پاکستان مشن کی میزبانی میں ہیپاٹائٹس کے خاتمے کے لیے عالمی تعاون اور سیاسی حمایت بڑھانے پر اعلیٰ سطحی مشاورت

محمود احمد june 24,2026

نیویارک/اسلام آباد (بین الاقوامی امور رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 24 جون 2026ء

اقوامِ متحدہ میں ایچ آئی وی/ایڈز سے متعلق منعقدہ اعلیٰ سطحی اجلاس کے مقتدر موقع پر پاکستان نے عالمی صحت کے میدان میں ایک اور بڑی سفارتی کامیابی حاصل کی ہے۔ اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مشن اور ہیپاٹائٹس کے خاتمے کے لیے قائم اقوامِ متحدہ کے ‘گروپ آف فرینڈز’ کے سیکریٹریٹ نے مشترکہ طور پر ایک انتہائی اہم سفارتی بریفنگ اور مقتدر مشاورتی اجلاس کا انعقاد کیا۔ اس مقتدر عالمی اجلاس کا عنوان “ہیپاٹائٹس کے خاتمے کی جانب پیش رفت: اعلیٰ سطحی سیاسی اقدام کے لیے رفتار پیدا کرنا” تھا، جس میں دنیا بھر سے وزارتِ صحت کے مقتدر نمائندگان، اقوامِ متحدہ کے سینیئر سفارت کاروں اور عالمی صحت کے شعبے سے تعلق رکھنے والے ممتاز رہنماؤں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

اجلاس میں وائرل ہیپاٹائٹس کے خطرناک عالمی بوجھ پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا، جو اس وقت دنیا کی مہلک ترین دائمی بیماریوں میں شامل ہے اور ہر سال دنیا بھر میں تقریباً 13 لاکھ سے زائد انسانی جانیں نگل لیتی ہے۔ اس مقتدر موقع پر مختلف جغرافیائی خطوں پر مشتمل ایک مشترکہ سیاسی روڈ میپ پر اصولی اتفاقِ رائے پیدا کیا گیا، جس کا بنیادی مقصد سال 2028ء تک وائرل ہیپاٹائٹس کے مکمل خاتمے پر اقوامِ متحدہ کے ایک باضابطہ اور خود مختار اعلیٰ سطحی اجلاس کے انعقاد کی راہ ہموار کرنا ہے۔ اجلاس کا باقاعدہ آغاز اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے نائب مستقل مندوب سفیر عثمان جدون کے مقتدر افتتاحی کلمات سے ہوا، جس کے بعد ‘کولیشن فار گلوبل ہیپاٹائٹس ایلیمینیشن’ کے ڈائریکٹر ڈاکٹر جان وارڈ نے وائرل ہیپاٹائٹس کے عالمی اثرات اور بین الاقوامی اقدامات کو مزید مؤثر بنانے کے امکانات پر جامع بریفنگ دی۔

پاکستانی حکومت کی مقتدر قومی کوششوں پر روشنی ڈالتے ہوئے سفیر عثمان جدون نے عالمی برادری کو بتایا کہ حکومتِ پاکستان نے ملک گیر سطح پر “وزیراعظم پروگرام برائے انسدادِ ہیپاٹائٹس سی” کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے، جس کے لیے عالمی ادارۂ صحت کے قریبی تعاون سے 25 کروڑ امریکی ڈالر کے بھاری مقتدر فنڈز مختص کیے گئے ہیں۔ اس پروگرام کا تزویراتی مقصد سال 2030ء تک ہیپاٹائٹس سی کو ملک میں صحتِ عامہ کے لیے خطرہ بننے سے مستقل طور پر روکنا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس منصوبے کے تحت پورے پاکستان میں اسکریننگ، تشخیص اور علاج معالجے کی جدید ترین سہولیات عوام کو مکمل طور پر مفت فراہم کی جا رہی ہیں۔ سفیر عثمان جدون نے مزید کہا کہ اس اہم پروگرام کی موثر نگرانی اور شفاف جوابدہی کو یقینی بنانے کے لیے خود وزیرِاعظم پاکستان قومی ٹاسک فورس کی براہِ راست مقتدر قیادت کر رہے ہیں، جس میں صحتِ عامہ کے ممتاز ملکی و بین الاقوامی ماہرین، معالجین اور محققین شامل ہیں۔

مشاورتی اجلاس کے دوران شرکاء نے عالمی ادارۂ صحت کی حال ہی میں جاری کردہ عالمی ہیپاٹائٹس رپورٹ اور 79ویں عالمی صحت اسمبلی کے وزارتی اعلامیے کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اجلاس میں شریک پاکستان، فرانس، جمہوریہ چیک، میکسیکو، پیرو، ترکیہ، منگولیا، چین، برازیل، ملائیشیا، اسپین اور فلپائن کے مقتدر نمائندوں نے اس بات پر گہری تشویش کا اظہار کیا کہ ہیپاٹائٹس کی روک تھام اور مکمل شفا کے مؤثر ذرائع موجود ہونے کے باوجود، اس بیماری کو عالمی سطح پر وہ مطلوبہ سیاسی توجہ اور مالی وسائل حاصل نہیں ہو رہے جس کی یہ مستحق ہے۔ شرکاء نے عزم ظاہر کیا کہ سال 2030ء تک ہیپاٹائٹس کے عالمی خاتمے کے اہداف کو پانے کے لیے مختلف جغرافیائی خطوں کی وسیع نمائندگی کے ساتھ ایک مضبوط عالمی اتحاد قائم کیا جائے گا، اور اس سلسلے میں غیر رسمی مقتدر مشاورت کا سلسلہ مستقل بنیادوں پر جاری رکھا جائے گا۔