پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا اب روزانہ کی بنیاد پر تعین ہوگا؛ نظام میں مکمل شفافیت اور پرائسنگ فارمولا عوام کے سامنے لانے کا مقتدر فیصلہ

کاشف عباسی , JULY 17,026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 17 جولائی 2026ء

وفاقی وزیر برائے اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے پٹرولیم مصنوعات کے حوالے سے ایک بڑے تزویراتی فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کے مروجہ نظام کو ہفتہ وار سے بدل کر روزانہ کی بنیاد پر لانے کا اصولی فیصلہ کیا ہے۔ وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک کے ہمراہ ایک مقتدر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ اس تاریخی اقدام کا بنیادی مقصد قیمتوں میں ہونے والے عالمی اتار چڑھاؤ کے ثمرات کو بلا تاخیر اور بروقت عوام تک منتقل کرنا ہے، جس سے نظام میں نہ صرف شفافیت بڑھے گی بلکہ پورا پرائسنگ فارمولا بھی پبلک کر دیا جائے گا۔

عطاء اللہ تارڑ نے عالمی سطح پر تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ اضافہ بین الاقوامی کشیدگی کا نتیجہ ہے، تاہم پاکستان اس کشیدگی کو کم کرنے کے لیے مسلسل سفارتی کوششیں کر رہا ہے جنہیں عالمی برادری نے بھی سراہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جب دنیا بھر میں کشیدگی کے باعث کئی ترقی یافتہ ممالک میں تیل کے حصول کے لیے طویل قطاریں لگی ہوئی تھیں اور راشننگ کا نظام چل رہا تھا، اس وقت وزیراعظم محمد شہباز شریف نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سے تیل کے اضافی کارگوز منگوائے، جس کی بدولت پاکستان کے کسی شہر میں ایک دن کے لیے بھی پٹرول یا ڈیزل کی قلت پیدا نہیں ہوئی۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ جب عالمی منڈی میں قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی تھیں، تب وفاقی حکومت نے اپنے ترقیاتی بجٹ میں کٹوتی کر کے 129 ارب روپے کی خطیر مقتدر سبسڈی فراہم کی تاکہ عوام پر اضافی بوجھ نہ پڑے۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے ہفتہ وار قیمتوں کے طریقہ کار کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ اب تک گزشتہ چھ دنوں کی اوسط قیمت نکال کر ساتویں دن فیصلہ کیا جاتا تھا، جس کے باعث عالمی منڈی میں فوری کمی کا فائدہ عوام تک پہنچنے میں تاخیر ہوتی تھی، مگر اب روزانہ کی بنیاد پر قیمتوں کے تعین سے یہ دیرینہ شکایت ہمیشہ کے لیے دور ہو جائے گی۔ انہوں نے پٹرولیم لیوی میں بے پناہ اضافے کے تاثر کو سراسر غلط قرار دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ لیوی جنگ سے پہلے کے مقابلے میں بھی کم رکھی گئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے ملکی بقا کے لیے ماحول دوست ٹیکنالوجی کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ درآمدی بل کو کم کرنے کے لیے پاکستان کا الیکٹرک بائیکس اور الیکٹرک وہیکلز کی طرف بڑھنا اب ناگزیر ہو چکا ہے۔

آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے حوالے سے مقتدر ریگولیشن کا ذکر کرتے ہوئے عطاء اللہ تارڑ نے واضح کیا کہ کمپنیوں کی جانب سے اندھا دھند منافع کمانے کا تاثر بالکل بے بنیاد ہے، کیونکہ وزیراعظم کی ہدایت پر ایف آئی اے اور آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) ان کی سخت ترین نگرانی کر رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ملکی تاریخ میں پہلی بار اضافی منافع کمانے والی کمپنیوں سے رقم واپس وصول کی گئی ہے اور ذخیرہ اندوزوں کے خلاف کریک ڈاؤن جاری ہے۔ انہوں نے عوام کو مطلع کیا کہ اوگرا کے موجودہ چیئرمین کی سربراہی میں ایک جدید آئی ٹی بیسڈ شفاف نظام متعارف کرایا جا چکا ہے اور شہری کسی بھی شکایت کی صورت میں اوگرا کی ویب سائٹ پر براہِ راست رجوع کر سکتے ہیں۔ انہوں نے تمام سیاسی حلقوں سے اپیل کی کہ عوامی مفاد کے اس حساس معاشی معاملے پر سیاست چمکانے سے گریز کیا جائے۔