پی ٹی آئی اور اپوزیشن اتحاد کا ۱۶ جون کو اڈیالہ جیل کے باہر پاور شو کا فیصلہ، علیمہ خان نے احتجاجی اجتماع کا باقاعدہ شیڈول جاری کر دیا، بانی چیئرمین عمران خان کے طبی معائنے اور بنیادی حقوق کے لیے ۱۰ ہزار سے زائد کارکنان جمع کرنے کا ہدف، محمود خان اچکزئی کی مشاورت سے پروگرام حتمی قرار

کاشف عباسی ,june 14,2026

راولپنڈی (پولیٹیکل ڈیسک/نیوز اینڈ نیوز) — 14 جون 2026ء

پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان نے اڈیالہ جیل راولپنڈی کے باہر ایک بہت بڑے احتجاجی اجتماع کے شیڈول کا باقاعدہ اعلان کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ تحریک انصاف اور متحدہ اپوزیشن اتحاد کے زیرِ اہتمام سولہ جون بروز منگل جیل کے باہر ایک تاریخی اور بڑا عوامی پاور شو منعقد کیا جائے گا، راولپنڈی سے حاصل ہونے والی سیاسی تفصیلات کے مطابق میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے علیمہ خان نے واضح کیا کہ یہ بڑا احتجاجی اجتماع خالصتاً عمران خان کے قانونی، آئینی اور انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے کیا جا رہا ہے اور اس کا بنیادی مقصد جیل میں ان کی صحت، فیملی و وکلاء سے ملاقاتوں پر عائد حالیہ پابندیوں اور دیگر بنیادی انسانی سہولیات سے متعلق مطالبات کو عالمی و قومی سطح پر اجاگر کرنا ہے، انہوں نے بتایا کہ پی ٹی آئی کی مرکزی قیادت نے تحریک کے سربراہ اور اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی کے ساتھ طویل مشاورت اور سیاسی جوڑ توڑ کے بعد اس احتجاجی پروگرام کو حتمی شکل دی ہے اور پارٹی کو یہ ہدف دیا گیا ہے کہ اڈیالہ جیل کے باہر ہر حال میں دس ہزار سے زائد پرجوش کارکنوں اور خان کے حامیوں کو جمع کیا جائے۔

جاری کردہ شیڈول کے مطابق یہ سیاسی احتجاج منگل کے روز دوپہر تین بجے سے شروع ہو کر شام سات بجے تک مسلسل جاری رہے گا، علیمہ خان کا کہنا تھا کہ یہ عوامی اجتماع سو فیصد پرامن ہو گا اور اس کا مقصد سڑکوں پر کسی قسم کی توڑ پھوڑ، جلاؤ گھیراؤ یا انتظامیہ کے ساتھ تصادم کرنا ہرگز نہیں بلکہ صرف اپنے قائد کے آئینی اور قانونی مطالبات کے حق میں پرامن آواز بلند کرنا ہے، انہوں نے ایک مرتبہ پھر بانی پی ٹی آئی کی جیل میں صحت کے حوالے سے خطرناک انکشافات کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ عمران خان کی صحت خصوصاً ان کی آنکھوں کی موجودہ حالت انتہائی تشویش کا باعث بنی ہوئی ہے اور ان کا فوری اور تفصیلی طبی معائنہ کروانا اشد ضروری ہو چکا ہے، ان کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کی یہ مخلصانہ مانگ ہے کہ عمران خان کا مکمل طبی معائنہ سرکاری ڈاکٹروں کے بجائے ان کے ذاتی اور ملک کے نامور ماہر ڈاکٹروں کی خصوصی نگرانی میں فی الفور کیا جائے، علیمہ خان نے ملکی اعلیٰ عدالتوں، بین الاقوامی و قومی انسانی حقوق کی تنظیموں اور تمام متعلقہ مقتدر اداروں سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ سابق وزیراعظم کے بنیادی حقوق، زندگی کے تحفظ اور صحت کے ان سنگین معاملات پر فوری توجہ دی جائے، دوسری جانب وفاقی یا صوبائی حکومت اور جیل انتظامیہ کی طرف سے علیمہ خان کے ان سنگین دعوؤں اور مطالبات پر تاحال کوئی باضابطہ یا سرکاری ردعمل سامنے نہیں آیا ہے، تاہم راولپنڈی کے سکیورٹی اداروں کی جانب سے اس ممکنہ بڑے احتجاج کے پیشِ نظر اڈیالہ جیل کے اردگرد صورتحال پر کڑی نظر رکھی جا رہی ہے اور اضافی نفری تعینات کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔