پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے زیرِ اہتمام 51 ویں انٹرنیشنل نتھیا گلی سمر کالج کا باضابطہ آغاز؛ پانچ براعظموں کے 20 ممالک سے ممتاز سائنسدان پاکستان پہنچ گئے

منصور احمد, JULY 06,2026

نتھیا گلی/اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 6 جولائی 2026ء

پاکستان اٹامک انرجی کمیشن (پی اے ای سی) کے زیرِ اہتمام 51 ویں سالانہ بین الاقوامی نتھیا گلی سمر کالج 2026 کا باضابطہ اور مقتدر آغاز ہو گیا ہے، جس کے باعث پاکستان ایک بار پھر عالمی سائنسی برادری کی توجہ کا محور بن چکا ہے۔ اس تاریخی سائنسی میلے میں شرکت کے لیے دنیا کے پانچ براعظموں کے 20 ممالک سے ممتاز اور مایہ ناز سائنسدان پاکستان پہنچ چکے ہیں۔ نوبل انعام یافتہ پاکستانی سائنسدان پروفیسر ڈاکٹر عبدالسلام کی قائم کردہ یہ مقتدر عالمی سائنسی روایت گزشتہ پانچ دہائیوں سے مسلسل جاری ہے، جو پاکستان کے تزویراتی اور سائنسی وقار کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس سال سمر کالج میں 45 عالمی شہرت یافتہ سائنسدان مصنوعی ذہانت ، جدید صنعت، صحت، زراعت، کوانٹم ٹیکنالوجی اور توانائی جیسے جدید ترین سائنسی موضوعات پر خصوصی نشستوں میں سیر حاصل گفتگو کریں گے۔

انٹرنیشنل سمر کالج کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین پی اے ای سی ڈاکٹر راجہ علی رضا انور نے کہا کہ نتھیا گلی سمر کالج نصف صدی سے سائنسی تعاون کا عالمی مرکز بنا ہوا ہے اور پروفیسر عبدالسلام کا وژن آج بھی دنیا بھر کے سائنسدانوں کی رہنمائی کر رہا ہے۔ انہوں نے بین الاقوامی ماہرین کی بھرپور شرکت کو پاکستان پر عالمی سائنسی اعتماد کا مقتدر اظہار قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ سائنس اور ٹیکنالوجی ہی کسی بھی ملک کی قومی ترقی کی بنیادی طاقت ہوتی ہیں، جبکہ مصنوعی ذہانت اور کوانٹم ٹیکنالوجی جیسی جدید ایجادات اب مستقبل کا رخ بدل رہی ہیں۔ ڈاکٹر راجہ علی رضا انور نے زور دیا کہ پاکستان کو عالمی صف میں شامل رہنے کے لیے سائنسی تحقیق کے میدان میں اپنی سرمایہ کاری کو مزید بڑھانا ہوگا، کیونکہ ہمارے نوجوان سائنسدان ہی پاکستان کے روشن مستقبل کی اصل ضمانت ہیں۔

چیئرمین پی اے ای سی نے ادارے کی مقتدر خدمات اور قومی دھارے میں اس کے کلیدی کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ اس وقت پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے چھ نیوکلیئر پاور پلانٹس قومی گرڈ کو بلا تعطل صاف اور سستی توانائی فراہم کر رہے ہیں، جو ملکی ترقی میں اہم سنگِ میل ہے۔ اس کے علاوہ، انسانی صحت کے شعبے میں پی اے ای سی کے زیرِ انتظام چلنے والے 21 جدید کینسر ہسپتال اور مراکز ملک بھر کے 80 فیصد کینسر کے مریضوں کو علاج معالجے کی مقتدر سہولیات فراہم کر رہے ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ کمیشن اپنی جدید زرعی تحقیق کے ذریعے ملک میں غذائی تحفظ کو یقینی بنانے اور موسمیاتی تبدیلیوں کا مقابلہ کرنے میں مصروفِ عمل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پی اے ای سی بنیادی سائنس اور جدید تحقیق میں مسلسل آگے بڑھ رہا ہے اور بین الاقوامی سائنسی تعاون ہماری اولین ترجیحات میں شامل ہے، کیونکہ علم، تحقیق اور جدت ہی پاکستان کے روشن مستقبل کی واحد ضمانت ہیں۔