

محمود احمد, JULY 14,2026
اقوامِ متحدہ، نیویارک (نیوز اینڈ نیوز) — 14 جولائی 2026ء
اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس میں مشرقِ وسطیٰ (یمن) کی انتہائی حساس صورتحال پر پاکستان کا مقتدر اور اصولی مؤقف پیش کر دیا گیا ہے۔ اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے نائب مستقل مندوب، سفیر عثمان جدون نے اجلاس سے تزویراتی خطاب کرتے ہوئے اسسٹنٹ سیکرٹری جنرل خالد خیاری اور قائم مقام اسسٹنٹ سیکرٹری جنرل اندریکا رتواٹے کی تفصیلی بریفنگز پر ان کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان، اقوامِ متحدہ کے منشور اور بین الاقوامی قانون کے مقاصد اور اصولوں کے عین مطابق یمن کی خودمختاری، آزادی، اتحاد اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کرتا ہے۔
سفیر عثمان جدون نے اپنے مقتدر خطاب میں سب سے پہلے برادر ملک سعودی عرب کی سلامتی کو ہدف بنانے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان، مملکتِ سعودی عرب پر حوثیوں کی جانب سے کیے گئے حالیہ بیلسٹک میزائل حملوں کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتا ہے۔ انہوں نے برادر مملکت سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے اس کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے اسلام آباد کی غیر متزلزل حمایت کا عزم دہرایا۔ پاکستانی مندوب نے خبردار کیا کہ ایسے وقت میں جب یہ خطہ مسلسل بڑھتی ہوئی کشیدگی اور باہم مربوط متعدد بحرانوں سے دوچار ہے، تمام متعلقہ فریقوں کو اپنے اختلافات باہمی بات چیت، سفارت کاری اور کشیدگی میں کمی کے پختہ عزم کے ذریعے ہی حل کرنے ہوں گے۔
جناب صدر کو مخاطب کرتے ہوئے سفیر عثمان جدون نے زور دیا کہ یمن میں جامع، شمولیتی اور پائیدار امن صرف ایک ایسے سیاسی عمل کے ذریعے ہی ممکن ہے جو یمنیوں کی اپنی قیادت اور ملکیت میں ہو، اور جسے اقوامِ متحدہ کی مکمل معاونت حاصل ہو۔ انہوں نے رواں سال کے اوائل میں قیدیوں کے تبادلے سے متعلق ہونے والے معاہدے کو ایک مثبت تزویراتی پیش رفت قرار دیا اور کہا کہ یہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ مشکل ترین حالات میں بھی مذاکرات ٹھوس نتائج دے سکتے ہیں، اس لیے تمام فریقوں کو اب ملک گیر پائیدار جنگ بندی اور جامع سیاسی تصفیے کے لیے تعمیری مذاکرات جاری رکھنے چاہئیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ یمن کے عوام کئی برسوں سے تنازع، معاشی تنگی اور بنیادی خدمات کے مسمار ہونے کا سامنا کر رہے ہیں، اور کشیدگی میں مزید اضافہ صرف انسانی مصائب بڑھانے کا سبب بنے گا۔
پاکستانی مندوب نے حوثیوں کی جانب سے اقوامِ متحدہ کے عملے، انسانی ہمدردی کے اہلکاروں اور سفارتی عملے کی مسلسل من مانی حراست اور اقوامِ متحدہ کے دفاتر و اثاثوں پر غیر قانونی قبضے کی بھی شدید مذمت کی۔ انہوں نے ان اقدامات کو بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے تمام زیرِ حراست بین الاقوامی اہلکاروں کی فوری اور غیر مشروط رہائی کا مطالبہ کیا اور زور دیا کہ اقوامِ متحدہ کے عملے، تنصیبات اور اثاثوں کے مراعات و استثنیٰ کا ہر حال میں مکمل احترام کیا جائے۔ آخر میں، انہوں نے اعادہ کیا کہ پاکستان خطے میں امن، استحکام، مکالمے اور باہمی افہام و تفہیم کے فروغ کے لیے کی جانے والی تمام مخلصانہ کوششوں کی حمایت جاری رکھے گا۔