

کاشف عباسی , September 14,2026
اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 14 ستمبر 2026ء
سپریم کورٹ آف پاکستان نے گھریلو تشدد اور بند کمرے میں بیوی کے قتل کے مقدمات سے متعلق ایک انتہائی اہم اور جدید قانونی پیش رفت میں قرار دیا ہے کہ اگر استغاثہ (Prosecution) شواہد کی مدد سے بنیادی حالات و واقعات کو ثابت کر دے، تو گھر کے اندر بیوی کی غیر فطری موت کے اسباب و حالات کی وضاحت کرنے کی تمام تر قانونی ذمہ داری شوہر پر منتقل ہو سکتی ہے۔
جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ اور جسٹس اشتیاق ابراہیم پر مشتمل سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ نے جیل پٹیشن نمبر 41/2023 پر فیصلہ سناتے ہوئے سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھا اور مقتولہ عقیلہ بی بی کے شوہر، مجرم حبیب اللہ کی سزا کے خلاف اپیل کو یکسر مسترد کر دیا۔
مقدمے کے چونکا دینے والے حقائق اور 7 سالہ فرار:
یہ کیس 14 ستمبر 2011ء کو کراچی میں پیش آنے والے دلخراش واقعے سے متعلق ہے، جہاں عقیلہ بی بی کو ان کے اپنے گھر کے کمرے میں شدید زخمی اور مردہ حالت میں پایا گیا تھا۔ سندھ ہائی کورٹ کے ریکارڈ کے مطابق مقتولہ کے سر پر ہتھوڑے جیسے بھاری اور کند آلے سے بدترین ضربات لگائی گئی تھیں۔ واقعے کے بعد مجرم حبیب اللہ اپنے بچوں کو چھوڑ کر موقع سے فرار ہو گیا اور تقریباً سات سال تک روپوش رہنے کے بعد 26 فروری 2018ء کو گرفتار ہوا۔
مقدمے میں مقتولہ کی کمسن بیٹی کی گواہی مرکزی ثابت ہوئی۔ بیٹی نے عدالت کو بتایا کہ واقعے سے قبل والدین میں شدید تنازع چل رہا تھا اور قتل کی رات اس کے والد گھر میں ہتھوڑا لے کر آئے تھے۔ اگرچہ بیٹی نے ہتھوڑا مارتے ہوئے براہِ راست نہیں دیکھا، تاہم رات کو کمرے میں دونوں کا موجود ہونا اور اگلی صبح ماں کی ہتھوڑے سے مسخ شدہ لاش ملنا ان تمام حالات کو ایک ناقابلِ تردید کڑی میں جوڑتا ہے۔
قانونِ شہادت کے آرٹیکل 122 اور 129 کا اطلاق:
سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں قانونِ شہادت کے آرٹیکل 122 کا حوالہ دیتے ہوئے واضح کیا کہ جو حقیقت کسی شخص کے “خاص علم” (Special Knowledge) میں ہو، اس کی وضاحت اور ثبوت کی ذمہ داری بھی اسی پر عائد ہوتی ہے۔ چونکہ گھریلو اور نجی ماحول میں وقوع پذیر ہونے والے جرائم میں بلاواسطہ یا چشم دید گواہ عام طور پر میسر نہیں ہوتے، اس لیے شوہر کا یہ فرض ہے کہ وہ بتائے کہ اس کی موجودگی میں یا بند کمرے میں اس کی اہلیہ کی موت کیسے واقع ہوئی۔
علاوہ ازیں، عدالت نے آرٹیکل 129 کے تحت مجرم کے بعد از وقوعہ طرزِ عمل کو بھی قانونی طور پر منفی قرین حیات قرار دیا۔ عدالت نے کہا کہ پولیس کو اطلاع دینے، بچوں کا سہارا بننے یا بیوی کی تدفین میں شریک ہونے کے بجائے 7 سال تک مفرور رہنا مجرم کے گناہ گار ہونے کی واضح نشاندہی کرتا ہے۔
تفتیش کاروں کی غفلت اور اہم ہدایات:
سپریم کورٹ نے سندھ پولیس کے تفتیشی افسر (IO) کی سنگین غفلت پر شدید برہمی کا اظہار کیا، جس نے جائے وقوعہ سے خون آلود ہتھوڑا اور چادر برآمد کرنے کے باوجود انہیں مال خانے یا سائنسی ثبوت کے طور پر عدالت میں پیش ہی نہیں کیا۔ اعلیٰ عدالت نے قرار دیا کہ محض ناقص تفتیش کی بنا پر کسی مجرم کو ریلیف نہیں دیا جا سکتا۔
عدالت نے خواتین کے خلاف تشدد اور قتل جیسے مقدمات کی تفتیش کرنے والے پولیس اہلکاروں کی صنفی حساسیت (Gender Sensitivity) اور جدید سائنسی تربیت پر زور دیا، نیز یہ ہدایت کی کہ تفتیش میں غفلت برتنے والے افسران کا سخت احتساب کیا جائے۔ عدالت نے عورت کا کردار مسخ کر کے تشدد کو جواز فراہم کرنے کی سماجی سوچ پر بھی شدید تشویش کا اظہار کیا۔
نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:
یہ رپورٹ سپریم کورٹ آف پاکستان کے دو رکنی بینچ کے باضابطہ قانونی فیصلے، سندھ ہائی کورٹ کے ریکارڈ، قانونِ شہادت کے قوانین اور ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان (APP) کی پریس رپورٹ کی بنیاد پر تیار کی گئی ہے۔
ماخذ: سپریم کورٹ آف پاکستان (جیل پٹیشن 41/2023 ججمنٹ)، اے پی پی (APP)، سندھ ہائی کورٹ ڈیسک۔