

محمود احمد, JULY 21,2026
اسلام آباد — 21 جولائی 2026ء
پاکستان کسٹمز نے کراچی کے دونوں بڑے کنٹینر ٹرمینلز پر تجارتی رش اور ازدحام کو واضح طور پر کم کرنے اور پورٹ آپریشنز کو تیز تر بنانے کے لیے کئی فیصلہ کن اور تاریخی اقدامات کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔
کسٹمز حکام کے مطابق، جولائی کے دوران عالمی معاشی صورتحال میں بہتری اور خلیج فارس میں سیکیورٹی کشیدگی میں کمی کے باعث پاکستان کی بحری تجارت میں غیر معمولی اور ریکارڈ اضافہ دیکھا گیا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، یکم جولائی سے 25 جولائی کے دوران دونوں بڑے ٹرمینلز پر مجموعی طور پر 56 بحری جہازوں نے لنگرانداز کیا، جو گزشتہ سال کے اسی عرصے کے 49 جہازوں کے مقابلے میں 14.3 فیصد زیادہ ہے۔ صرف جنوبی ایشیا ٹرمینل پر کنٹینرز کی نقل و حرکت 12 فیصد اضافے کے ساتھ 52 ہزار سے زائد کنٹینرز تک جا پہنچی ہے۔
اس تجارتی دباؤ سے نمٹنے کے لیے پاکستان کسٹمز نے اپنے سامان کی تلاشی اور کلیرنس کے آپریشنز کی رفتار میں نمایاں اضافہ کر دیا ہے۔ جولائی میں معائنہ شدہ سامان کی تعداد 4,298 تک پہنچ گئی جو گزشتہ سال 4,007 تھی۔ اس کے علاوہ معائنے کے لیے نشان زد نئے شعبوں اور کوڈز میں تقریباً 20 فیصد کا نمایاں اضافہ ہوا ہے، جو تجارتی حجم کی وسعت کو ظاہر کرتا ہے۔
پاکستان کسٹمز کے اعلیٰ حکام نے بتایا کہ تمام پورٹس پر عملے کی حاضری سو فیصد یقینی بنائی گئی ہے اور سامان کی بروقت کلیرنس کے لیے تمام پورٹس پر اتوار کو بھی باقاعدگی سے کام جاری رکھا جا رہا ہے۔ کسٹمز حکام روزانہ کی بنیاد پر صورتحال کا جائزہ لے رہے ہیں تاکہ رواں ہفتے کے اختتام تک تمام رش کا مکمل خاتمہ یقینی بنایا جا سکے۔
بحری ٹاسک فورس کے تحت پاکستان کسٹمز نے پورٹ پر برسوں سے پھنسے 2,000 سے زائد طویل المدتی کنٹینرز کو پورٹ سے باہر نجی گوداموں میں منتقل کر دیا ہے جس سے ٹرمینلز پر وسیع جگہ خالی ہو گئی ہے۔ اس کے علاوہ تمام پورٹس پر جدید سکینرز کی تنصیب کی گئی ہے جس سے بغیر کسی جسمانی مداخلت اور رکاوٹ کے تیز ترین جائزہ ممکن ہو رہا ہے۔ بلا تاخیر جائزے کے جدید نظام نے پورٹ پر سامان کی کلیرنس کا وقت اور تاجروں کے لیے کاروبار کی لاگت کو نمایاں حد تک کم کر دیا ہے۔ کسٹمز حکام ‘تنگنائے ہرمز’ کی تازہ ترین بحری صورتحال پر بھی مسلسل کڑی نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے فوراً نمٹا جا سکے۔