امریکہ ایران کو 300 ارب ڈالر کی کوئی ادائیگی نہیں کر رہا، یہ خبر سراسر جعلی اور ڈیموکریٹس کا مایوس کن پروپیگنڈا ہے، تاریخی امن معاہدے سے عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں یکدم گر گئیں اور اسٹاک مارکیٹ میں زبردست بہتری آئی ہے، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کڑا ٹوئٹ، نائب صدر جے ڈی وینس کا اسرائیلی کابینہ کو سخت ترین پیغام

Spread the love

محمود احمد june 18,2026

واشنگٹن (بین الاقوامی سفارتی ڈیسک/نیوز اینڈ نیوز) — 19 جون 2026ء

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بین الاقوامی میڈیا پر گردش کرنے والی ان افواہوں کو دوٹوک الفاظ میں یکسر مسترد کر دیا ہے کہ امریکہ تاریخی امن معاہدے کے تحت ایران کو 300 ارب ڈالر کی خطیر رقم ادا کر رہا ہے، واشنگٹن سے حاصل ہونے والی سٹریٹجک تفصیلات کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے ایک انتہائی اہم اور جارحانہ پیغام میں واضح کیا کہ امریکہ ایران کو کوئی رقم نہیں دے رہا اور ۳۰۰ ارب ڈالر کی معاشی فنڈنگ کی تمام خبریں سراسر من گھڑت، جعلی اور ڈیموکریٹس کا پھیلاؤ ہوا سیاسی پروپیگنڈا ہیں، صدر ٹرمپ نے فخر سے دعویٰ کیا کہ پاکستان کی ثالثی میں طے پانے والے اس تاریخی امن معاہدے میں صرف اور صرف امریکہ کی شاندار کامیابی اور بالادستی ہوئی ہے جس کے مثبت اثرات کے باعث عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتیں یکدم نیچے آئی ہیں اور ملکی عوام کو چاہیے کہ وہ اپنی معاشی خوشحالی اور ملکی ترقی دیکھنے کے لیے امریکی اسٹاک مارکیٹ کے بہترین اور تاریخی انڈیکس کو دیکھیں، دوسری جانب امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے بھی میڈیا کے نمائندوں سے تفصیلی گفتگو کرتے ہوئے صراحت کی کہ ایران کا اس کڑے معاہدے پر دستخط کرنا دراصل سپر پاور امریکہ اور اس کے غیور عوام کی ایک بہت بڑی تاریخی جیت ہے کیونکہ اس معاہدے کے نفاذ کے ساتھ ہی ایران کی ایٹمی ہتھیار بنانے کی صلاحیت کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دیا گیا ہے اور دستاویز کی اہم ترین شقوں میں واضح طور پر شامل ہے کہ ایران آئندہ ایسے کوئی بھی مہلک ہتھیار یا بیلسٹک میزائل تیار نہیں کرے گا جس سے دنیا کے امن یا کسی بھی ملک کی سلامتی کو خطرہ لاحق ہو، انہوں نے واضح کیا کہ تہران حکومت کے روزمرہ رویے اور کارکردگی کا باریک بینی سے جائزہ لیتے ہوئے ہی اس پر عائد اقتصادی پابندیوں میں مرحلہ وار نرمی کی جائے گی اور پاکستان کی ثالثی میں طے پانے والا یہ ”اسلام آباد میمورنڈم“ ہر لحاظ سے امریکی سیکیورٹی مفاد کے عین مطابق ہے جس سے خطے میں مستقل امن قائم ہوگا۔

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے خطے کی تازہ ترین عسکری صورتحال پر روشنی ڈالتے ہوئے مزید بتایا کہ ایران نے گزشتہ دو دنوں کے دوران سٹریٹجک گزرگاہ آبنائے ہرمز میں کسی بھی بین الاقوامی یا تجارتی بحری جہاز کو نشانہ نہیں بنایا جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ایران آبنائے ہرمز میں معاہدے کی پاسداری شروع کر چکا ہے اور صرف گزشتہ رات ہی اس اہم ترین بحری راستے سے ریکارڈ 12.5 ملین بیرل خام تیل لے کر متعدد تجارتی جہاز بحفاظت گزرے ہیں، انہوں نے اعلان کیا کہ اسلام آباد معاہدے کے مطابق باقاعدہ جانچ پڑتال کا 60 روزہ دورانیہ آج سے نافذ العمل ہو گیا ہے اور وائٹ ہاؤس بہت جلد اس مفاہمتی یادداشت کی تمام اہم شقوں اور سٹریٹجک فوائد پر امریکی کانگریس کو تفصیلی بریفنگ دے گا، اپنے آئندہ کے سفارتی شیڈول کے بارے میں بات کرتے ہوئے امریکی نائب صدر نے کہا کہ ان کا سوئٹزرلینڈ جانے کا پروگرام ضرور ہے لیکن وہاں کب جانا ہے اس کی حتمی تاریخ ابھی طے نہیں ہوئی کیونکہ سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں ایران کے ساتھ معاہدے کے انتہائی باریک تکنیکی نکات پر مزید اہم ترین بات چیت ہونی ہے اور قوی امکان ہے کہ وہ اس ہفتے کے آخر تک یا اتوار تک سوئٹزرلینڈ روانہ ہو جائیں لیکن ان کے اس دورے کا تمام تر دارومدار جنیوا میں ایرانی وفد کی آمد پر ہے، جے ڈی وینس نے دوٹوک انداز میں واضح کیا کہ ایران جنیوا مذاکرات میں تمام شرائط کی مکمل تعمیل اور عملی اقدامات کے بعد ہی دنیا بھر میں موجود اپنے منجمد فنڈز تک رسائی حاصل کر سکے گا، اسرائیلی حکومت کی جانب سے آنے والے بیانات پر کڑی تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بنجمن نیتن یاہو کی کابینہ کے کچھ انتہا پسند وزراء اس تاریخی معاہدے اور صدر ٹرمپ کی پالیسیوں پر بلاجواز تنقید کر رہے ہیں لیکن اسرائیلی کابینہ کو اس قسم کی تنقید کرنے سے پہلے زمینی حقائق کا باریک بینی سے جائزہ لینا چاہیے، امریکی نائب صدر نے اسرائیلی قیادت کو ایک انتہائی سخت اور واضح پیغام دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی کابینہ کو یہ کبھی نہیں بھولنا چاہیے کہ ان کے گھروں کی حفاظت صرف اور صرف امریکی ہتھیاروں کی بدولت ہوتی ہے اور اسرائیل کا دفاع امریکی عوام کے ٹیکس کے پیسوں سے یقینی بنایا جاتا ہے کیونکہ اسرائیل اپنی بقا کے لیے جن جدید ترین ہتھیاروں سے حفاظت کرتا ہے وہ سب امریکہ کے بنے ہوئے ہیں لہٰذا تل ابیب بلاجواز تنقید کے بجائے حقائق کو تسلیم کرے۔