دنیا کے سب سے بڑے بیٹری الیکٹرک طیارے کی پہلی کامیاب پرواز، ایندھن کا کل خرچ محض ایک کافی کے کپ کے برابر

محمود احمد, August 17,2026

نیویارک (نیوز اینڈ نیوز) — 17 اگست 2026ء

عالمی ہوابازی اور فضائی سفر کی صنعت میں ایک انتہائی اہم اور تاریخی سنگِ میل عبور کر لیا گیا ہے، جہاں مکمل طور پر بیٹری اور بجلی سے چلنے والے دنیا کے سب سے بڑے طیارے نے امریکی ریاست نیویارک کے ایک اہم ہوائی اڈے سے اپنی پہلی اور کامياب آزمائشی پرواز کا کامیاب مظاہرہ مکمل کیا ہے۔ اس تاریخی اور حیرت انگیز پرواز کا سب سے منفرد اور دلچسپ پہلو اس میں استعمال ہونے والا ایندھن اور اس کا کل مالیاتی خرچ تھا، جو محض ایک عام کافی کے کپ کی قیمت کے برابر رہا۔

بین الاقوامیذرائع ابلاغ کی جاری کردہ تفصیلی رپورٹس کے مطابق امریکی خلائی اور ایوی ایشن صنعت کی نامور اور جدید ترین کمپنی “ہارٹ ایئرواسپیس” نے باضابطہ اعلان کیا ہے کہ ان کے خصوصی طور پر تیار کردہ تجرباتی ماڈل “ایکس ون” نے نیویارک کے پلیٹس برگ بین الاقوامی ہوائی اڈے پر قائم فلائٹ ٹیسٹ بیس سے کامیابی کے ساتھ پرواز کی اور اپنے آزمائشی مراحل کو کامیابی سے مکمل کیا۔ کل 27 منٹ کے اس تاریخی اور یادگار فضائی سفر کے دوران طیارے نے فضا میں 1100 فٹ کی بلندی حاصل کی، جبکہ اس دوران طیارے کے اندر نصب طاقتور برقی پروپلشن سسٹم نے ایک میگاواٹ سے بھی زائد کی زبردست پاور مسلسل فراہم کی۔

اس پوری پرواز کی سب سے حیران کن بات یہ رہی کہ یہ سفر مکمل طور پر جہاز میں نصب بیٹری سسٹم سے حاصل شدہ توانائی پر طے کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق اس پورے 27 منٹ کے سفر میں مجموعی طور پر محض 5 امریکی ڈالر یعنی پاکستانی روپوں میں تقریباً چودہ سو روپے کے برابر کی برقی توانائی استعمال ہوئی۔ یہ خرچ عالمی سطح پر معروف برانڈ اسٹار بکس کے ایک کپ کافی (وینٹی کیپوچینو) کی عام قیمت کے بالکل برابر بنتا ہے۔ اس کامیاب آزمائش کے بعد ہوابازی کے ماہرین اور دنیا بھر کی فضائی کمپنیوں میں خوشی اور حیرت کا عنصر پایا جا رہا ہے۔

کمپنی کے بانی اور چیف ایگزیکٹو آفیسر اینڈرس فورسلنڈ نے اس شاندار اور تاریخی پیشرفت پر اپنا ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ اس طیارے کی پہلی کامیاب پرواز کے ساتھ ہی ہم نے عالمی سطح پر تجارتی اور مسافر بردار پیمانے پر برقی پرواز کا عملی اور کامیاب تجربہ کر کے دکھا دیا ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار بھی کیا کہ بیٹری اور بجلی کی قوت سے چلنے والے تجارتی مسافر طیارے آنے والے دور میں ایئر لائنز کی معاشی صورتحال کو بنیادی اور انقلابی بنیادوں پر تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس جدت کی بدولت مسافروں کے لیے بھی ہوائی سفر کے مجموعی اخراجات میں نمایاں اور ریکارڈ حد تک کمی لائی جا سکے گی۔

تکنیکی ساخت اور بناوٹ کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ ہارٹ ایکس ون طیارہ 76 فٹ یعنی تقریباً 23 میٹر لمبا ہے، جبکہ اس کے پروں کا مجموعی پھیلاؤ 106 فٹ یعنی تقریباً 32 میٹر بنتا ہے۔ پرواز بھرنے کے وقت اس بھاری بھرکم طیارے کا کل وزن 25 ہزار پاؤنڈ سے بھی زیادہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے بعد یہ انسانی تاریخ میں فضا میں بلند ہونے والا سب سے بڑا بیٹری برقی طیارہ بن چکا ہے۔ یہ طیارہ بنیادی طور پر کمپنی کے آئندہ آنے والے کمرشل اور تجارتی طیارے “ای ایس تھرٹی” کا ایک مکمل ماڈل ہے، جس کا مقصد برقی نظام، ایرو ڈائنامکس اور دورانِ پرواز کارکردگی کا عملی اور تجربی معائنہ کرنا ہے۔

کمپنی حکام نے امید ظاہر کی ہے کہ 30 نشستوں کی صلاحیت پر مشتمل یہ جدید تجارتی طیارہ سال 2031ء تک بین الاقوامی اور مقامی مسافر بردار سروس میں باقاعدہ طور پر شامل ہو جائے گا۔ ارزاں اور سستی توانائی سمیت انتہائی کم دیکھ بھال اور مرمتی اخراجات کی بدولت یہ طیارہ روایتی علاقائی اور مختصر پروازوں کے ماہانہ آپریشنل اخراجات میں 40 فیصد سے زائد کی نمایاں کمی لائے گا۔

عالمی ہوابازی کے شعبے سے وابستہ یونائیٹڈ ایئرلائنز، ایئر کینیڈا اور جے ایس ایکس جیسی عالمی درجے کی بڑی اور معروف ایئرلائنز اس انقلابی الیکٹرک طیارے کو خریدنے اور اپنی فضائی خطوط میں شامل کرنے کے لیے خریداروں کی فہرست میں سب سے پہلے پیش پیش ہو چکی ہیں۔ تکنیکی صلاحیتوں کی بات کی جائے تو یہ طیارہ صرف بیٹری موڈ پر 200 کلومیٹر اور ہائبرڈ یعنی مخلوط موڈ پر 800 کلومیٹر تک کا لمبا سفر طے کرنے کی مکمل صلاحیت رکھے گا، جبکہ اس کی فاسٹ چارجنگ کا کل وقت بھی محض 30 منٹ کے قریب ہوگا۔