم نے پاکستانی اور چینی کمپنیوں کے درمیان مؤثر روابط قائم کروائے، جس کے نتیجے میں کانفرنس میں 240 وفود اور 140 چینی کمپنیوں نے شرکت کی اور 340 دوطرفہ کاروباری ملاقاتیں ہوئیں۔ اس موقع پر 22 کمپنیوں نے 629.5 ملین امریکی ڈالر مالیت کے حتمی تجارتی معاہدوں پر دستخط کیے، جبکہ 800 ملین امریکی ڈالر مالیت کی مفاہمتی یادداشتوں پر بھی دستخط ہوئے۔ وزیرِ اعظم کی موجودگی میں 9 اہم ترین معاہدوں پر باقاعدہ دستخط کروائے گئے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان کی آبادی 26 کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے اور ہر سال ملک میں نیوزی لینڈ کی کل آبادی کے برابر نئے افراد کا اضافہ ہو رہا ہے، جس کے باعث صحت کا شعبہ مستقل ترقی پذیر ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ پاکستان اس وقت دنیا کے 52 ممالک کو ادویات برآمد کر رہا ہے۔ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی (ڈریپ) میں اصلاحات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیکل ڈیوائسز کی رجسٹریشن کا عمل ڈیجیٹل کر دیا گیا ہے اور آئندہ ایک سال کے اندر ڈریپ کے پورے نظام کو 100 فیصد ڈیجیٹلائز کر دیا جائے گا۔