بھارتی ریاست مہاراشٹر کے سرکاری بورڈنگ سکول میں آسیب کی افواہ، 600 طلبہ کا سکول سے انخلا

محمود احمد, August 17,2026

نیو دہلی (نیوز اینڈ نیوز) — 17 اگست 2026ء

بھارتی ریاست مہاراشٹر کے ضلع ناشک کے علاقے ڈوما کے ایک سرکاری بورڈنگ سکول میں مبینہ طور پر “آسیب کا سایہ” اور مافوق الفطرت واقعات کی افواہوں کے بعد خوف و ہراس پھیل گیا، جس کے نتیجے میں سکول میں زیرِ تعلیم 810 طلبہ و طالبات میں سے تقریباً 600 طلبہ نے ہاسٹل چھوڑ دیا ہے۔ بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق اس واقعے کا آغاز جولائی کے آخر میں اس وقت ہوا جب چار طالبات اچانک بے قابو ہو کر رونے اور بعد میں غیر معمولی طور پر ہنسنے لگیں، جبکہ کچھ بچوں نے پازیب کی آوازیں سننے کا دعویٰ بھی کیا۔

واقعے کے بعد پھیلنے والے خوف اور توہم پرستی کے باعث گاؤں کے لوگوں نے دعویٰ کیا کہ سکول کی تعمیر کے دوران ایک مہوا کے درخت کی کٹائی سے ارواح ناراض ہوئی ہیں، جبکہ کچھ نے اسے مقامی دیوتا کی ناراضگی سے جوڑا۔ دوسری جانب ماہرینِ صحت اور ماہرینِ نفسیات نے ہاسٹل اور سکول کا دورہ کرنے کے بعد کسی بھی قسم کے مافوق الفطرت عنصر کو مسترد کر دیا ہے۔ معالجین کا کہنا ہے کہ یہ شدید ذہنی دباؤ اور خوف سے پیدا ہونے والی “ماسریا ہسٹیریا” کی ایک کیفیت ہے۔ سکول کے ہیڈ ماسٹر سنجے چوہدری کے مطابق بچوں کی مسلسل کونسلنگ کی جا رہی ہے اور چند طلبہ واپس لوٹ آئے ہیں۔ تاہم، انتظامیہ کی جانب سے سائنسی حل کے ساتھ ساتھ پنڈتوں اور پجاریوں کو ہاسٹل بلانے پر میڈیا کی جانب سے سخت تنقید کی جا رہی ہے۔