

2026 کاشف عباسی بدھ 6 مئی
تہران (نیوز اینڈ نیوز): ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ تہران میں امریکا کی جانب سے دی گئی تجاویز پر غور جاری ہے اور کسی حتمی نتیجے پر پہنچنے کے بعد پاکستان کو اپنے مؤقف سے آگاہ کیا جائے گا۔
انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران اپنی پوزیشن سے متعلق پاکستان کو باضابطہ طور پر آگاہ کرے گا، تاہم مذاکرات صرف اسی صورت ممکن ہوتے ہیں جب ان میں نیک نیتی شامل ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈکٹیشن، دباؤ یا دھوکا دہی کو مذاکرات نہیں کہا جا سکتا بلکہ یہ طریقہ کار بین الاقوامی اصولوں کے منافی ہے۔
اسماعیل بقائی نے مزید کہا کہ جبراً فیصلے مسلط کرنا یا زبردستی شرائط منوانا مذاکرات کے بنیادی تصور کے خلاف ہے، جبکہ عالمی قوانین میں نیک نیتی کو ایک لازمی شرط قرار دیا گیا ہے۔
دوسری جانب ایرانی قومی سلامتی و خارجہ پالیسی کمیٹی کے ترجمان ابراہیم رضائی نے کہا کہ امریکی تجاویز دراصل یکطرفہ مطالبات پر مشتمل ہیں اور امریکا جنگ یا دباؤ کے ذریعے اپنے مقاصد حاصل نہیں کر سکتا۔
ایرانی حکام نے خبردار کیا ہے کہ ملک دفاع کے لیے مکمل طور پر تیار ہے اور کسی بھی جارحیت کا سخت جواب دیا جائے گا۔
ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو ایک بار پھر خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایران نے شرائط تسلیم نہ کیں تو مزید سخت اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے صحافی کے اس سوال پر کہ کیا امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کے لیے دوبارہ پاکستان جایا جائے گا، جواب دیا کہ اس بارے میں فی الحال کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا۔
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اگر ایران شرائط مان لیتا ہے تو جاری آپریشن ختم کیا جا سکتا ہے، تاہم موجودہ صورتحال میں براہِ راست مذاکرات کے امکانات کے بارے میں کوئی حتمی رائے دینا ممکن نہیں