ایران۔امریکا کشیدگی: پاکستان کی سفارتی کوششیں جاری، محسن نقوی کی تہران میں ایرانی قیادت سے اہم ملاقاتیں

Spread the love

کاشف عباسی ,May 18 ,2026

رپورٹ: نیوز اینڈ نیوز

اسلام آباد / تہران: مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران پاکستان نے ایران اور امریکا کے درمیان سفارتی رابطے برقرار رکھنے کی کوششیں مزید تیز کر دی ہیں، جبکہ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے تہران میں ایرانی صدر اور پارلیمنٹ کے اسپیکر سے اہم ملاقاتیں کی ہیں۔

ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر ایران کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ “وقت تیزی سے گزر رہا ہے” اور تہران کو جلد فیصلے کرنے ہوں گے۔

وزیر داخلہ محسن نقوی، جو دو روزہ دورے پر تہران پہنچے تھے، نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف سے الگ الگ ملاقاتیں کیں۔ ایرانی میڈیا کے مطابق صدر پزشکیان کے ساتھ ان کی ون آن ون ملاقات تقریباً 90 منٹ جاری رہی، جو صدارتی محل میں منعقد ہوئی۔

ملاقات میں ایرانی وزیر داخلہ اسکندر مومنی اور وزیر خارجہ عباس عراقچی بھی موجود تھے۔

ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق صدر مسعود پزشکیان نے اس موقع پر زور دیا کہ مسلم ممالک کو مذہبی، ثقافتی اور اسٹریٹجک مشترکات کی بنیاد پر ایک دوسرے کے قریب آنا چاہیے تاکہ “بالادست طاقتوں کی جارحیت” کا مؤثر مقابلہ کیا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ اسلامی ممالک جتنا زیادہ متحد ہوں گے، بیرونی مداخلت اور جارحیت کے امکانات اتنے ہی کم ہوں گے۔

دوسری جانب ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے خطے میں امریکی موجودگی کو عدم استحکام کی بڑی وجہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکا کی پالیسیاں خطے میں “عدم تحفظ” کو فروغ دے رہی ہیں۔

ادھر وزیراعظم شہباز شریف نے بھی خطے کی صورتحال پر قطر کے وزیراعظم سے رابطہ کیا، جبکہ نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے مصر کے وزیر خارجہ سے ٹیلیفونک گفتگو کی۔ سفارتی ذرائع کے مطابق پاکستان مسلسل علاقائی ممالک کے ساتھ رابطے میں ہے تاکہ ایران اور امریکا کے درمیان نازک جنگ بندی کو برقرار رکھا جا سکے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس سے قبل متعدد بار کہہ چکے ہیں کہ ایران کے ساتھ جنگ بندی پاکستان کی کوششوں سے ممکن ہوئی، جس کے بعد اسلام آباد خطے میں ایک اہم سفارتی ثالث کے طور پر متحرک دکھائی دے رہا ہے۔

دریں اثنا، ایرانی میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکا کی جانب سے ایران کو دی گئی تازہ تجاویز میں کوئی “واضح رعایت” شامل نہیں، جس کے باعث مذاکراتی عمل اب بھی غیر یقینی صورتحال کا شکار ہے۔