آزاد کشمیر میں سنگین عسکری تصادم، کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے احتجاج کے دوران فائرنگ سے ۴ پولیس اہلکار شہید اور متعدد زخمی، راولاکوٹ ہسپتال پر حملے کو آئی جی پی نے ”کھلی دہشت گردی“ قرار دے دیا، بلاول بھٹو کی شدید تشویش

Spread the love

کاشف عباسی ,june 08,2026

مظفرآباد(نیوز اینڈ نیوز) — 08 جون 2026ء

آزاد جموں و کشمیر میں حالات انتہائی کشیدہ اور ناگفتہ بہ ہو چکے ہیں، جہاں نئی نویلی کالعدم قرار دی گئی تنظیم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جے اے اے سی) کے احتجاج کے دوران سیکیورٹی فورسز اور مظاہرین کے مابین ہونے والے شدید ترین خونی تصادم اور جھڑپوں میں کم از کم ۴ پولیس اہلکار شہید جبکہ بیس (۲۰) سے زائد شدید زخمی ہو گئے ہیں، مظفرآباد اور راولاکوٹ کے پولیس حکام کے مطابق راولاکوٹ شہر میں احتجاجی مظاہرین اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان تصادم اس وقت انتہائی ہولناک اور شدت اختیار کر گیا جب مشتعل افراد کے مسلح جتھوں نے مختلف مقامات پر پولیس کو سیدھی فائرنگ کا نشانہ بنایا، آزاد کشمیر پولیس کے سربراہ انسپکٹر جنرل لیاقت علی ملک کے دفتر سے جاری ہونے والے باضابطہ اور ہنگامی بیان میں تصدیق کی گئی ہے کہ چاروں پولیس اہلکار اس وقت جامِ شہادت نوش کر گئے جب مشتعل مظاہرین نے راولاکوٹ کے کمبائنڈ ملٹری ہسپتال (سی ایم ایچ) پر منظم انداز میں دھاوا بولا اور حملہ کر دیا، آئی جی پولیس کے بیان کے مطابق فرائض پر مامور ان شہید اہلکاروں کو مظاہرین کی جانب سے ممنوعہ آتشیں اسلحے اور شاٹ گن سے نشانہ بنایا گیا، جسے پولیس کے اعلیٰ حکام نے ”کھلی دہشت گردی“ قرار دیتے ہوئے امن و امان تباہ کرنے والے ان تمام ذمہ دار شرپسند عناصر کے خلاف قانون کے مطابق سخت ترین عسکری و قانونی کارروائی کا فولادی عزم ظاہر کیا ہے، دوسری جانب سرکاری و مقامی ذرائع کے مطابق پولیس کی جوابی کارروائی اور تصادم کے نتیجے میں مظاہرین میں شامل کم از کم دو افراد بھی ہلاک ہوئے ہیں جبکہ درجنوں دیگر افراد شدید زخمی ہیں جنہیں طبی امداد دی جا رہی ہے، تاہم مقامی ذرائع اور عینی شاہدین کا خدشہ ہے کہ علاقے میں ہلاکتوں اور زخمیوں کی اصل تعداد سرکاری اعداد و شمار سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے، اس خونریز واقعے کے بعد انتظامیہ کی جانب سے پورے علاقے میں سیکیورٹی کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے جبکہ تمام اہم ترین سرکاری تنصیبات، چوکوں اور حکومتی عمارتوں کے گرد پولیس اور ایلیٹ فورس کی اضافی نفری تعینات کر کے گشت بڑھا دیا گیا ہے، ادھر اس سنگین صورتحال کے دوران آزاد جموں و کشمیر سپریم کورٹ نے آئینی ترامیم سے متعلق صدارتی ریفرنس کی اہم سماعت کی، جس کے دوران عدالتِ عظمیٰ نے سخت ریمارکس دیے کہ آئین کے اندر تبدیلیاں یا ترامیم کوئی ایسی رعایت یا حلوہ نہیں ہیں جنہیں کسی بھی حکومت سے ڈرا دھمکا کر یا زبردستی احتجاج کے ذریعے حاصل کیا جائے، دوسری جانب پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے آزاد کشمیر کی اس بگڑتی ہوئی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ وہاں امن و امان کی بحالی کے لیے وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف سے فوری اور خصوصی رابطہ کریں گے، واضح رہے کہ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے مہاجرین کے لیے مخصوص اسمبلی نشستوں کو ختم کرنے کے خلاف ۹ جون کو مظفرآباد کی جانب ایک بڑے لانگ مارچ اور غیر معینہ مدت کے دھرنے کا اعلان کر رکھا تھا، جس کے بعد امن و امان کے پیشِ نظر حکومت نے ایکشن لیتے ہوئے اس تنظیم کو انسدادِ دہشت گردی قوانین کے تحت باقاعدہ کالعدم قرار دے دیا تھا۔