بھارتی آرمی چیف کے اشتعال انگیز بیان پر پاک فوج کا سخت ردعمل، خطے کو نئی جنگ سے خبردار

Spread the love

کاشف عباسی ,May 18 ,2026

رپورٹ: نیوز اینڈ نیوز

اسلام آباد: پاک فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) نے بھارتی آرمی چیف جنرل اپیندر دویدی کے حالیہ اشتعال انگیز بیان پر شدید ردعمل دیتے ہوئے اسے جنوبی ایشیا کے امن و استحکام کے لیے خطرناک قرار دیا ہے۔

آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ بھارتی آرمی چیف نے ایک حالیہ انٹرویو میں پاکستان کے حوالے سے “تاریخ یا جغرافیہ کا حصہ بننے” جیسا اشتعال انگیز بیان دیا، جو نہ صرف غیر ذمہ دارانہ ہے بلکہ خطے میں کشیدگی بڑھانے کا باعث بھی بن سکتا ہے۔

پاک فوج کے ترجمان نے خبردار کیا کہ بھارت جنوبی ایشیا کو ایک اور تنازع کی طرف دھکیلنے سے باز رہے، کیونکہ کسی بھی نئی جنگ کے نتائج پورے خطے کے لیے “تباہ کن” ثابت ہو سکتے ہیں۔

بیان میں کہا گیا کہ پاکستان ایک ذمہ دار اور ایٹمی صلاحیت رکھنے والا ملک ہے، جو ہمیشہ خطے میں امن، استحکام اور پُرامن بقائے باہمی کا خواہاں رہا ہے، تاہم ملکی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے دفاع کے لیے ہر ممکن صلاحیت رکھتا ہے۔

آئی ایس پی آر نے مزید کہا کہ بھارت آج تک پاکستان کے وجود کو دل سے تسلیم نہیں کر سکا اور ہندوتوا سوچ نے جنوبی ایشیا کو بارہا جنگوں اور بحرانوں کی طرف دھکیلا ہے۔

بیان میں زور دیا گیا کہ “پاکستان کو جغرافیے سے مٹانے” جیسی دھمکیاں ذہنی دیوالیہ پن اور جنگی جنون کی عکاس ہیں، جبکہ ایک ایٹمی ہمسایہ ملک کے بارے میں اس قسم کی زبان انتہائی غیر ذمہ دارانہ طرزِ فکر کو ظاہر کرتی ہے۔

پاک فوج کے مطابق ذمہ دار ایٹمی ریاستیں تحمل، تدبر اور سنجیدگی کا مظاہرہ کرتی ہیں، جبکہ بھارت ماضی میں خطے میں دہشتگردی، عدم استحکام اور پروپیگنڈے کا مرکز رہا ہے۔

آئی ایس پی آر نے کہا کہ “معرکۂ حق” میں بھارت کی ناکامی دنیا کے سامنے آ چکی ہے اور نئی اشتعال انگیزی دراصل پاکستان کو نقصان پہنچانے میں ناکامی کا اظہار ہے۔

بیان میں بھارت پر زور دیا گیا کہ وہ پاکستان کے ساتھ پُرامن بقائے باہمی کا راستہ اختیار کرے اور خطے کو کسی نئی جنگ یا بحران کی طرف دھکیلنے سے گریز کرے۔