

منصور احمد, JULY 11,2026
اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 11 جولائی 2026ء
وزارتِ موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی کے ترجمان اور ماحولیاتی پالیسی کے نامور ماہر محمد سلیم شیخ نے کہا ہے کہ پاکستان میں آبادی میں تیز رفتار اضافہ ماحولیاتی پائیداری اور موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کی قومی صلاحیت کے لیے ایک بڑا تزویراتی چیلنج بن چکا ہے، جس سے نمٹنے کے لیے آبادی کے مؤثر انتظام کو موسمیاتی موافقت (کلائمیٹ ایڈاپٹیشن) اور پائیدار ترقی کی حکمتِ عملی کا لازمی حصہ بنانا ہوگا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے عالمی یومِ آبادی کے موقع پر کیا، جو ہر سال 11 جولائی کو تولیدی صحت، صنفی مساوات، انسانی حقوق اور پائیدار ترقی جیسے اہم موضوعات پر شعور اجاگر کرنے کے لیے منایا جاتا ہے۔
محمد سلیم شیخ نے مقتدر تفصیلات فراہم کرتے ہوئے بتایا کہ اقوامِ متحدہ نے سال 2026ء کے لیے ’’آج اور مستقبل میں نوجوانوں کی امیدوں اور امنگوں کو حقیقت کا روپ دینا‘‘ کو عالمی موضوع قرار دیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کی مجموعی آبادی اب تقریباً 25 کروڑ 90 لاکھ ہو چکی ہے اور سالانہ شرحِ اضافہ 2.55 فیصد ہے، جبکہ یہاں ہر سال تقریباً 67 لاکھ بچے پیدا ہوتے ہیں۔ ترجمان نے خبردار کیا کہ اگر یہ موجودہ رجحان برقرار رہا تو آئندہ پانچ برسوں میں ملکی آبادی 30 کروڑ سے تجاوز کر جائے گی، جس سے پانی، صحت، تعلیم، رہائش، روزگار اور بنیادی شہری ڈھانچے پر غیر معمولی دباؤ بڑھے گا۔ انہوں نے کہا کہ ورلڈ بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک بھی آبادی میں اضافے، شہری توسیع اور موسمیاتی تبدیلی کو پائیدار ترقی کے لیے بڑے چیلنجز قرار دے چکے ہیں۔
ترجمان نے مزید کہا کہ پاکستان میں شرحِ پیدائش 3.6 بچے فی خاتون ہے جو پورے جنوبی ایشیا میں سب سے زیادہ ہے، جبکہ آبادی میں یہ بے ہنگم اضافہ پانی کی قلت، جنگلات کی کٹائی، زمینی انحطاط، حیاتیاتی تنوع میں کمی اور فضائی آلودگی کا باعث بن رہا ہے۔ محمد سلیم شیخ نے اس بات پر خصوصی زور دیا کہ موسمیاتی لچک (کلائمیٹ ریزیلینس) صرف شجرکاری یا سیلاب سے بچاؤ کے منصوبوں سے حاصل نہیں ہو سکتی، بلکہ اس کے لیے تعلیم، خواتین کی بااختیاری، خاندانی منصوبہ بندی، تولیدی صحت اور پائیدار شہری منصوبہ بندی میں تزویراتی سرمایہ کاری ناگزیر ہے۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ موجودہ حکومت تمام متعلقہ اداروں کے مقتدر تعاون سے ایسی مربوط پالیسیاں تشکیل دے رہی ہے جو ماحولیاتی تحفظ اور پائیدار معاشی ترقی کو یقینی بنا سکیں۔