

منصور احمد june 03,2026
اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 3 جون 2026ء: پاکستان کی سب سے بڑی عدالت، عدالتِ عظمیٰ (سپریم کورٹ) نے دو سو (200) کلوگرام چرس برآمدگی کے سنگین مقدمے میں نامزد ملزم رضا خان کی بریت کی باقاعدہ اپیل منظور کرتے ہوئے اسے جیل سے فوری بری کرنے کا تاریخی حکم جاری کر دیا ہے۔
تین رکنی عدالتی پینل کے سامنے اہم سماعت عدالتِ عظمیٰ کے مایہ ناز جج، جناب جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں قائم تین رکنی اعلیٰ عدالتی پینل (بینچ) نے اس اہم مقدمے کی تفصیلی سماعت کی۔ دورانِ سماعت ملزم کے صفائی کے قانون دان (وکیلِ صفائی) نے عدالت کے سامنے مضبوط مؤقف اختیار کیا کہ ان کے بے گناہ مؤکل کو ایک ایسے جھوٹے مقدمے میں سزا سنائی گئی ہے جس کا اصل تعلق مبینہ طور پر کسی دوسرے مفرور ملزم سے تھا۔
شواہد کا سائنسی تجزیہ اور ساڑھے چار ماہ کی تاخیر صفائی کے قانون دان نے عدالت کو اہم قانونی نقطے سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ مبینہ منشیات کی برآمدگی کے پورے چار ماہ اور اٹھارہ (18) دن گزر جانے کے بعد اس کا سائنسی و طبی تجزیہ (فرانزک لیب ٹیسٹ) کروایا گیا، اتنے طویل ترین وقفے سے سرکاری شواہد کی شفافیت اور سچائی انتہائی مشکوک ہو جاتی ہے۔ انہوں نے مزید دلیل دی کہ ملزم پر پولیس نے یہ من گھڑت الزام بھی عائد کیا تھا کہ وہ منشیات سے بھرا ٹرک چلا رہا تھا، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ وہ اپنی شدید جسمانی معذوری کے باعث کوئی بھی بھاری گاڑی یا ٹرک چلانے کے قابل ہی نہیں۔
عدالتِ عظمیٰ کے جج کے اہم ریمارکس اور شواہد پر سوالات سماعت کے دوران معزز جج جناب جسٹس ہاشم کاکڑ نے پولیس کارروائی پر سخت ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ برآمدگی اور سائنسی معائنے کے درمیان اس طویل وقفے پر بہت بڑا سوالیہ نشان اٹھتا ہے۔ اعلیٰ عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ منشیات کے اس نوعیت کے سنگین مقدمات میں شواہد کو سنبھالنے اور ان کی جانچ پڑتال کرنے میں قانون کے مطابق سخت ترین احتیاط برتنا بے حد ضروری ہے۔
ماتحت عدالتوں اور بلوچستان عدالتِ عالیہ کا فیصلہ مسترد صفائی کے قانون دان نے معزز ججوں کو ماضی کے فیصلوں کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ اس سے قبل خضدار کے اضافی ضلعی جج (ایڈیشنل سیشن جج) نے ملزم کو دس (10) سال قیدِ بامشقت کی سزا سنائی تھی، جس کے بعد صوبائی عدالتِ عالیہ (بلوچستان ہائی کورٹ) نے بھی ماتحت عدالت کی اس سزا کو برقرار رکھا تھا۔ تاہم، اب ملک کی سب سے بڑی عدالت نے ان تمام فیصلوں کو کالعدم قرار دے دیا ہے۔
بعد ازاں، عدالتِ عظمیٰ نے دونوں جانب سے دلائل مکمل ہونے کے بعد ملزم رضا خان کی جانب سے دائر اپیل کو باقاعدہ منظور کر لیا اور پولیس و جیل انتظامیہ کو حکم دیا کہ اگر ملزم کسی دوسرے مقدمے میں مطلوب نہیں ہے تو اسے فی الفور رہا کیا جائے۔