مشرقِ وسطیٰ میں جنگ بندی کا معاہدہ ہوا ہوا، ایران کا اسرائیل پر بڑا اور اچانک میزائل حملہ، تل ابیب سمیت پورے اسرائیل میں فضائی حملوں کے سائرن بج اٹھے، بیروت پر اسرائیلی بمباری کے بعد پاسدارانِ انقلاب کا انتقام، صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی نیتن یاہو کو فوری جوابی کارروائی سے روکنے کی ہدایت

Spread the love

کاشف عباسی ,june 08,2026

یروشلم / تہران(نیوز اینڈ نیوز) — 08 جون 2026ء

مشرقِ وسطیٰ میں اپریل کے مہینے میں ہونے والی عارضی جنگ بندی کے بعد ایران نے پہلی بار اسرائیل پر براہِ راست بڑا میزائل حملہ کر دیا ہے، جس کے بعد پورے اسرائیل میں خوف و ہراس پھیل گیا اور فضائی حملوں کے سائرن بج اٹھے جبکہ صیہونی دفاعی نظام کو فوری طور پر انتہائی ہائی الرٹ کر کے متحرک کر دیا گیا، یروشلم اور تہران سے موصول ہونے والی جنگی تفصیلات کے مطابق اسرائیلی فوج نے اعتراف کیا ہے کہ ملک کے مختلف مقامات پر ایران کی جانب سے داغے گئے بیلسٹک میزائلوں کو فضا میں ہی روکنے کے لیے ان کے فضائی دفاعی نظام نے ہنگامی کارروائی کی، یہ حملہ ایک ایسے وقت میں کیا گیا جب اسرائیل نے اسی روز بین الاقوامی قوانین کو پامال کرتے ہوئے لبنان کے دارالحکومت بیروت کے جنوبی علاقے الضاحیہ میں ایک مبینہ عسکری کمانڈ سینٹر کو شدید بمباری کا نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا تھا، لبنانی وزارتِ صحت کے مطابق اس اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں دو معصوم افراد جاں بحق جبکہ بیس (۲۰) سے زائد زخمی ہوئے، دوسری جانب ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے اس میزائل حملے کی باقاعدہ ذمہ داری قبول کرتے ہوئے اسے ایک ”انتباہی کارروائی“ قرار دیا ہے اور سخت وارننگ جاری کی ہے کہ اگر اسرائیل نے دوبارہ کسی قسم کی عسکری جارحیت کی تو اس کا اگلا جواب اس سے کہیں زیادہ سخت اور وسیع پیمانے پر دیا جائے گا، اسی تناظر میں ایران کے پارلیمانی اسپیکر اور واشنگٹن کے ساتھ اہم مذاکرات میں کلیدی کردار ادا کرنے والے محمد باقر قالیباف نے مودی سرکار کی طرح اسرائیل کی پشت پناہی کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ بیروت پر بزدلانہ حملے کے لیے امریکہ نے اسرائیل کو باقاعدہ ”گرین سگنل“ دیا تھا، جس کے بعد اب خطے میں امریکی اور اسرائیلی مفادات کو ایران کے لیے ”جائز اہداف“ قرار دیا جا سکتا ہے، اس سنگین صورتحال پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فوری ردِعمل دیتے ہوئے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو پر سخت زور دیا ہے کہ وہ ایرانی میزائل حملوں کے جواب میں فی الحال کسی بھی قسم کی فوری جوابی عسکری کارروائی سے مکمل گریز کریں، صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ دونوں فریقین اس وقت ایک مستقل امن معاہدے کے بہت قریب پہنچ چکے ہیں اور وہ نہیں چاہتے کہ موجودہ نازک صورتحال مزید خراب ہو، تاہم کشیدگی کے باعث امریکی سفارت خانے نے یروشلم میں موجود اپنے تمام سفارتی عملے اور ان کے اہلِ خانہ کو فوری طور پر محفوظ مقامات اور زیرِ زمین بنکرز میں رہنے کی سخت ہدایت جاری کر دی ہے، اسی دوران خطے میں امن کی بحالی کے لیے سرگرم پاکستانی وزیر داخلہ محسن نقوی نے بھی تہران میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ایک اہم اور ہنگامی ملاقات کی، جس میں خطے کی ابتر صورتحال اور جاری امن عمل پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا، سفارتی ذرائع کے مطابق محسن نقوی نے وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف کا ایک مخلصانہ اور خصوصی پیغام بھی ایرانی قیادت تک پہنچایا ہے، دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق اپریل کی جنگ بندی کے باوجود ایران اور اسرائیل کے مابین یہ عسکری تصادم ایک بار پھر انتہائی خطرناک موڑ اختیار کر چکا ہے، جس کے تباہ کن اثرات ناصرف پورے مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی توانائی کی منڈیوں اور خام تیل کی قیمتوں پر بھی براہِ راست مرتب ہونے کا شدید خدشہ ہے۔