امریکہ صرف ان ایرانی تنصیبات کو نشانہ بنا رہا ہے جہاں سے عالمی تجارتی جہازوں پر حملے کیے جاتے ہیں؛ واشنگٹن اب بھی سفارتی حل کے لیے تیار ہے

Spread the love

محمود احمد, JULY 20,2026

واشنگٹن (نیوز اینڈ نیوز) — 20 جولائی 2026ء

مشرقِ وسطیٰ اور آبنائے ہرمز میں جاری شدید ترین بحری و عسکری کشیدگی کے مقتدر تناظر میں امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو کا ایک اہم تزویراتی بیان سامنے آیا ہے. ‘انڈیپنڈنٹ اردو’ کی عالمی رپورٹ کے مطابق، امریکی وزیرِ خارجہ نے آسیان وزرائے خارجہ کے اہم ترین اجلاس میں شرکت کے لیے پیر کے روز فلپائن روانگی سے قبل میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے دنیا بھر کے دیگر مقتدر ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز میں بین الاقوامی تجارتی جہاز رانی کے تحفظ کو یقینی بنانے اور اس اہم ترین بحری راستے کو کھلا رکھنے کے لیے اپنی بین الاقوامی ذمہ داریاں مخلصانہ طور پر ادا کریں.

امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے پریس بریفنگ کے دوران واشنگٹن کی عسکری پالیسی کی تادیبی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ امریکی افواج خلیج میں صرف اور صرف ان ایرانی فوجی تنصیبات، ٹھکانوں اور مقامات کو نشانہ بنا رہی ہیں جو عالمی تجارتی جہازوں پر میزائلوں اور خودکش ڈرونز کے ذریعے حملوں کے لیے استعمال ہو رہے ہیں. انہوں نے صائب الفاظ میں واضح کیا کہ آبنائے ہرمز ایک مکمل طور پر بین الاقوامی آبی راستہ ہے، لیکن تہران انتظامیہ مسلسل عالمی قوانین کو پامال کرتے ہوئے اسی آبی گزرگاہ میں تجارتی بحری جہازوں کے خلاف جارحانہ کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے. مارکو روبیو نے زور دیا کہ آبنائے ہرمز کو عالمی معیشت کی بقا کے لیے ہر صورت آزاد، محفوظ اور ہر قسم کی رکاوٹ یا حملوں سے پاک رہنا چاہیے، اور اگر ایران جہاز رانی سے متعلق کسی بھی سابقہ مروجہ مفاہمتی انتظام یا بین الاقوامی معاہدے کے اصولوں کی خلاف ورزی کرتا ہے، تو ایسے کسی بھی امن انتظام کا برقرار رہنا ناممکن ہو جاتا ہے.

تزویراتی تناؤ کو کم کرنے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے امریکی وزیرِ خارجہ نے واضح کیا کہ امریکہ خطے میں جنگ نہیں چاہتا اور اب بھی اس سنگین معاملے کے مقتدر سفارتی حل کے لیے مکمل تیار ہے. انہوں نے کہا کہ امریکہ نے ہمیشہ سفارتی راستے کو ترجیح دی ہے اور ہم نے ایران کے ساتھ اس تنازع کو پرامن طور پر حل کرنے کی متعدد بار تادیبی کوششیں کی ہیں؛ چنانچہ اگر تہران کی جانب سے بامقصد مذاکرات کا دروازہ دوبارہ کھلتا ہے تو واشنگٹن اس کا بھرپور خیرمقدم کرے گا. مارکو روبیو نے ایران کی داخلی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے مزید کہا کہ اس وقت تہران کو شدید ترین معاشی پابندیوں اور اندرونی و خارجی چیلنجز کا سامنا ہے، اور ان نازک حالات میں مزید عسکری محاذ آرائی کے بجائے سفارتی راستہ اختیار کرنا ہی خود ایران اور پورے خطے کے بہترین مفاد میں ہے.