

کاشف عباسی , JULY 15,026
بیجنگ (نیوز اینڈ نیوز) — 15 جولائی 2026ء
چین نے بین الاقوامی تجارتی نظام پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ دور میں عالمی سپلائی چینز (تجارتی ترسیل کے راستے) مشترکہ مفادات کی ایک ایسی پائیدار زنجیر بن چکی ہیں جس میں تمام فریق ایک دوسرے سے گہرے طور پر جڑے ہوئے ہیں۔ بیجنگ کے مطابق، اس مربوط نظام میں کسی ایک فریق کی ترقی سب کے لیے فائدہ مند ہے، جبکہ کسی ایک کا بھی نقصان پوری دنیا کی معیشت کو متاثر کرتا ہے۔ چینی بین الاقوامی ٹیلی ویژن نیٹ ورک کے مطابق، یہ مقتدر باتیں چینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان لین جیان نے بدھ کے روز روزانہ کی پریس کانفرنس کے دوران عالمی تجارت اور سپلائی چینز کے حساس مسئلے پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہیں۔
چینی ترجمان لین جیان نے واضح الفاظ میں خبردار کیا کہ سیاسی یا مصنوعی طریقوں سے عالمی سپلائی چینز کو منقطع کرنے، تحفظ پسند تجارتی رکاوٹیں کھڑی کرنے اور سپلائی چینز کی زبردستی ازسرِنو تشکیل کی تمام کوششیں نہ صرف دنیا بھر میں بھاری معاشی اخراجات کا باعث بنیں گی بلکہ یہ مارکیٹ کے بنیادی اصولوں اور کاروباری اداروں کے آزادانہ انتخاب کے بھی سراسر خلاف ہیں۔ انہوں نے تزویراتی نکتہ اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ ان منفی اقدامات کے نتیجے میں عالمی برادری اور تمام شراکت دار فریقین کو تجارت میں بہت زیادہ قیمت ادا کرنی پڑے گی جبکہ ان کے حاصل ہونے والے معاشی فوائد انتہائی کم رہ جائیں گے۔
چینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے بیجنگ کے عزم کو دہراتے ہوئے کہا کہ چین بین الاقوامی تجارت میں اعلیٰ معیار کے کھلے پن کی پالیسی کو مسلسل وسعت دیتا رہے گا۔ چین اپنی وسیع ترین عالمی مارکیٹ، مکمل صنعتی ڈھانچے اور دیگر نمایاں پیداواری برتریوں سے بھرپور استفادہ کرتے ہوئے دنیا کو مستحکم انداز میں اعلیٰ معیار کی مصنوعات کی فراہمی جاری رکھے گا اور دنیا بھر کے کاروباری اداروں کو باہمی تعاون کے مزید نئے اور مقتدر مواقع فراہم کرتا رہے گا تاکہ عالمی معیشت کو بحرانوں سے بچایا جا سکے۔