

کاشف عباسی , JULY 19,026
سوات (نیوز اینڈ نیوز) — 19 جولائی 2026ء
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی چیئرمین عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان نے خیبر پختونخوا کے غیرت مند عوام پر زور دیا ہے کہ وہ ملکی بقا اور حقیقی آزادی کی اس جاری تحریک میں فرنٹ لائن پر مزاحمت کریں اور پنجاب کے عوام کو بھی اپنے ساتھ لے کر آگے بڑھیں. انہوں نے واضح کیا کہ اب گھروں میں بیٹھنے کا نہیں بلکہ سڑکوں پر نکلنے کا وقت آ گیا ہے کیونکہ موجودہ قابض حکمرانوں نے تحریک انصاف کی 100 سے زائد انتخابی سیٹیں دانستہ چوری کی ہیں. سوات کے علاقے کبل چوک میں ایک مقتدر اور بڑے عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے صائب الفاظ میں کہا کہ جب بانیٔ پی ٹی آئی عمران خان بدترین حالات میں جیل میں ہونے کے باوجود سرنڈر کرنے کو تیار نہیں ہیں، تو پاکستان کے عوام بھی ان ظالموں کے سامنے کبھی اپنا سر نہیں جھکائیں گے.
علیمہ خان نے دورانِ خطاب انکشاف کیا کہ گزشتہ سال 2 دسمبر کو عمران خان نے جیل سے میری بہن سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہمارا نصب العین ‘آزادی یا موت’ ہے. انہوں نے جذباتی انداز میں کہا کہ عمران خان نے آزادی یا موت کی بات کی تھی لیکن میں آج اس مقتدر اسٹیج سے کہتی ہوں کہ ہمارا عزم ‘آزادی یا شہادت’ ہے. ہم بہنیں اب اپنے گھروں سے یہ حتمی اور تزویراتی فیصلہ کر کے نکل چکی ہیں کہ اگر اس حقیقی آزادی کی جدوجہد میں ہم مارے بھی گئے، تو اللہ تعالیٰ ہماری شہادت قبول فرمائے، لیکن ہم پیچھے نہیں ہٹیں گی. انہوں نے عوام کو مثال دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں ایران کی قیادت اور عوام سے سیکھنا چاہیے، ایران کے لیڈروں نے ملک و قوم کی خاطر بڑی سے بڑی شہادتیں دی ہیں اور اپنے عوام کو ہمیشہ فرنٹ سے لیڈ کیا ہے کیونکہ ان کے لیڈر مخلص تھے اور حق کے لیے کھڑے ہیں.
انہوں نے کبل چوک کے اجتماع سے اپیل کی کہ پاکستان میں بھی اب فیصلہ کن تحریک شروع کی جائے، اور یہ تحریک ابھی اسی وقت شروع کی جائے، کیونکہ عوام اور ہم سب یہی چاہتے ہیں. عمران خان جیسے عظیم لیڈر کو، جو صرف قوم کی خاطر لازوال قربانیاں دے رہا ہے، انہوں نے ناحق اور جھوٹے مقدمات میں جیل میں قید کر رکھا ہے. علیمہ خان نے تادیبی حقائق سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ جب تک ہم سڑکوں پر نکل کر ان مقتدر حلقوں اور حکومت پر دباؤ نہیں ڈالیں گے، تب تک یہ نہ تو عمران خان کا کوئی طبی علاج کروائیں گے اور نہ ہی ان کی قیدِ تنہائی کی مروجہ سختیوں کو ختم کریں گے. انہوں نے خطاب کا اختتام کرتے ہوئے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ اپنے اور پاکستان کے مستقبل کے لیے نکلیں، کیونکہ اب بس بہت ہو چکا ہے، عمران خان نے بھی جیل سے یہی پیغام دیا ہے کہ جب تک آپ لوگ اپنی حقیقی آزادی کے لیے خود گھروں سے باہر نہیں نکلیں گے، تب تک آپ کو غلامی سے آزادی نہیں مل سکتی.