پاکستان کا اسلاموفوبیا اور نفرت انگیز تقاریر کے خلاف مؤثر عالمی اقدامات کا مطالبہ، سفیر عاصم افتخار احمد کا اقوامِ متحدہ کے لائحۂ عمل کو جلد حتمی شکل دینے پر زور

Spread the love

محمود احمد june 18,2026

اقوامِ متحدہ، نیویارک (بین الاقوامی سفارتی ڈیسک/نیوز اینڈ نیوز) — 18 جون 2026ء

پاکستان نے دنیا بھر میں نفرت انگیز تقاریر بالخصوص اسلاموفوبیا کے بڑھتے ہوئے جابرانہ رجحان کے خلاف مضبوط بین الاقوامی شراکت داریوں اور مربوط عالمی اقدامات کا کڑا مطالبہ کرتے ہوئے عالمی برادری کو واشنگٹن اور تہران سمیت تمام دارالحکومتوں میں خبردار کیا ہے کہ نفرت، امتیازی سلوک اور کمزور و غیر محفوظ طبقات کے خلاف مسلسل اشتعال انگیزی سماجی ہم آہنگی، انسانی وقار اور بین الاقوامی امن و سلامتی کے لیے ایک مستقل اور ہولناک عسکری و سیاسی خطرہ بنی ہوئی ہے، اقوامِ متحدہ کے صدر دفاتر میں نفرت انگیز تقاریر کے انسداد کے پانچویں عالمی دن کے موقع پر منعقدہ ایک اعلیٰ سطحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے، جس کا مرکزی موضوع ”نفرت انگیز تقاریر کے انسداد میں شراکت داریوں کی طاقت“ تھا، اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے اسلاموفوبیا کو دنیا بھر میں نفرت انگیز تقاریر کی سب سے سنگین، متعصبانہ اور خطرناک ترین شکل قرار دیا، انہوں نے عالمی مندوبین کے سامنے واضح کیا کہ مسلمانوں، ان کی اسلامی شناخت، مقدس مذہبی شعائر اور عبادت گاہوں پر منظم حملے نیز مذہبی آزادیوں پر عائد جابرانہ پابندیاں مختلف مغربی اور غیر مسلم معاشروں میں عدم برداشت، شدید ہیجان اور محرومی کو فروغ دے رہی ہیں، واضح رہے کہ یہ اعلیٰ سطحی بین الاقوامی تقریب اقوامِ متحدہ میں مراکش کے مستقل مشن اور اقوامِ متحدہ کے خصوصی دفتر برائے انسدادِ نسل کشی و ذمہ داری برائے تحفظ کے باہمی اشتراک سے منعقد کی گئی تھی۔

سفیر عاصم افتخار احمد نے اپنے خطاب میں اس بنیادی نقطے پر گہرا زور دیا کہ نفرت انگیز تقاریر ہماری مشترکہ انسانی اقدار پر ایک براہِ راست جابرانہ حملہ ہیں جو انسانی مساوات کو مجروح کرتی، پوری برادریوں کو غیر انسانی بناتی اور پُرامن و جامع معاشروں کی بنیادی جڑوں کو کمزور کرتی ہیں، انہوں نے خبردار کیا کہ موجودہ جدید ڈیجیٹل دور اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز نے اس سنگین خطرے کو مزید سو گنا بڑھا دیا ہے جہاں آن لائن پلیٹ فارمز کو منظم طریقے سے مسلمانوں کے خلاف نفرت، غلط معلومات اور کمزور طبقات کے خلاف اشتعال انگیزی پھیلانے کے لیے بطور ہتھیار استعمال کیا جا رہا ہے، ان کا کہنا تھا کہ تاریخ اس سچائی کی گواہ ہے کہ نفرت انگیز تقاریر کے منفی اثرات کبھی بھی قومی سرحدوں تک محدود نہیں رہتے اور اگر انہیں بروقت نہ روکا گیا تو یہ بین الاقوامی امن و استحکام کو شدید خطرے میں ڈال کر بڑے عسکری جرائم اور مظالم کو جنم دے سکتے ہیں اور انتہائی ہولناک صورتوں میں نسل کشی جیسے بھیانک انسانی جرائم کا باعث بن سکتے ہیں، پاکستان کے مستقل مندوب نے اس پر گہری تشویش کا اظہار کیا کہ نفرت انگیز تقاریر اب دنیا کی مرکزی سیاست اور سماجی بیانیے کا باقاعدہ حصہ بنتی جا رہی ہیں جہاں مخصوص انتہا پسند رہنماؤں کی جانب سے شناخت کو بطور سیاسی ہتھیار استعمال کیا جاتا ہے اور اقلیتوں و بے بس مسلمانوں کے خلاف خوف کے ماحول کو سیاسی و انتخابی مقاصد اور ووٹ بینک کے لیے بھڑکایا جاتا ہے کیونکہ بعض معاشروں میں اسلاموفوبیا پر مبنی یہ زہریلا بیانیہ وہاں کے مقامی طاقت کے ڈھانچوں اور مخصوص مفادات کے ساتھ جڑ کر مسلمانوں کے خلاف معاشی و سماجی امتیازی سلوک کو مزید گہرا کر رہا ہے۔

پاکستانی سفیر نے اس عالمی چیلنج سے نمٹنے کے لیے ایک اصولی، پُرعزم اور مستقبل بین بین الاقوامی حکمتِ عملی اپنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے انسانی وقار، مساوات اور آزادی کے فروغ کے لیے پاکستان کی ریاست اور عوام کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کیا، سفیر عاصم افتخار احمد نے نفرت انگیز تقاریر سے متعلق اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کی متعلقہ قراردادوں اور اقوامِ متحدہ کی آفیشل حکمتِ عملی اور لائحۂ عمل برائے انسدادِ نفرت انگیز تقاریر پر اس کی اصل روح کے مطابق مکمل عملدرآمد کی ضرورت پر زور دیا، انہوں نے اقوامِ متحدہ کے مقتدر ادارہ برائے اتحادِ تہذیبوں کی جانب سے اسلاموفوبیا کے انسداد کے لیے اقوامِ متحدہ کے مجوزہ لائحۂ عمل کو جلد از جلد حتمی شکل دینے کی سفارتی کوششوں کا بھرپور خیرمقدم کیا اور امید ظاہر کی کہ یہ تاریخی دستاویز نفرت انگیز تقاریر اور مذہبی عدم برداشت کی تمام شکلوں سے نمٹنے کے لیے اقوامِ متحدہ کی موجودہ کوششوں کو مزید سٹرٹیجک تقویت دے گی، انہوں نے صراحت کی کہ پاکستان رکن ممالک اور اقوامِ متحدہ کے ساتھ مل کر اسلاموفوبیا کے خلاف اپنی عالمی جدوجہد جاری رکھے گا کیونکہ یہ ہماری آئندہ نسلوں، مشترکہ اقدار اور انسانی تہذیب کے تحفظ کے لیے ایک عظیم اخلاقی اور سفارتی ذمہ داری ہے۔