400 کلو گرام چاندی چوری اسکینڈل: وزیراعظم کی منظوری کے بعد کی 3 رکنی انکوائری کمیٹی تشکیل

منصور احمد, August 06,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 6 اگست 2026ء

— کروڑوں روپے مالیت کی 400 کلو گرام چاندی کی چوری اور مبینہ تبدیلی کے ہائی پروفائل اسکینڈل میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ وزیراعظم پاکستان کی باضابطہ منظوری کے بعد فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے واقعے کی شفاف انکوائری کے لیے تین رکنی اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔

ایف بی آر کے جاری کردہ احکامات کے مطابق موٹروے پولیس کے گریڈ 21 کے ایڈیشنل انسپکٹر جنرل اشرف زبیر صدیقی کو اس انکوائری کمیٹی کا چیئرمین مقرر کیا گیا ہے۔ یہ کمیٹی سابق کلکٹر کسٹمز کوئٹہ ڈاکٹر کرم الٰہیٰ سمیت 9 کسٹمز افسران کے خلاف محکمانہ تحقیقات کرے گی اور ان کے ممکنہ کردار کا تفصیلی جائزہ لے گی۔

تحقیقات کی زد میں آنے والے دیگر افسران میں کسٹمز افسران یوسف مگسی، طارق حسین اور محمد یوسف، پریونٹیو افسران سمیع اللہ، عارف علی جمانی اور یاسر عرفات جبکہ کسٹمز انسپکٹرز علی کامران اور محمد زمان مزاری شامل ہیں۔

سرکاری دستاویزات کے مطابق ڈی جی ریفارمز اینڈ آٹومیشن کسٹمز محمد عمران خان مہمند کو ہیرنگ آفیسر جبکہ چیف کلکٹر کسٹمز انفورسمنٹ اسلام آباد کو محکمانہ نمائندے کے فرائض سونپے گئے ہیں۔ ایف بی آر کا کہنا ہے کہ انکوائری کمیٹی 60 دنوں کے اندر اپنی مکمل رپورٹ وزیراعظم کو پیش کرے گی، جس کی روشنی میں مزید قانونی و محکمانہ کارروائی کی جائے گی۔

اس سے قبل ایف بی آر نے ابتدائی جانچ کے لیے کلکٹر عائشہ وانی کی سربراہی میں تین رکنی کمیٹی قائم کی تھی جسے پانچ روز میں رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔ ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا کہ کوئٹہ سے لاہور منتقل کی جانے والی 658 کلو گرام چاندی میں سے 400 کلو گرام کو ایک نجی گاڑی میں منتقل کیا گیا تھا۔

سوشل میڈیا اور سی سی ٹی وی فوٹیج کے مطابق سفر کے دوران نجی گاڑی کا ایک مشکوک اسٹاپ سامنے آیا جہاں ایک ہی نمبر پلیٹ والی دوسری گاڑی کے ذریعے چاندی کی سلاخیں مبینہ طور پر تبدیل کی گئیں۔ لاہور پہنچنے پر جب سیل شدہ ڈبوں کو کھولا گیا اور پاکستان منٹ میں جانچ کروائی گئی تو فراڈ بے نقاب ہو گیا۔ جانچ کے دوران ثابت ہوا کہ 390 کلو گرام سے زائد سلاخیں چاندی کی نہیں بلکہ سیسے کی تھیں۔ اس کرپشن اور فراڈ کے کیس میں کسٹمز کے دو اہلکاروں کو پہلے ہی گرفتار کیا جا چکا ہے۔