حکومت ایکسپلوریشن اور ریفائننگ سیکٹر میں تاریخی اصلاحات، بانڈڈ اسٹوریج اور اسٹریٹجک پیٹرولیم ذخائر کے منصوبوں پر کام کر رہی ہے: علی پرویز ملک کا کاروباری برادری سے خطاب

منصور احمد, August 29,2026

اسلام آباد/کراچی (نیوز اینڈ نیوز) — 29 اگست 2026ء

وفاقی وزیر برائے پیٹرولیم علی پرویز ملک نے کراچی کے اپنے اہم ترین دورے کے دوران اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی قیادت اور پاکستان کے سب سے بڑے قومی ایندھن فراہم کنندہ ادارے پاکستان اسٹیٹ آئل کی اعلیٰ انتظامیہ سے الگ الگ اور تفصیلی ملاقاتیں کی ہیں۔ ان اہم اجلاسوں کے دوران ملک کی مجموعی توانائی سلامتی پیٹرولیم کے شعبے میں ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاری کے نئے اور منافع بخش مواقع، ایندھن کی سپلائی چین کے استحکام، بنیادی ڈھانچے کو جدید بنانے اور حکومت کی جانب سے کی جانے والی جاری تزویراتی اصلاحات پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔

اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے دفتر کے دورے کے موقع پر وفاقی وزیر پیٹرولیم نے چیمبر کی سینئر قیادت، مختلف ملٹی نیشنل انڈسٹریز سے وابستہ نمایاں شخصیات، غیر ملکی سرمایہ کاروں کے نمائندگان اور میڈیا کے نمائندوں سے تفصیلی گفتگو کی۔ اس موقع پر وفاقی وزیر علی پرویز ملک نے شرکا کو وفاقی حکومت کی جانب سے ملک میں تیل و گیس کی تلاش ریفائنری کے بنیادی ڈھانچے کی جدید کاری اور پیٹرولیم شعبے میں سرمایہ کاری دوست ماحولیات کے قیام کے لیے کیے جانے والے ہمہ گیر اقدامات اور پالیسی ترامیم سے تفصیل سے آگاہ کیا۔ انہوں نے ملک کو درپیش توانائی کے چیلنجز کا تدارک کرنے کے لیے بانڈڈ اسٹوریج اور اسٹریٹجک پیٹرولیم ذخائر کے قیام کی اہمیت اور ان پر پیش رفت کو خصوصی طور پر اجاگر کیا۔

وفاقی وزیر علی پرویز ملک نے اجلاس کے تمام شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومتِ پاکستان کا بنیادی مقصد ایک ایسا جدید اور متحرک پیٹرولیم شعبہ تشکیل دینا ہے جو عالمی سطح پر زیادہ مسابقتی، سرمائے کی فراہمی کے لیے انتہائی سازگار اور ملک کی طویل المدتی و پائیدار توانائی ضروریات سے مکمل طور پر ہم آہنگ ہو۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومت اپ اسٹریم (ایکسپلوریشن)، مڈ اسٹریم (ریفائننگ) اور ڈاؤن اسٹریم مارکیٹس میں دور رس اصلاحات نافذ کر رہی ہے، جبکہ انڈسٹری سے وابستہ تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مسلسل اور پائیدار رابطے کے ذریعے عملی نوعیت کے درپیش مسائل حل کیے جا رہے ہیں تاکہ ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بحال اور مستحکم بنایا جا سکے۔

اجلاس کے دورانکے ارکان اور سینئر قیادت نے صنعت کے نقطہ نظر کو پیش کرتے ہوئے زور دیا کہ پالیسی، قوانین اور ٹیکس کے نظام میں مسلسل اور طویل المدتی تسلسل، مکمل شفافیت اور سرمایہ کاروں کو مناسب سیکیورٹی کی فراہمی وہ بنیادی عوامل ہیں جو عالمی سرمایہ کاروں کا اعتماد مضبوط بنا سکتے ہیں۔ کے صدر یوسف حسین نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پیٹرولیم کا شعبہ پاکستان کی معاشی سرگرمیوں، اقتصادی ترقی اور سرمایہ کاری کے ڈھانچے میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ انہوں نے وفاقی وزیر کی جانب سے کاروباری برادری کے ساتھ اس مثبت اور مسلسل رابطے کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی کہ جاری مذاکرات صنعتی مسائل کے حل اور حکومت کے اصلاحاتی اہداف کے حصول میں اہم ثابت ہوں گے۔

اسی اجلاس میں کے چیف ایگزیکٹو اور سیکرٹری جنرل محمد عبدالعلیم نے غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے پیش گوئی کے قابل اور مستحکم ریگولیٹری ماحول کی اہمیت پر خصوصی زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت اور انڈسٹری کے درمیان مسلسل دوطرفہ رابطوں اور زیر التوا معاشی و قانونی معاملات کے بروقت اور شفاف حل سے غیر ملکی سرمایہ کاروں کا پاکستان پر اعتماد مزید بڑھے گا جس سے پیٹرولیم انڈسٹری میں اربوں ڈالر کی نجی سرمایہ کاری متوقع ہے۔ کی جانب سے حکومت کے ساتھ توانائی کی سلامتی اور پائیدار معاشی ترقی کے لیے اس مثبت مکالمے کو آئندہ بھی جاری رکھنے کے مکمل عزم کا اعادہ کیا گیا۔

بعد ازاں، وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے کراچی میں واقع پی ایس او ہاؤس کا دورہ کیا جہاں انہوں نے پاکستان اسٹیٹ آئل کی اعلیٰ انتظامیہ سے ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس میں ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران قومی توانائی سلامتی کے تحفظ، پیٹرولیم پروڈکٹس کی سپلائی چین کے مسلسل استحکام، اسٹریٹجک اسٹوریج کی گنجائش میں توسیعی منصوبوں، اور ادارے کی جدید ترین ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن سمیت متعدد بنیادی امور پر باریک بینی سے جائزہ لیا گیا۔ اس کے علاوہ ملک میں ایندھن کی سپلائی کے لاجسٹک انفراسٹرکچر کو جدید بنانے اور ایندھن کی کارکردگی و پائیداری کو عالمی معیار پر لانے کے لیے بھی تجاویز زیرِ غور آئیں۔

وزیر داخلہ و پیٹرولیم کے اس دورے کے دوران علی پرویز ملک نے عالمی اور علاقائی چیلنجز کے باوجود ملک بھر میں پیٹرول، ڈیزل اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات کی بلا تعطل اور ہموار فراہمی کو یقینی بنانے پر پی ایس او کی پیشہ ورانہ کارکردگی کی بھرپور تعریف کی اور قومی پیٹرولیم سپلائی چین کے استحکام میں کمپنی کے کلیدی کردار کو سراہا۔ وفاقی وزیر نے اعادہ کیا کہ حکومت پیٹرولیم شعبے کو ری سائیکل کرنے، اسے جدید ٹیکنالوجی سے لیس کرنے اور انفراسٹرکچر کو وسعت دینے کے لیے ادارے کو اپنی مکمل اور بلا مشروط حمایت فراہم کرتی رہے گی۔ انہوں نے پی ایس او کی انتظامیہ کو ہدایت کی کہ وہ اسٹریٹجک ذخائر کی گنجائش بڑھانے کے ساتھ ساتھ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، جدید مانیٹرنگ اور آٹومیشن سے بھرپور استفادہ کریں تاکہ ایندھن کی ترسیل کے وقت اور آپریشنل اخراجات میں نمایاں کمی لائی جا سکے۔

ملک کی 5 بڑی آئل ریفائنریوں میں 6 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا بریک تھرو: ریفائنری اپ گریڈیشن پالیسی پر علی پرویز ملک کی اہم پیش رفت

کاشف عباسی , August 28,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 28 اگست 2026ء

وفاقی وزیر برائے پٹرولیم علی پرویز ملک نے پاکستان کی پانچ بڑی آئل ریفائنریوں—پاک عرب ریفائنری لمیٹڈ، پاکستان ریفائنری لمیٹڈ ، نیشنل ریفائنری لمیٹڈ ، سائنرجیکو اور اٹک ریفائنری لمیٹڈ کی اعلیٰ انتظامیہ سے الگ الگ اور اہم ملاقاتیں کی ہیں۔ ان ملاقاتوں میں براؤن فیلڈ ریفائنری اپ گریڈیشن پالیسی پر عملدرآمد، ریفائنریوں کی مالی و آپریشنل کارکردگی اور ملکی توانائی کے تحفظ کو مستحکم بنانے کے اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ تمام پانچوں ریفائنریوں کی انتظامیہ نے پالیسی کے تحت اپ گریڈیشن معاہدوں پر دستخط کرنے کے لیے اپنی مکمل آمادگی کا اعادہ کر دیا ہے۔ ان معاہدوں پر ستمبر 2026ء کے آغاز میں باضابطہ دستخط متوقع ہیں، جس کے نتیجے میں پاکستان کے ریفائننگ سیکٹر میں تقریباً 6 ارب ڈالر کی خطیر غیر ملکی و ملکی سرمایہ کاری آئے گی۔

وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک نے اس پیش رفت کو ملکی توانائی کے تحفظ کے لیے میل پتھر قرار دیتے ہوئے کہا کہ ریفائنریوں کی جدید کاری سے پاکستان میں یورو فائیو معیار کی پٹرولیم مصنوعات کی مقامی پیداوار ممکن ہو سکے گی۔ اس اقدام سے پٹرول اور ڈیزل کی مہنگی درآمدات پر پاکستان کا انحصار نمایاں حد تک کم ہوگا اور مقامی سطح پر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بھی کمی اور استحکام آئے گا۔ وفاقی وزیر نے پارکو اور پی آر ایل کی جانب سے حال ہی میں آبنائے ہرمز کے بحران کے دوران بلا تعطل پٹرولیم سپلائی کا سلسہ برقرار رکھنے پر ان کی آپریشنل کارکردگی کو سراہا اور حب میں مجوزہ اسٹریٹجک ‘آئل سٹی’ اور اسٹوریج کمپلیکس منصوبے کی پیش رفت کا بھی جائزہ لیا، جو ملک کی ایندھن کی ذخیرہ اندوزی اور سپلائی چین کو پائیدار بنائے گا۔

ملاقاتوں کے دوران اٹک ریفائنری، سائنرجیکو اور نیشنل ریفائنری کے منیجنگ ڈائریکٹرز نے پالیسی کے لیے اپنی مطلوبہ تیاریاں مکمل ہونے کی تصدیق کی اور پٹرولیم ڈویژن کی اصلاحاتی کوششوں کو سراہا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ وفاقی حکومت ریفائننگ انڈسٹری کو درپیش قانونی اور آپریشنل مسائل کے حل اور 6 ارب ڈالر کے اس میگا اپ گریڈیشن پروگرام پر بروقت عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن سہولت کاری اور تعاون فراہم کرتی رہے گی۔

پاکستان اور سوئٹزرلینڈ کا توانائی کے شعبے میں تعاون بڑھانے اور نئی سرمایہ کاری کے مواقع تلاش کرنے پر اتفاق

محمود احمد, August 10,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 10 اگست 2026ء

پاکستان اور سوئٹزرلینڈ نے توانائی کے شعبے میں باہمی تعاون کو مزید فروغ دینے اور نئی سرمایہ کاری کے مواقع تلاش کرنے کے لیے رابطے جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔ یہ پیش رفت سوئس عالمی توانائی تجارتی کمپنی ‘گنور گروپ’ کے وفد کی وفاقی وزیر برائے پٹرولیم علی پرویز ملک سے ملاقات کے دوران سامنے آئی۔

ملاقات میں گنور گروپ کے وفد نے پاکستان کی انرجی مارکیٹ میں ڈی ریگولیشن اور نئی ریفائنری پالیسی کے حکومتی اقدامات کو سراہتے ہوئے کہا کہ ڈاؤن سٹریم مارکیٹ کو کھولنے سے بین الاقوامی سرمایہ کاروں کی حوصلہ افزائی ہوگی۔ وفد نے مجوزہ ‘بانڈڈ سٹوریج پالیسی’ اور ایل پی جی کے شعبے میں سرمایہ کاری کے امکانات میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا اور پاکستان کو سرمایہ کاری کے لیے ایک موزوں و پرکشش مارکیٹ قرار دیا۔

وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک نے وفد کو بتایا کہ حکومت توانائی کے شعبے میں شفاف، مسابقتی اور سرمایہ کار دوست ماحول فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے گنور گروپ کو ایل پی جی اور دیگر جاری اصلاحاتی منصوبوں میں موجود نئے مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھانے کی دعوت دی۔

پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا اب روزانہ کی بنیاد پر تعین ہوگا؛ نظام میں مکمل شفافیت اور پرائسنگ فارمولا عوام کے سامنے لانے کا مقتدر فیصلہ

کاشف عباسی , JULY 17,026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 17 جولائی 2026ء

وفاقی وزیر برائے اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے پٹرولیم مصنوعات کے حوالے سے ایک بڑے تزویراتی فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کے مروجہ نظام کو ہفتہ وار سے بدل کر روزانہ کی بنیاد پر لانے کا اصولی فیصلہ کیا ہے۔ وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک کے ہمراہ ایک مقتدر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ اس تاریخی اقدام کا بنیادی مقصد قیمتوں میں ہونے والے عالمی اتار چڑھاؤ کے ثمرات کو بلا تاخیر اور بروقت عوام تک منتقل کرنا ہے، جس سے نظام میں نہ صرف شفافیت بڑھے گی بلکہ پورا پرائسنگ فارمولا بھی پبلک کر دیا جائے گا۔

عطاء اللہ تارڑ نے عالمی سطح پر تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ اضافہ بین الاقوامی کشیدگی کا نتیجہ ہے، تاہم پاکستان اس کشیدگی کو کم کرنے کے لیے مسلسل سفارتی کوششیں کر رہا ہے جنہیں عالمی برادری نے بھی سراہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جب دنیا بھر میں کشیدگی کے باعث کئی ترقی یافتہ ممالک میں تیل کے حصول کے لیے طویل قطاریں لگی ہوئی تھیں اور راشننگ کا نظام چل رہا تھا، اس وقت وزیراعظم محمد شہباز شریف نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سے تیل کے اضافی کارگوز منگوائے، جس کی بدولت پاکستان کے کسی شہر میں ایک دن کے لیے بھی پٹرول یا ڈیزل کی قلت پیدا نہیں ہوئی۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ جب عالمی منڈی میں قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی تھیں، تب وفاقی حکومت نے اپنے ترقیاتی بجٹ میں کٹوتی کر کے 129 ارب روپے کی خطیر مقتدر سبسڈی فراہم کی تاکہ عوام پر اضافی بوجھ نہ پڑے۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے ہفتہ وار قیمتوں کے طریقہ کار کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ اب تک گزشتہ چھ دنوں کی اوسط قیمت نکال کر ساتویں دن فیصلہ کیا جاتا تھا، جس کے باعث عالمی منڈی میں فوری کمی کا فائدہ عوام تک پہنچنے میں تاخیر ہوتی تھی، مگر اب روزانہ کی بنیاد پر قیمتوں کے تعین سے یہ دیرینہ شکایت ہمیشہ کے لیے دور ہو جائے گی۔ انہوں نے پٹرولیم لیوی میں بے پناہ اضافے کے تاثر کو سراسر غلط قرار دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ لیوی جنگ سے پہلے کے مقابلے میں بھی کم رکھی گئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے ملکی بقا کے لیے ماحول دوست ٹیکنالوجی کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ درآمدی بل کو کم کرنے کے لیے پاکستان کا الیکٹرک بائیکس اور الیکٹرک وہیکلز کی طرف بڑھنا اب ناگزیر ہو چکا ہے۔

آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے حوالے سے مقتدر ریگولیشن کا ذکر کرتے ہوئے عطاء اللہ تارڑ نے واضح کیا کہ کمپنیوں کی جانب سے اندھا دھند منافع کمانے کا تاثر بالکل بے بنیاد ہے، کیونکہ وزیراعظم کی ہدایت پر ایف آئی اے اور آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) ان کی سخت ترین نگرانی کر رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ملکی تاریخ میں پہلی بار اضافی منافع کمانے والی کمپنیوں سے رقم واپس وصول کی گئی ہے اور ذخیرہ اندوزوں کے خلاف کریک ڈاؤن جاری ہے۔ انہوں نے عوام کو مطلع کیا کہ اوگرا کے موجودہ چیئرمین کی سربراہی میں ایک جدید آئی ٹی بیسڈ شفاف نظام متعارف کرایا جا چکا ہے اور شہری کسی بھی شکایت کی صورت میں اوگرا کی ویب سائٹ پر براہِ راست رجوع کر سکتے ہیں۔ انہوں نے تمام سیاسی حلقوں سے اپیل کی کہ عوامی مفاد کے اس حساس معاشی معاملے پر سیاست چمکانے سے گریز کیا جائے۔