زیرِ تعمیر جوہری بجلی گھر پر امریکی حملہ؛ خطے میں پیدا ہونے والے عدم استحکام کی تمام تر ذمہ داری واشنگٹن پر عائد ہوتی ہے، ایران کا مقتدر انتباہ

Spread the love

محمود احمد, JULY 20,2026

تہران (نیوز اینڈ نیوز) — 20 جولائی 2026ء

ایران کے نائب وزیرِ خارجہ کاظم غریب آبادی نے دارخوین میں زیرِ تعمیر جوہری بجلی گھر پر حالیہ امریکی حملے پر سخت ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے واشنگٹن کو ایک مقتدر اور تزویراتی انتباہ جاری کیا ہے۔ انہوں نے دوٹوک الفاظ میں واضح کیا ہے کہ اس جارحیت اور عدم استحکام کے نتیجے میں خطے میں پیدا ہونے والی انتہائی سنگین صورتحال کی تمام تر ذمہ داری براہِ راست امریکی حکومت پر عائد ہوتی ہے۔ برطانوی نشریاتی ادارے ‘بی بی سی’ کی عالمی رپورٹ کے مطابق، کاظم غریب آبادی نے اپنے تادیبی بیان میں کہا کہ دارخوین میں زیرِ تعمیر جوہری بجلی گھر پر امریکی حملہ دراصل ایران کے توانائی کے پُرامن انفراسٹرکچر پر ایک انتہائی خطرناک اور بلاجواز حملہ ہے۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (ٹویٹر) پر جاری کردہ اپنے باضابطہ بیان میں ایرانی نائب وزیرِ خارجہ نے خبردار کیا کہ بڑھتی ہوئی علاقائی بدامنی کے اسباب صرف اور صرف امریکی پالیسیوں کا نتیجہ ہیں۔ انہوں نے صائب الفاظ میں کہا کہ تہران اس ننگی جارحیت کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتا ہے اور اپنے قومی مفادات، سالمیت اور علاقائی سلامتی کے دفاع کے لیے ہر ممکن اور مناسب تزویراتی اقدامات اٹھانے کا مکمل قانونی و ریاستی حق محفوظ رکھتا ہے۔

دوسری جانب، بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) نے گزشتہ روز اپنے ایک مقتدر اعلامیے میں اعلان کیا تھا کہ اس نے دارخوین میں زیرِ تعمیر جوہری بجلی گھر کی تعمیراتی سائٹ پر ہونے والے مبینہ امریکی حملے کی رپورٹس کا باقاعدہ اور تادیبی جائزہ لینا شروع کر دیا ہے۔ آئی اے ای اے کی جانب سے جاری بیان میں زمینی حقائق واضح کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ یہ جوہری تنصیب ابھی تعمیر کے بالکل ابتدائی مراحل میں ہے اور ایجنسی کے آخری معائنے کے وقت وہاں کوئی بھی جوہری مواد سرے سے موجود نہیں تھا۔ ادارے نے عالمی برادری کو اطمینان دلایا ہے کہ اس مبینہ حملے سے کسی بھی قسم کی تابکاری پھیلنے کا کوئی امکان یا خطرہ نہیں ہے۔ دریں اثنا، آئی اے ای اے کے ڈائریکٹر جنرل رفائیل ماریانو گروسی نے تمام فریقین سے اپنی اس اپیل کا سختی سے اعادہ کیا ہے کہ دنیا بھر میں تمام جوہری تنصیبات کے قرب و جوار میں کسی بھی قسم کی فوجی کارروائیوں سے مکمل گریز کیا جائے اور انتہائی تحمل کا مظاہرہ کیا جائے۔